• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری، جسٹس ہاشم کاکڑ کے جملے سے عدالت میں دلچسپ صورتِحال

فائل فوٹو
فائل فوٹو

 سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔

 دورانِ سماعت کمرۂ عدالت میں دلچسپ صورتِ حال اس وقت پیدا ہو گئی، جب جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ذہن میں رکھیں کل پہلا روزہ ہے اور بینچ میں 2 پٹھان ججز موجود ہیں۔

 لطیف کھوسہ نے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں بانئ پی ٹی آئی کی 3 سال سزا معطل ہوئی، لیکن فیصلہ معطل نہیں ہوا ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ یہ بات سمجھ نہیں آ رہی، سزا معطل ہونے کے بعد تو فیصلہ بھی معطل ہوتا ہے، آپ ذرا ہائی کورٹ کا متعلقہ حکم نامہ تو پڑھیں۔

بانئ پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کا متعلقہ پیراگراف پڑھا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ لطیف کھوسہ صاحب آپ نے تو ہائی کورٹ سے صرف سزا معطلی کی استدعا کی تھی، آپ نے جو ریلیف مانگا عدالت نے دے دیا۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کے 2019ء کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں اس کا پیرا گراف نمبر 13 پڑھیں، اس فیصلے میں تو سزا اور فیصلہ دونوں معطل ہوئے تھے، لطیف کھوسہ صاحب آپ اپنے ہی خلاف عدالتی فیصلہ لے کر آ گئے ہیں، لگتا ہے آپ کی عینک کمزور ہو چکی ہے، آپ کو راستہ دے رہے تھے کہ الیکشن کمیشن کو سن لیتے ہیں، آپ نے اپنے خلاف جو عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا ہے اسے ہم پی جاتے ہیں، چلیں خیر ہے کوئی بات نہیں، ہم یوں سمجھ لیتے ہیں جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا وہ ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، ویسے بھی ایک دو ماہ میں کون سے الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ تو ہے، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے ایک جیتا جاگتا بڑا سا چیئرمین پی ٹی آئی بیٹھا ہوا ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

قومی خبریں سے مزید