• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم کیو ایم انتشار سر چڑھ کر بولنے لگا، واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم

کراچی( اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم پاکستان میں انتشار سر چڑھ کر بولنے لگا، ہفتے کی شب لیاقت آباد کے عوامی اجتماع نے ایم کیو ایم کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کردیا، لیاقت آباد کے اجتماع میں صرف پی ایس پی سے ایم کیو ایم میں ضم ہونے والے رہنما ئوں نے خطاب کیا،جبکہ چیئر مین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے کوئی رہنما اس میں شریک نہیں ہوا،اہم حلقوں کی جانب سے دونوں گروپ کو سخت پیغام دیا جاچکا ہے کہ اختلافات صرف زبان کی حد تک ہونے چاہئے، سوشل میڈیا پر بھی کار کنان دو حصوں میں دکھائی دے رہے ہیں، سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم میں ایک جانب کہا جارہا ہے کہ پارٹی کو بچانا ہے، مخبروں کو بھگانا ہے، چیئر مین صرف خالد مقبول تو دوسری جانب یہ مہم چل رہی ہے کہ ون مین شو نہیں چلے گا، انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جائیں،اسی گروپ کے کار کنان اور رہنما مخالفینپر پیپلز پارٹی کی بی ٹیم ہونے کے الزامات لگا رہے، سنیئر رہنما انیس قائم خانی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایم کیو ایم ایک ہے،کارکنوں کو پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے نام پر لڑانے کی اجازت نہیں دی جائے، بعض لوگ اپنی کرپشن اور فائدے کے لئے اس قسم کا پرو پیگنڈہ کررہے ہیں، ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی جمال احمد نے ایک وڈیو انٹرویو میں کہا ہے ان لوگوں کو اپنے علاوہ کوئی پسند نہیں، نہ خالد مقبول، فاروق ستار اور نہ ہی امین الحق، اسی صورت حال کے تناظر میں ایم کیو ایم کے بہادر آباد رہنمائوں کا دعوی ہے کہ سینیٹ میں مکمل جبکہ قومی ، اور صوبائی اسمبلی میں منتخب نمائندوں کی بڑی اکثریت ہمارے ساتھ کھڑی ہے، یونٹ کی سطح پر 90فیصد کار کنان ہمارےساتھ ہیں، ایم کیو ایم کی تقسیم اب زبان زد عام ہوچکی ہے، تاہم اہم حلقوں کی جانب سے دونوں گروپ کو سخت پیغام دیا جاچکا ہے کہ اختلافات صرف زبان کی حد تک ہونے چاہئے،امن کی صورت میں قانون حرکت میں آئے گا،موجودہ سورت حال میں کار کنوں میں بد دلی نمایاں دکھائی دے رہی ہے،جبکہ کراچی کے سیاسی حلقوں میں بھی دس سال کی طویل جدوجہد کے باوجود ماضی جیسی عوامی پذیرائی حاصل نہ کرنے ایم کیو ایم کا انتشار اور اختلاف موضوع بحث ہے۔

اہم خبریں سے مزید