• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت نے کبھی امریکی لڑاکا طیارے کیوں نہیں خریدے؟

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

دنیا بھر میں جہاں امریکی فضائیہ کے جدید لڑاکا طیارے مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں، وہیں ایک اہم سوال بار بار اٹھتا ہے کہ بھارت نے اب تک کوئی امریکی فائٹر جیٹ کیوں نہیں خریدا؟ حالانکہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران امریکا نے اپنے تقریباً تمام بڑے لڑاکا طیارے بھارت کو فروخت کرنے کی پیشکش کی۔

بھارتی میڈیا ’این ڈی ٹی وی‘ پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی گئی ہے جس کے مطابق بھارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ تاریخی عدم اعتماد اور دفاعی خودمختاری ہے۔

بھارتی رپورٹ کے مطابق سرد جنگ کے دوران امریکا نے پاکستان کو جدید فوجی ساز و سامان فراہم کیا تھا جن میں F-86 سیبر، F-104 اسٹار فائٹر اور بعد میں F-16 جیسے لڑاکا طیارے شامل تھے، پاکستان نے ان طیاروں کو بھارت کے خلاف جنگوں میں استعمال کیا۔

اسی وجہ سے بھارت نے اپنی فضائیہ کی تعمیر کے لیے سوویت اور یورپی طیاروں کا انتخاب کیا جن میں MiG-21، MiG-29، سوخوئی-30، جیگوار اور میراج 2000 شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1998ء میں بھارت کے جوہری تجربات کے بعد امریکا نے نئی دہلی پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں اور دفاعی تعاون محدود کر دیا تھا۔ 

اس واقعے نے بھارتی پالیسی سازوں میں یہ تاثر مضبوط کیا تھا کہ امریکی ہتھیاروں پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پھر بھی بھارت نے گزشتہ برسوں میں امریکا سے اربوں ڈالرز کا دیگر دفاعی سامان خریدا ہے جس میں C-17 گلوب ماسٹر ٹرانسپورٹ طیارے، C-130J سپر ہرکولیس، P-8I میری ٹائم نگرانی طیارے، اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر، چنوک ہیوی لفٹ ہیلی کاپٹر، MQ-9B پریڈیٹر ڈرون شامل ہیں تاہم لڑاکا طیاروں کے معاملے میں بھارت ہمیشہ محتاط رہا ہے۔

رپورٹ میں بھارتی تجزیہ نگار اور اینکر پرسن شیو اروڑ نے لکھا ہے کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ امریکی فائٹر خریدنے کی صورت میں اسے پرزہ جات، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور برآمدی اجازت ناموں کے لیے واشنگٹن پر انحصار کرنا پڑے گا۔ 

ماضی میں امریکا بعض اتحادی ممالک کے ساتھ اختلافات کی صورت میں سپلائی روکنے کا دباؤ بھی استعمال کر چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے 2000ء کی دہائی میں بھارت کو F-16 طیارے پیش کیے حتیٰ کہ اس کا نیا ورژن F-21 کے نام سے متعارف کروایا گیا تھا تاہم بھارت نے یہ پیشکش قبول نہیں کی، خاص طور پر اس وجہ سے کہ یہی طیارے پاکستان کی فضائیہ میں بھی موجود ہیں۔

بعد ازاں بھارت نے فرانسیسی رافیل طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا، دفاعی حلقوں کے مطابق فرانس ہتھیار فروخت کرتے وقت سیاسی شرائط کم عائد کرتا ہے جو بھارت کے لیے زیادہ قابلِ قبول ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق بھارت مستقبل میں روسی Su-57 اسٹیلتھ فائٹر خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے F-35 طیارہ پیش کرنے کی بات بھی سامنے آ چکی ہے مگر نئی دہلی نے اس پر سنجیدہ پیش رفت نہیں کی۔

بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی پالیسی واضح ہے کہ امریکی ٹرانسپورٹ طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون خریدے جا سکتے ہیں مگر لڑاکا طیاروں کے معاملے میں نئی دہلی اپنی اسٹریٹجک خود مختاری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اسی لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت نے امریکی فائٹر جیٹس کی ہر پیشکش کو خاموشی سے مسترد کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید