• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان کی پابندیوں کے سائے تلے جینے والی افغان خواتین کی دلدوز داستانیں

کابل (اےایف پی)طالبان حکومت میں افغان خواتین کی زندگی ایک ایسے "محبوس پرندے" جیسی بن چکی ہے جسکےپر نوچ لئےگئے ہیں، تعلیم پر قدغنیں، پارک، جم، بیوٹی سیلونز جانے پر پابندیاں، ادھورے خواب ، محصوراورکرب زدہ زندگی ان خواتین کی دلدوز داستانوں کا حصہ ہے۔رپورٹس کے مطابق افغان خواتین اپنی ذہنی صحت اور امید کو بچانے کیلئےمنفرد اور دلیرانہ طریقے اپنا رہی ہیں۔ایسی ہی ایک خاتون 25سالہ صنم کا ڈاکٹر بننے کاخواب یونیورسٹیوں کی بندش نے چھین لیا، وہ اب ایک گاؤں میں خفیہ طورپرلڑکیوں کو آن لائن پڑھاتی ہے۔ طالبان حکومت میں یہ ایک ایسا جرم ہےجس کی سزا قید ہے، لیکن صنم کاکہناہےیہ عمل اسے اپنے قیمتی ہونے کا احساس دلاتا ہے۔وہ اپنی روزمرہ کی یادیں ایک نیلی نوٹ بک میں لکھتی اوراسے الماری میں کپڑوں کے نیچے چھپا کر رکھتی ہے ۔34سالہ سیاموئے کا شوہر طالبان کے ہاتھوں مارا گیا،وہ گزربسر کیلئے گھروں میں صفائی کا کام کرتی ہے،دکھ حد سے بڑھنےپروہ اپنے شوہر کی قبر پر جاتی ہےاور دل ہلکاکرنے کیلئے وہاں چیختی اورپہاڑوں کی گونج میں درد بانٹ لیتی ہے۔24سالہ حوراسفارت کار بننا چاہتی تھی لیکن اب وہ گھرمیں مقید ہےاوراسکےپاس واحدراستہ شادی ہے،وہ گھر میں ہی روایتی رنگین لباس پہنتی ہے، بنائوسنگھار کرتی ہے اور اپنی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتی ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید