• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لائٹ بند نہ ہوتی یا ایمرجنسی لائٹس ہوتیں تو سانحۂ گل پلازا میں اتنا نقصان نہ ہوتا: چیف فائر آفیسر

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

کراچی میں سانحۂ گل پلازا پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا۔

 ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللّٰہ نے بتایا کہ رات 10بج کر 35 منٹ پر گل پلازا میں آگ کی اطلاع ملی، 10 بج کر 52 منٹ پر فائر بریگیڈ پہنچ گئی تھی۔

کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شریک تھے؟

 ڈی جی ریسکیو نے کہا کہ بجلی منقطع کرنے کے فیصلے میں شامل نہیں تھا، جس وقت پہنچے گراؤنڈ پر آگ لگی ہوئی تھی، گراؤنڈ سے اندر جانے کا راستہ نہیں تھا۔

کمیشن کے سربراہ نے سوال کیا کہ متاثرین نے بتایا ہے کہ آگ نیچے تھی ونڈو گرل توڑی جاتی تو لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا؟ 

ڈی جی ریسکیو نے کہا کہ گراؤنڈ فلور سے میزنائن اور فرسٹ فلور والے سمجھ رہے تھے آگ بجھ جائے گی تو نکل جائیں گے، دکان دار سامان نکال رہے تھے، گل پلازا کے اندر قدرتی روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا، دھواں اتنا تھا کہ موبائل فون کی ٹارچ سے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا، تنگ راستے کی وجہ سے لوگ پھنس گئے تھے۔

 سانحۂ گل پلازا پر سندھ ہائی کورٹ میں عدالتی کمیشن کی کارروائی میں چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گل پلازا کی لائٹ بند نہ ہوتی یا پلازا میں ایمرجنسی لائٹس ہوتیں تو اتنا نقصان نہ ہوتا، اگر اعلان ہوتا چوکیدار دروازے کھول دیتے، تو بہت سے لوگ بچ سکتے تھے، پہلی اور دوسری منزل کی سیڑھیاں بند تھیں، ساڑھے 11 بجے پراپر آگ بجھانے کا کام شروع ہوا، ساڑھے 12 بجے واٹر کارپوریشن کا ٹینکر پہنچا، ٹریفک جام کی وجہ سے گاڑیوں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں؟ چیف فائر افسر نے بتایا کہ ہمیں علم نہیں۔

قومی خبریں سے مزید