ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شرمناک شکست پر امریکی پاکستانیوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہروں ڈیلس اور ہیوسٹن میں پاک بھارت ہائی وولٹیج مقابلے سے قبل پاکستانی شائقینِ کرکٹ میں غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا تھا، کمیونٹی سینٹرز، ریسٹورنٹس اور کیفے ہاؤسز میں بڑی اسکرینیں سجائی گئیں، سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے اور نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک سب کی نظریں میچ پر مرکوز رہیں۔
میچ کے دوران قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی نے اس جوش کو مایوسی میں بدل دیا، ڈیلس میں بھارتی اور پاکستانی شائقین کرکٹ بڑی تعداد میں موجود تھے، تاہم نتیجہ واضح ہوتے ہی پاکستانی خاموشی سے واچ پارٹیز سے رخصت ہو گئے، بعض افراد نے اعتراف کیا کہ وہ شرمندگی سے بچنے کیلئے میچ ختم ہونے سے قبل ہی گھروں کو واپس چلے گئے۔
دوسری جانب ہیوسٹن میں صورتحال کچھ مختلف مگر جذبات اتنے ہی شدید تھے، وہاں موجود پاکستانی شائقین نے میچ کے بعد ٹیم سلیکشن پر کھل کر سوالات اٹھائے، متعدد افراد نے کپتان اور بابر اعظم سمیت دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا، بعض شائقین نے یہاں تک کہا کہ ’’دونوں دامادوں‘‘ کو بھی ٹیم سے فارغ کیا جائے اور کارکردگی کی بنیاد پر نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔
شائقین کا کہنا تھا کہ انہوں نے چھٹی کے دن اپنی نیندیں قربان کیں، صبح سات بجے دور دراز علاقوں سے سفر کر کے میچ دیکھنے پہنچے، لیکن ایک بار پھر ٹیم نے انہیں مایوس کیا، ان کے مطابق خواجہ نافع اور سلمان مرزا جیسے کھلاڑیوں کو پلیئنگ الیون میں شامل نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ میرٹ کے بجائے سفارشی کلچر کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔
کمیونٹی کے کئی افراد کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم انتظامیہ کارکردگی اور میرٹ کو ترجیح نہیں دے گی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد مزید مجروح ہوگا۔
شائقین نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹیم سلیکشن کے عمل کو شفاف بنائے اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے، تاکہ عالمی مقابلوں میں قومی ٹیم نہ صرف بہتر کارکردگی دکھا سکے بلکہ دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کا سر بھی فخر سے بلند ہوسکے۔