لاہور بسنت 2026ءپر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، مگر میںاس کالم میں اس موضوع کو دو زاویوں سے دیکھنا چاہتا ہوں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بسنت ایک مذہبی رسم ہے یا برصغیر کی ایک ثقافتی و موسمی روایت؟ اور دوسرا پہلو اس کے معاشی اور سماجی اثرات کا ہے۔حال ہی میں ایک پرانی ویڈیو دوبارہ منظر عام پر آئی جس میں ایک معروف بیوروکریٹ اور تجزیہ نگار بزدار دور حکومت کے ایک وزیر پر برس رہے تھے جنہوں نے بسنت کی بحالی کی تجویز دی تھی۔ ویڈیو میں بسنت کو خالصتاً ہندو مذہبی تہوار ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور دلیل کے طور پر" حقیقت رائے" کے واقعے کا حوالہ دیا گیا۔ تاریخی طور پر حقیقت رائے کی پھانسی کا واقعہ اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ لاہور کی بسنت ایک مذہبی رسم تھی، درست نہیں۔بسنت دراصل برصغیر کی ایک قدیم موسمی روایت ہے جو بہار کی آمد کی خوشی میں منائی جاتی رہی۔
پنجاب میں مسلمان، ہندو اور سکھ سب اس تہوار میں شریک ہوتے رہے۔ مغل دور کی مصوری، سفرنامے اور درباری روایات اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ لاہور میں بسنت ایک ثقافتی جشن تھا، کسی ایک مذہب سے وابستہ رسم نہیں۔ وقت کے ساتھ لاہور اس جشن کا مرکز بن گیا۔ سکھ دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں اسے سرکاری سرپرستی ملی اور یہ شہر کی شناخت بنتا گیا۔ بسنت کی روح اگرچہ پورے پنجاب سے جڑی رہی، مگر اس کی شہری اور شاندار شکل لاہور کی پہچان بن گئی۔
اب آئیے اس سال کے جشن کی طرف۔ سترہ برس بعد منعقد ہونے والا یہ تین روزہ میلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ 2007ءمیں لاہور کی آبادی تقریباً 75لاکھ تھی جو اب ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ بسنت کے دنوں میں یہ تعداد ایک کروڑ اسی لاکھ تک جا پہنچی۔ ان تین دنوں میں نو لاکھ سے زائد گاڑیاں لاہور میں داخل ہوئیں۔ اسکے باوجود نہ کوئی بڑا لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوا، نہ خوراک یا ٹرانسپورٹ کا بحران سامنے آیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قوانین خلوص نیت سے نافذکیے جائیں تو قوم ان پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مفت پبلک ٹرانسپورٹ اورنجی ٹیکسی سروس جیسی سہولیات نے شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کو محفوظ شرکت کا موقع فراہم کیا۔ اس کامیابی پر وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور انتظامیہ خراج ِتحسین کی مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک متنازع مگر محبوب تہوار کو نظم و ضبط کے ساتھ بحال کیا۔
انہی دنوں اسلام آبادمیں ایک افسوسناک سانحہ بھی پیش آیا جس نے قومی فضا کو سوگوار کیا، لیکن اس کے باوجود لوگوں کا حوصلہ پست نہ ہوا۔ یہ اس قوم کی مزاحمت کی علامت ہے کہ مشکلات کے باوجود زندگی کا پہیہ روکے بغیر آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔بسنت اب صرف لاہور تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی جشن کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ملک کے طول و عرض سے لوگ بلا تفریق لاہور پہنچے۔ سیاسی مخالفین بھی ایک ہی چھت پر پتنگ اڑاتے دکھائی دیے۔ شدید سیاسی تقسیم کے ماحول میں یہ منظر خوش آئند تھا۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں علیمہ خان کے اہل خانہ کو پتنگ بازی کرتے دکھایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ عمران خان جیل میں ہیں اور ان کا خاندان جشن منا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی خاندان کو ذاتی دکھ کے باوجود اجتماعی خوشی میں شریک ہونے کا حق نہیں؟ معاشرے کو عدم برداشت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
محتاط اندازوں کے مطابق بسنت 2026ء کے دوران لاہور میں پانچ سے سات ارب روپے کی اضافی معاشی سرگرمی ہوئی۔ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، پتنگ سازی، ڈور، کھانے پینے، روشنیوں اور سجاوٹ کے کاروبار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کاغذ، رنگ، پیکنگ، ایندھن اور خوراک کے سپلائرز نے اضافی طلب پوری کی۔ مزدوروں اور دکانداروں کو ملنے والی آمدنی بعد ازاں گھریلو اخراجات میں استعمال ہوئی جس سے معیشت کا پہیہ مزید گھوما۔ موٹر ویز اور ہائی ویز پر ٹول ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے وصول ہوئے۔ کراچی سے ڈور اور خیبر پختونخوا سے پتنگوں کی سپلائی نے اسے قومی معاشی سرگرمی میں تبدیل کر دیا۔
ایسے وقت میں جب ملکی معیشت دباؤ کا شکار ہے، چند دنوں کی یہ معاشی تحریک بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر اسے منظم صنعت کا درجہ دے کر ریگولیٹ کیا جائے تو روزگار کے مستقل مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
عالمی خوشی رپورٹ میں پاکستان کا درجہ 109 ہے۔ ایسے معاشروں میں جہاں معاشی اور سیاسی دباؤ زیادہ ہو، ثقافتی سرگرمیاں اجتماعی مسرت کو فروغ دیتی ہیں۔ بسنت نے اس ملک کی اُداس نسلوں کو چند لمحوں کے لیے ہی سہی، مسکراہٹ دی۔ ممکن ہے آئندہ خوشی رپورٹ میں اس کا مثبت اثر دکھائی دے۔
خامیاں اور تجاویز
اگرچہ انتظامات مجموعی طور پر کامیاب رہے، لیکن پتنگوں اور ڈور کی قلت نے مسائل پیدا کیے۔ سترہ سال کے تعطل کے باعث اس صنعت سے وابستہ ہنر مند افراد دیگر شعبوں میں منتقل ہو چکے تھے، اس لیے رسد طلب کے مطابق نہ ہو سکی۔ آئندہ برس کیلئے ضروری ہے کہ بسنت کی تاریخ کم از کم چھ ماہ قبل اعلان کر دی جائے تاکہ کاریگر تیاری مکمل کر سکیں۔ اس صنعت کو رجسٹر کر کے معیاری اور محفوظ ڈور کی تیاری کو یقینی بنایا جائے۔مزید برآں، مرحلہ وار دیگر شہروں تک توسیع پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ حفاظتی اقدامات پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ انتظامی تیاری، طبی سہولیات اور ٹریفک پلاننگ کو پہلے سے مربوط کیا جائے تاکہ حادثات کے امکانات کم ہوں۔اگر دانشمندی سے منصوبہ بندی کی جائے تو بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ قومی یکجہتی، معاشی سرگرمی اور ثقافتی شناخت کا مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔