وفاقی حکومت نے فارمیسی ایکٹ 1967ء میں مجوزہ ترامیم تیار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وفاقی وزیر صحت کا تعلق کراچی سے ہونے کے باوجود کراچی سے کسی بھی ماہر کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی وزارتِ قومی صحت خدمات کے اسپیشل سیکریٹری کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، صدر پاکستان فارمیسی کونسل ڈاکٹر اختر عباس خان (سیکریٹری، پاکستان فارمیسی کونسل) بطور کنوینئر، پروفیسر ظہیر الدین بابر (قطر یونیورسٹی، دوحہ) بطور بین الاقوامی ماہر، محمد ابراہیم (سیکریٹری، پاکستان فارمیسی کونسل خیبرپختونخوا)، پروفیسر توصیف راجپوت (ڈین، شفا تمرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر توفیق الرحمٰن (چیئرمین، شعبۂ فارمیسی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد)، پروفیسر ڈاکٹر فرقان کے ہاشمی (جنرل سیکریٹری، پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن) اور عامر لطیف (ڈائریکٹر لیگل افیئرز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان) شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین کو ضرورت پڑنے پر کسی بھی ماہر کو بطور شریک رکن شامل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمیٹی کے اغراض و مقاصد میں فارمیسی ایکٹ 1967ء کا جامع جائزہ لے کر اسے موجودہ صحت عامہ کی ضروریات، آئینی تقاضوں اور عالمی بہترین روایات سے ہم آہنگ بنانا شامل ہے تاکہ فارمیسی ریگولیشن، تعلیم اور پیشہ ورانہ عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی فارمیسی کونسل آف پاکستان کے انتظامی و احتسابی نظام، 18ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں وفاق اور صوبوں کے کردار، فارمیسی تعلیم و ایکریڈیٹیشن، رجسٹریشن و لائسنسنگ، بین الصوبائی نقل و حرکت، ڈیجیٹل رجسٹرز، لازمی کنٹینیونگ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (CPD) اور اخلاقی و تادیبی ضوابط کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کے تین ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔