مریم نواز کے انتظامی اور سیاسی ویژن نے ثابت کردیا کہ جسکے اختیار میں خوشی بانٹنا ہو اور وہ اسے واقعی عوام میں بانٹ دے تو وہ عوام کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے اور ووٹ کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نےبسنت کی اجازت کیا دی کہ نہ صرف آسمان رنگ برنگ پتنگوں سے بھر گیا بلکہ جنریشن زی کو بھی نئی نکور حیران کن خوشی دے گیا جو ان کیلئے ایک انوکھا تجربہ تھا۔ایک نہتی لڑکی سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے سربراہ تک کا سفر جس ثابت قدمی اور بہادری سے مریم نواز نے طے کیا ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔
بسنت کوئی عام تہوار نہیں یہ لاہور کی چھتوں پر اگنے والی واحد فصل ہے جس میں بیج حکومت ڈال دے تو خوشی کی فصل عوام ہی کاٹتے ہیں۔مریم نوازنے بہترین حکمت عملی اور سادہ ترین انداز میں بسنت جیسی ثقافتی سرگرمی بحال کردی ہے اور عوام نے اسےسانس لینے کا بہانہ سمجھ کردل و جان سے قبول کر لیا ہے۔ بسنت پر صرف پتنگیں آسمان میں نہیں اُڑیں بلکہ سیاحت، تجارت اور سوشل میڈیا کے ہیش ٹیگز بھی اُڑے اور خوب اڑے، بسنت کے موقع پر اربوں روپے کی معاشی سرگرمی نے لاکھوں لوگوں کو بہترین روزگار بھی دیا جسکے بعد عوام مریم نواز ،مریم نواز کے نعرے لگا رہےہیں، اب ذرا دوسری جانب بھی دیکھیں ، مخالفین کی سیاست جو کبھی تبدیلی کے تڑکے سے مہکتی تھی وہ اس بسنت پر منافقت کی ڈھانگریاں تھامے کھڑے کے کھڑے رہ گئے، بسنت پر اختلافی پوائنٹ اسکور کرنےکے باوجود وہ کٹی پتنگوں سمیت کوئی مال غنیمت لوٹ نہ سکے ۔ ایک طرف پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حسبِ روایت مخالفت کرتے ہوئے بے پر کی اڑائی کہ یہ تہوار نہیں خطرہ ہے دوسری جانب علیمہ خان ، فواد چوہدری و دیگران نے اپنی اولادوں سمیت گڈیاں اڑا کر مریم نواز کی دی ہوئی خوشی کو تسلیم کر لیا۔عوام تو جیسے اسی انتظار میں تھے کہ کب اجازت ملے اور کب وہ اپنی چھتوں کو خوشیوں سے آباد کردیں، مقامی ،غیر مقامی اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سےبسنت پروالہانہ جوش و خروش سے پتہ چلا کہ عوام کے نزدیک سب سے بڑا خطرہ اداسی ہے اور بسنت اس کا قدرتی علاج ہے۔یہاں میاں نواز شریف کی سیاست کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے بسنت کو نہ انقلابی نعرہ بنایا نہ نظریاتی جنگ بس ایک اجازت نامہ دلوا دیا اور باقی کام لاہوریوں نے بقلم خود کر لیا۔ واضح رہے کہ کامیابی صرف بسنت کی اجازت دینے کا نام نہیں تھا،بزداری ذہنیت رکھنے والوں کو کیا پتہ کہ احسن انتظام کیلئے کوشش کرنا وہ جنونی فن ہے جس میں خطرات پر قابو، منظم سیکورٹی، اداروں کو متحرک اور عوام کو مطمئن رکھا جاتا ہے،بسنت جیسی سرگرمی کو بحال کرنا صرف سیاسی جرات نہیں بلکہ انتظامی صلاحیت کا امتحان تھا اور یہ امتحان مریم نواز نے مکمل اعتماد کے ساتھ نہ صرف پاس کیا بلکہ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں کو فخر کا ایک اور موقع فراہم کردیا۔ٹریفک پلان، سیکورٹی انتظامات، ضابطہ اخلاق، میڈیا مینجمنٹ ، سب کچھ اس مکینیکل انداز میں ہوا کہ مخالفین صرف شور مچاتے رہ گئے اور حکومت خاموشی سے عوامی خوشیوں بھرے نتائج سمیٹ گئی۔
یہی فرق ہوتا ہے احتجاجی سیاست اور انتظامی سیاست میں، مخالفین کی سب سے بڑی غلطی یہ رہی کہ انہوں نے بسنت کو مسئلہ سمجھا جبکہ مسلم لیگ ن نے اسے موقع بنا لیا اور سیاست میں جو مسئلے کو موقع بنا لے وہی اصل پتنگ باز ہوتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی گڈی بو کاٹا کر کے "اسمانے"لگ گئی ہے جسکا مخالفین تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مریم نواز کے طرز حکومت نے واضح کردیا ہے کہ حکمتِ عملی اور بروقت فیصلےنعرے بازی پر بہت بھاری پڑتے ہیں۔ کنٹینر کی یادوں میں زندہ رہنے والے جان لیں کہ عوام کنٹینر کی نفرت زدہ سیاست سے نکل کر خوشیوں بھری گڈیاں اڑا چکےہیں۔ بسنت نے ثابت کیا کہ ووٹ وہیں گرتا ہے جہاں مسکراہٹ ہو اور مسکراہٹ وہیں آتی ہے جہاں حکومت صرف تقریر نہیں کامل انتظام بھی کرتی ہو۔آخر میں بس یہی ہے کہ مضبوط ڈور کیساتھ ہوا موافق ہو تو پتنگ یا سیاست کی گڈی دونوں خود بخود بلند ہوتی جاتی ہیں۔ پنجاب میں اس وقت سیاست کی ڈور مضبوط ہاتھوں میں ہے اور سیاسی نالائق چار سال مزید ڈھانگریاں تھامے گڈی لوٹنے کا انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے۔