• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فٹبال ورلڈ کپ: ایران کا امریکا آنے سے انکار، ٹرمپ کا جواب بھی سامنے آگیا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی فٹبال ٹیم کے لیے امریکا میں ہونے والے آئندہ ورلڈ کپ میں شرکت مناسب نہیں ہوگی، تاہم ٹیم کو امریکا آنے کی اجازت ہوگی۔

سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ٹیم کا استقبال کیا جائے گا، لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث ان کی شرکت مناسب نہیں سمجھی جا سکتی۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کی قومی فٹبال ٹیم کا فیفا ورلڈ کپ 2026 میں خیرمقدم ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ان کے لیے وہاں ہونا مناسب ہوگا، خاص طور پر ان کی اپنی جان اور سلامتی کے پیش نظر۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام پہلے ہی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے باعث ٹورنامنٹ میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔

ایران کی ٹیم نے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے ٹرمپ کے بیان پر فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے فیصلہ کوئی ایک ملک نہیں بلکہ عالمی فٹبال ادارہ کرتا ہے۔

پیغام میں لکھا گیا کہ ورلڈ کپ ایک تاریخی اور عالمی ایونٹ ہے اور اس کی نگرانی کا اختیار کسی ملک کے پاس نہیں بلکہ فیفا کے پاس ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر میزبان ملک شریک ٹیموں کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرنے سے قاصر ہو تو اس پر سوال اٹھنا چاہیے۔ یقیناً کوئی بھی ایران کی قومی ٹیم کو ورلڈ کپ سے خارج نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی ملک باہر ہو سکتا ہے تو وہ وہی ہوگا جو صرف میزبان کا لقب رکھتا ہو۔

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے ہوگا جس کی میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر کریں گے۔

ایران کے گروپ مرحلے کے میچ مصر، بیلجیئم اور نیوزی لینڈ کے خلاف امریکا میں ہونے تھے، جن میں سے کچھ مقابلے لاس اینجلس اور سیٹلے میں شیڈول کیے گئے تھے۔

فیفا کے صدر کا مؤقف

فیفا کے صدر انفانتینو نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایرانی ٹیم کا امریکا میں خیرمقدم کیا جائے گا۔ ہمیں پہلے سے زیادہ ایسے ایونٹ کی ضرورت ہے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے۔ میں امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کی حمایت کی، کیونکہ فٹبال دنیا کو متحد کرتا ہے۔

اگر ایران ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرتا تو اس صورت میں فیصلہ فیفا کو کرنا ہوگا کہ اس کی جگہ کسی اور ٹیم کو شامل کیا جائے یا گروپ کو تین ٹیموں تک محدود رکھا جائے۔

ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق اگر کوئی شریک ٹیم دستبردار ہو جائے یا اسے خارج کر دیا جائے تو فیفا کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر متبادل ٹیم منتخب کرے یا مقابلوں کے فارمیٹ میں تبدیلی کرے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ ایران کی ممکنہ غیرحاضری کی صورت میں اس کی جگہ کس ٹیم کو شامل کیا جائے گا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید