سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ہمارا پریشر اتنا تگڑا نہیں کہ ہم کچھ حاصل کر سکیں، یہ ہماری کمزوری ہے، آج رہائی کی بجائے ملاقات تک کی نوبت آئی ہے یہ ہم سب کی کمزوری ہے۔
اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جس طرح خیبر پختونخوا میں اکثریت کی حکومت ہے، آپ زبردستی بھی بات منوا سکتے ہیں، ہماری اپنی وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو پیسے نہیں دیے تھے، میں نے بطور وزیر اعلیٰ اس حکومت سے وہ پیسے لیے، دنیا کا اصول ہے جو طاقتور ہوتا ہے اس کی بات مانی جاتی ہے، کمزور کو طاقتور کے فیصلوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے میرا کوئی رابطہ نہیں ہے، ان سے رابطے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی ذاتی کام ہے کہ رابطہ کروں، امید ہے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے کوئی رابطہ ہوا ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق منافقت کی گئی پہلے غلط معلومات فراہم کی گئی، سلمان صفدر کی جب ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں، بانی پی ٹی آئی کا ان کی مرضی کے معالجین سے علاج ہونا چاہیے، میری بانی پی ٹی آئی سے کم ملاقاتیں ہوئیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کےلیے باقی جو لوگ جاتے تھے غلط بیانی کرتے تھے۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتیں بند کی گئی تھیں، حکومت نے غلط بیانی کی، بانی پی ٹی آئی ٹیم لیڈر ہیں ان کا ہر فیصلہ ہمیں قبول ہے، ان سے جب سیاسی ملاقاتیں بند ہوئیں تو حالات خراب ہوئے، کئی مرتبہ بانی سے ملاقات کے بعد نام جاری کیے تو میری ٹرولنگ ہوئی، اگر اس پر کنٹرول نہ کیا تو پہلے بھی نقصان ہوا آگے بھی نقصان ہوگا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ میرے 18 ماہ کے دوران صرف چار ڈرون حملے ہوئے اب چند ماہ میں 34 ڈرون حملے ہوگئے ہیں، گزشتہ 4 ماہ میں 38 حملے ہوئے جن میں سویلینز کی شہادتیں بھی ہوئیں، حکومت کی تمام کارکردگی ڈاکیومنٹ کی جاتی ہے، میرے دور میں کوئی آپریشن نہیں ہوا، جب تک وزیر اعلیٰ تھا تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا، اب پتہ نہیں کیوں یہ سب ہو رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے آفیشل پیجز، بانی کے اکاؤنٹ اور چند افراد کے بار بار بیانات سے یہ سب چیزیں پیدا کی گئیں، تمام چیزوں کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے یہ ایجنڈا تھا جس پر تمام افراد کام کر رہے ہیں، میں نے کبھی بھی چھپ کر کوئی ملاقات نہیں کی، تنقید کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ اب بھی تو ملاقاتیں ہو رہی ہیں، پہلے ان افراد کو ملاقاتیں غلط لگ رہی تھیں، اب درست لگ رہی ہیں، کیا ان افراد کے نظریے میں کوئی تبدیلی آگئی ہے وہی افراد جواب دے سکتے ہیں۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میں نے جو بھی کیا خود کیا، کسی بیساکھی کی ضرورت نہیں تھی، صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو کسی سہارے کی کیا ضرورت پڑی ہے، یہ تشویش ناک بات ہے کہ صوبے کا منتخب وزیر اعلیٰ ہو اور ایسا ہو۔