• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ بسنت کا دور ہے۔اور یہ بسنت محض ایک تہوار نہیں، بلکہ ایک کیفیت ہے جو لاہور پر اتر آئی ہے۔ ایک ایسا منظر جسے دیکھ کر بار بار یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ پاکستان کا وہی شہر ہے جسے دنیا برسوں سے قرضوں، مہنگائی، دہشت گردی اور منفی خبروں کے تناظر میں جانتی رہی ہے۔ ان دنوں لاہور کسی تیسری دنیا کے ملک کا شہر نہیں لگتا، بلکہ ایک ایسا ترقی یافتہ، زندہ اور متحرک شہر دکھائی دیتا ہے جہاں رنگ صرف پتنگوں میں نہیں بلکہ چہروں پر بھی اتر آئے ہیں۔نئے کپڑے، موسیقی، ڈھول کی تھاپ، قہقہے، روشنیاں، کھانے اور سوغاتیںیہ سب مل کر ایسا سماں باندھ رہے ہیں کہ تین دن گزر جائیں تو احساس نہیں ہوتا کہ یہ پاکستان کا شہر ہے۔ بسنت نے لاہور کو صرف خوش نہیں کیا، اسے زندہ کر دیا ہے۔ ایک طویل عرصے بعد شہر سانس لیتا محسوس ہو رہا ہے، جیسے زندگی نے خود کو دوبارہ دریافت کر لیا ہو۔چھتیں جو برسوں سے خاموش تھیں، آج بول رہی ہیں۔ ایک ایک رات کے لیے چھتیں لاکھوں، بعض علاقوں میں دس دس لاکھ روپے تک میں بکیں۔ یہ صرف امیروں کی تفریح نہیں، یہ ایک مکمل معاشی سرگرمی ہے۔ پتنگ بنانے والے، ڈور تیار کرنے والے، درزی، باورچی، ویٹر، فوٹوگرافر، ہوٹل، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، رکشہ، ٹیکسی اور سیاحت سے وابستہ ہر فرد اس تہوار کی بدولت حرکت میں آ گیا ہے۔ ہر ہاتھ کو کام ملا ہے اور ہر چہرے پر خوشی کی کوئی نہ کوئی وجہ نظر آتی ہے۔یہ بسنت صرف لاہور تک محدود نہیں رہی۔ پاکستان کے مختلف شہروں سے لوگ جہازوں، گاڑیوں اور ٹرینوں میں سفر کر کے لاہور پہنچے۔ اور یہ دائرہ پاکستان پر بھی ختم نہیں ہوتا۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے لوگ بسنت منانے لاہور آ ئے ہیں۔ وہ لاہور جو کبھی عالمی میڈیا میں خوف اور تشدد کے ساتھ دکھایا جاتا تھا، آج ثقافت، رنگ اور خوشی کے ساتھ دنیا کے سامنے ہے۔ پنجاب نے پاکستان کا ایک نیا رخ پیش کر دیا ہے۔یہ منظر دیکھ کر پاکستان کے دوسرے صوبوں کے لوگ حیرت میں ہیں۔ عوام، سیاست دان، وزرائے اعلیٰ اور بیوروکریسی سب یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ سب اچانک کیسے ہو گیا؟ کیا یہ ممکن تھا کہ ایک تہوار کو محفوظ بنایا جائے؟ کیا یہ ممکن تھا کہ روایت بھی بچے اور جانیں بھی محفوظ رہیں؟ کیا یہ ممکن تھا کہ خوف کو خوشی میں بدلا جائے؟پنجاب نے یہ کر دکھایا۔

بسنت کی بحالی کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایک منظم، کنٹرولڈ اور ریاستی نگرانی میں ہونے والا عمل تھا۔ کیمیکل ڈور پر سخت پابندی، رجسٹرڈ پتنگ فروش، کنٹرولڈ ایریاز اور پولیس، انتظامیہ و بلدیاتی اداروں کی مشترکہ حکمتِ عملی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر نیت ہو تو تہوار جان لیوا نہیں بلکہ زندگی دینے والا بن سکتا ہے۔لاہور کی سڑکیں بھی اس تبدیلی کی گواہ ہیں۔ صاف، روشن اور رواں۔ اسٹریٹ لائٹس کی قطاریں، اندھیروں کا خاتمہ اور ایسا ماحول جہاں رات کے وقت بھی شہر محفوظ محسوس ہوتا ہے۔ پولیس کا رویہ بدلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کیمرے، نگرانی اور فوری رسپانس نے پولیس کو محض خوف کی علامت کے بجائے ایک سروس میں بدلنا شروع کر دیا ہے۔ عوام کی جان، عزت اور تحفظ کو ریاستی ترجیح بنانا اسی تبدیلی کا اصل جوہر ہے۔

ایک واقعہ اس پورے منظر کو مزید واضح کر دیتا ہے۔ ایک بچی اور اس کی ماں نالے میں گر گئیں۔ ماضی میں ایسے واقعات محض خبریں بن کر رہ جاتے تھے، مگر اس بار پورے پنجاب کی انتظامیہ کو ایک طرف کھڑا کر دیا گیا۔ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی ہوئی، کھلے گٹروں کو بند کرنے کے احکامات آئے اور سیوریج نظام کی جانچ شروع ہوئی۔ یہ محض دکھ کا اظہار نہیں تھا بلکہ واضح پیغام تھا کہ ایک جان کی قیمت پورے نظام سے زیادہ ہے۔ریاست نے مذہبی طبقے کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ چالیس ہزار مساجد کے اماموں اور موذنوں کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا۔ یہ خیرات نہیں بلکہ شمولیت ہے۔ یہ اس سوچ کی عکاسی ہے کہ مسجد اور مذہبی رہنما معاشرے کا حصہ ہیں اور انہیں نظام کے اندر رکھنا ہی سماجی استحکام کی ضمانت ہے۔

پھر سڑکیں ہیں۔ نئی بھی، پرانی بھی۔ شہری بھی اور دیہی بھی۔ یہ سڑکیں محض کنکریٹ نہیں بلکہ روزگار، معیشت اور حرکت کا راستہ ہیں۔ جب سڑک بنتی ہے تو مزدور کو کام ملتا ہے، جب شہر روشن ہوتا ہے تو کاروبار چلتا ہے، اور جب تہوار زندہ ہوتا ہے تو معیشت سانس لیتی ہے۔یہ سب کسی جادو سے نہیں ہوا۔ یہ فیصلہ سازی، رفتار اور ترجیحات کا فرق ہے۔ اسی لیے آج پنجاب کا منظر مختلف ہے، لاہور کا رنگ مختلف ہے اور پاکستان کا ایک نیا چہرہ دنیا کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ بسنت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ریاست چاہے تو خوف کے بیانیے کو خوشی میں بدلا جا سکتا ہے، روایت بھی بچ سکتی ہے، جان بھی اور معیشت بھی۔

ان تمام خوشیوں، رنگوں، زندگی اور امید کو پنجاب، لاہور اور پاکستان میں واپس لانے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز مبارکباد کی مستحق ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ حکمرانی اگر عوامی خوشی سے جڑ جائے تو شہر بھی بدلتے ہیں اور قوموں کے مزاج بھی۔

تازہ ترین