لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی حکومت کی طرف سے قومی گیت وندے ماترم کے تمام چھ بندوں کو سرکاری تقریبات، اسکولوں اور دیگر رسمی پروگراموں میں لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس حکم کو غیر آئینی، یکطرفہ اور من مانی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی آئین میں مذہبی آزادی کے آرٹیکل 25 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وندے ماترم گانے پر اعتراض نہیں مگر اس کے آخری بندوں میں ہندو دیویوں درگا، لکشمی، سرسوتی کا ذکر مسلمانوں کیلئے شرک کی صورت میں ہے۔ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اور کسی کو مذہبی عقیدے کے خلاف مجبور نہیں کیا جا سکتا۔