پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ کسی سیاست دان کی صحت زیرِ بحث آئی ہو۔ جیلیں، مقدمات، قید و بند کی صعوبتیں اور سیاسی انتقام کے الزامات ہماری سیاست کا مستقل حصہ رہے ہیں۔ آج کل سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت، خصوصاً اُن کی بینائی سے متعلق خبریں گردش میں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اُن کی ایک آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد تک متاثر ہوئی ہے۔ یقیناً کسی بھی انسان کی صحت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ماضی میں بھی یہی اصول اپنایا گیا تھا؟ کیا پاکستان تحریک انصاف اور خود عمران خان نے اپنے مخالفین کی بیماریوں پر اسی سنجیدگی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا تھا جس کی آج توقع کی جا رہی ہے؟یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری مختلف ادوار میں جیل میں رہے تو ان کی صحت کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آتے رہے۔ طویل اسیری، جسمانی اور ذہنی دباؤ اور مسلسل مقدمات نے اُنکی صحت پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب اُن کی زبان تک متاثر ہوئی، مگر اُس وقت پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا حلقوں اور عمران خان کے حامیوں نے ہمدردی کے بجائے تمسخر کا راستہ اختیار کیا۔ بیماری کو ڈرامہ کہا گیا، علاج کو این آر او کی تیاری قرار دیا گیا، اور ہر طبی رپورٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔اسی طرح سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جیل کے دوران خراب ہوتی صحت پر بھی سیاسی مخالفین نے شدید تنقید اور طنز کا سلسلہ جاری رکھا۔ پلیٹ لیٹس کی کمی کا معاملہ ہو یا دل کی بیماری، تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان نے اسے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ عمران خان خود جلسوں میں نام لے کر مخالفین کی بیماریوں کا مذاق اڑاتے رہے۔ کیا اُس وقت انسانی ہمدردی، آئینی حقوق اور طبی سہولیات کی فراہمی کے اصول یاد نہیں آئے تھے؟پیپلز پارٹی کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی کی بیماری یا جسمانی کمزوری کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جلاوطنی اور قید کے ادوار میں بھی یہی سکھایا کہ سیاسی جدوجہد اصولوں پر ہونی چاہیے، شخصیات کی تضحیک پر نہیں۔ آصف علی زرداری نے گیارہ سال جیل کاٹی، مگر کبھی اپنے مخالفین کی بیماریوں پر جشن نہیں منایا۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا کہ قیدی خواہ سیاسی ہو یا عام شہری، اسے آئین اور قانون کے مطابق طبی سہولیات دی جائیں۔آج اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے تو اس کا حل بھی آئینی اور قانونی طریقہ کار میں موجود ہے۔ عدالتیں موجود ہیں، طبی بورڈ موجود ہیں، اور ریاستی ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں۔ لیکن جس سیاسی جماعت نے برسوں تک دوسروں کی بیماری کو مذاق بنایا، سوشل میڈیا پر تمسخر اڑایا، اور ہمدردی کو ڈرامہ کہا، آج وہی جماعت اگر ہمدردی اور اخلاقیات کا درس دے تو سوال تو اٹھے گا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عمران خان کی حکومت کے دور میں سیاسی مخالفین کو کس طرح گرفتار کیا گیا، احتسابی اداروں کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا، اور بیماری کی حالت میں بھی ریلیف دینے میں تاخیر کی گئی۔ نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے میں تاخیر، طبی رپورٹس پر اعتراضات اور ہر قانونی حق کو متنازع بنانے کی کوششیں سب کے سامنے ہیں۔ اس وقت تحریک انصاف کے ترجمانوں کا لب و لہجہ کیا تھا؟ کیا اُس وقت یہ احساس تھا کہ سیاست میں آج جو کرو گے، کل وہی تمہارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے؟پیپلز پارٹی کی سیاست انتقام نہیں بلکہ مفاہمت کی سیاست رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی سیاسی رہنما کی صحت کا معاملہ سامنے آیا، پارٹی نے انسانی بنیادوں پر بات کی۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخ کو بھلا دیا جائے۔ اگر آج تحریک انصاف یہ چاہتی ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے، تو اُسے بھی ماضی میں کیے گئے اپنے رویوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ سیاسی کلچر یکطرفہ نہیں بدلتا، اسے اجتماعی طور پر بدلنا پڑتا ہے۔پاکستان کو اس وقت درپیش چیلنجز،معاشی دباؤ، سکیورٹی مسائل، اور سیاسی عدم استحکام ،اس بات کے متقاضی ہیں کہ سیاست کو ذاتی دشمنی اور تمسخر سے نکالا جائے۔ اگر عمران خان واقعی صحت کے مسائل کا شکار ہیں تو اُنہیں قانون کے مطابق بہترین طبی سہولت ملنی چاہیے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بیماری کو سیاسی بیانیے کا ہتھیار بنانے کی روایت تحریک انصاف نے خود ڈالی تھی۔ آج وقت ہے کہ وہ اس روایت پر نظرثانی کرے۔
آصف علی زرداری نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے یہ ثابت کیا کہ سیاست صبر اور برداشت کا نام ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہر مشکل وقت میں جمہوریت کا ساتھ دیا، چاہے اُس کے قائدین کو جیل جانا پڑا یا بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی پارٹی کا مؤقف اصولی ہے’’صحت پر سیاست نہ ہو، مگر سیاست میں دوغلا پن بھی نہ ہو‘‘۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب سیاسی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ماضی کے تلخ تجربات سے سیکھنا ہوگا، نہ کہ اُنہیں بھلا کر وقتی ہمدردی کی سیاست کرنی ہوگی۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ سیاسی رویوں کے احتساب کا ہے۔ عمران خان کی صحت پر تشویش اپنی جگہ، مگر قوم یہ بھی یاد رکھتی ہے کہ کل تک دوسروں کی بیماری پر کیا زبان استعمال کی جاتی تھی۔ اگر ہم نے اس سیاسی کلچر کو نہ بدلا تو کل پھر کوئی اور اسی دائرے میں کھڑا ہوگا۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اصول سب کے لیے یکساں ہوں چاہے وہ آصف علی زرداری ہوں، نواز شریف ہوں یا عمران خان۔