دورِ جدید کی تقریباََ تمام ایجادات کا پہیہ بجلی کا محتاج ہے رنگ برنگی اور نِت نئی سہولیات اور آسائشوں سے استفادہ کرنے کیلئے بھی بجلی یا توانائی کا ہونا ضروری ہے۔ فیکٹریاں اور کارخانے بھی بجلی کے بغیر کام نہیں کر سکتے۔ یُوں کہہ لیجئے کہ حضرتِ انسان نے بجلی کی شکل میں ایک ایسی شے بنا ڈالی ہے کہ ہر چیز اِسکی محتاج ہے۔ بِلاشُبہ پورا نظامِ زندگی بجلی ہی کے دَم قَدم سے ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے اکثر و بیشتر علاقوں اور بالخصوص دیہات میں بجلی ہوتی ہی نہیں تھی لوگ دِیا جَلا کر گزارہ کرتے تھے پھر لالٹین ایجاد ہوگئی ۔ماڑے موٹے مسکینوں کے گھر میں دِیا جلتا تھا اور نسبتاََ صاحبِ حیثیت لوگ فخریہ انداز میں لالٹین استعمال کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ بجلی آگئی اور لوگوں کا اِس پر انحصار بڑھا تو ساتھ ہی لوڈ شیڈنگ بھی آن ٹپکی۔ کم و بیش تین دہائیوں تک قوم نے لوڈ شیڈنگ کی شکل میں بجلی کی آنکھ مچولی کا خوب مقابلہ کیا۔ اِ س صورتحال نے نہ صرف عام آدمی کو بُری طرح متاثر کیا بلکہ صنعتوں کے پہیے بھی جام ہو کر رہ گئے۔ اِس کے نتیجے میں ملکی معیشت بھی خاصی دبائو میں رہی ۔ ایک لمبے عرصے تک اِس مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا بحران رہا۔ بارہ چودہ گھنٹے روزانہ غائب رہنا بجلی کا عام معمول تھا۔ حکمران طبقے کو بھی اِ س مسئلے کی وجہ سے شدید عوامی دبائو اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا آغاز و اختتام بجلی کے بحران ہی سے ہوتا رہا۔آخر کار اس قوم کو ٹرک کی بَتی کے پیچھے لگانے کا کام شروع ہوا اور انتہائی مناسب اور بڑی حد تک قابلِ قبول شرائط پر سولر انرجی کی جانب منتقل ہو جانے کی ترغیب دی جانے لگی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی ماری قوم نے کلمئہ شکر ادا کیا کہ متبادل اَنرجی کی وجہ سے مسئلہ بخیریت حل ہو جائے گا۔ ہماری تو سولر انرجی سے تازی تازی دوستی اور شناسائی ہوئی مگر دُنیا اِ س سے دہائیوں سے آشنا تھی۔ ہمارے وطن عزیز میں سرکاری آشیر باد اور حوصلہ افزائی کے نتیجے میں سولر پینل ہر دوسرے تیسرے گھر کی چھت کی زینت بن چُکے ہیں۔ کم و بیش نوے فیصد صنعتیں ،انڈسٹریل یونٹس اور کاروباری مراکز گرین انرجی سے استفادہ کر رہے ہیں۔ بجلی کی کمی ایک قصئہ پارینہ ہو چکی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کا لفظ تقریباََ معدوم ہو چکا ہے۔ بجلی کیلئے مہنگے مہنگے جنریٹرز لوگوں نے اپنے کباڑخانوں میں سجا دئیے ہیں ۔ ہر طرف بجلی سے چلنے والی اشیاء پوری آب و تاب سے محوِ حرکت ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق ہمارا ملک اِسوقت سولر انرجی کے ذریعے بجلی کی پچیس فیصد ضروریات پوری کر رہاہے۔ پاکستان نے پچھلے سالوں میں 50 gigawatt کے سولر پینل امپورٹ کئے اور سولر انرجی پر انحصار کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ تقریباََ چودہ ہزار میگاواٹ بجلی سولر کے ذریعے بنائی جا رہی ہے۔ گھریلوصارفین نے اوسطاََ پندرہ لاکھ روپے خرچ کر کے سولر سسٹم لگائے ہیں جبکہ بڑے کارخانے اور فیکٹریوں کے مالکان نے پچاس لاکھ سے دو کروڑ روپے تک کی انویسٹمینٹ کر رکھی ہے۔ ابھی لوگ سُکھ کا سانس لے ہی رہے تھے اور سجدئہ شکر ادا کر ہی رہے تھے کہ NEPRA نے نیٹ میٹرنگ پالیسی کو سرے سے ختم ہی کر دیا ہے اور بِلنگ کا ایک نیا فارمولہ متعارف کر وادیا ہے جسکی وجہ سے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑنا شروع ہو گئی۔ نئی جمع تفریق کا نچوڑ یہ ہے کہ لاکھوں روپے انویسٹ کرنے والوں کی بچت کو تقریباََ ختم کر دیا گیا ہے۔ حضور! فیکٹری کارخانہ چلے گا تو لوگوں کو روزگار ملے گا۔ خریدوفروخت ہو گی ، پروڈکشن ہو گی تو حکومت کو ٹیکس ملے گا۔ لوگ خوشحال ہوں گے تو مُلک خوشحال ہو گا۔ سولر صارفین کیلئےنیا شکنجہ شاید کسی حد تک حکومت یا ریگولیٹر کیلئے تو مالی طور پر فائدہ مند ہو مگر یہ عام آدمی اور تاجر برادری کیلئے انتہائی غیر موزوں اور نا قابلِ قبول ہے اس مُلک کو دوبارہ اندھیروں میں مت دھکیلئے، خُدارا صنعت کو چلنے دیجئے، لوگوں کو اُنکی اپنی خرید کردہ سہولت اور آسائش سے محروم نہ کیجئے۔سولر صارفین کی فریاد سُنیے۔ حکمران قوم اور مُلک کے مائی باپ ہوتے ہیں۔ اگر بچوں نے اپنی پاکٹ منی جوڑ جوڑ کر اپنے لئے کچھ خرید لیا ہے تو اُن کو اِس سے محروم نہ کیجئے ۔ ماں باپ اپنے بچوں کی جیب خالی نہیں کراتے۔ پلیز اِن کی فریاد سُنیے۔