بعض قوموں کی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب منزل کا تعین نہیں ہوپارہا ہوتا،آج وطن عزیز بھی ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شور بہت ہے، بیانئے بہت ہیں، دعوے بہت ہیں، مگر راستہ دھندلا ہے۔ سیاست دان ایک دوسرے کو چور اور غدار کہنے میں مصروف ہیں، معیشت سانس لینے کو ترس رہی ہے اور عوام امید اور مایوسی کے بیچ جھول رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کسی نازک موڑ پر کھڑا ہو۔ 1971ءکا سانحہ ہو، 1999ءکا مارشل لاہو یا 2007ءکی عدالتی تحریک، اس ملک نے کئی سیاسی زلزلے دیکھے ہیں۔ مگر موجودہ بحران کی نوعیت مختلف ہے۔آج کی سیاست میں سب سے بڑا مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو سیاسی مخالف نہیں بلکہ ذاتی دشمن سمجھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی تینوں اپنے اپنے بیانئے میں خود کو نجات دہندہ اور دوسرے کو تباہی کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔
اس سیاسی تقسیم نے پارلیمنٹ کو مباحثے کا فورم بنانے کے بجائے نعروں کا میدان بنا دیا ہے۔ قانون سازی اتفاقِ رائے سے نہیں بلکہ عددی برتری سے ہو رہی ہے اور عددی برتری بھی اکثر عارضی ثابت ہوتی ہے۔معاشی صورت حال اس سیاسی ہنگامے سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز، پٹرول کی قیمتوں میں اتار چڑھائو، اشیائے خور و نوش کی بڑھتی قیمتیں،یہ سب عام آدمی کیلئے روزمرہ کا عذاب بن چکا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے مگر مستقل استحکام نہیں۔ معیشت کا پہیہ اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک سیاسی استحکام اور پالیسی کا تسلسل نہ ہو۔ سرمایہ کار غیر یقینی ماحول میں سرمایہ نہیں لگاتے، اور غیر یقینی کی فضا آج پاکستان کا سب سےبڑا مسئلہ ہے۔اس موڑ کی ایک اور خطرناک علامت اداروں کے درمیان تنائو ہے۔ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی کشمکش نئی نہیں، سیاسی محاذآرائی نے اداروں کے درمیان محاذ آرائی کو بڑھایا ہے۔ عدلیہ اور مقننہ کے اختیارات کی بحث ہو یا آئینی ترامیم کا معاملہ ، ہر موضوع سیاسی مفادات کی عینک سے دیکھا جارہا ہے۔
دوسری طرف داخلی سلامتی کا سوال بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر تلخ یادیں تازہ کر دی ہیں۔ ریاست کو اب یہ طے کرنا ہوگا مذاکرات یا فیصلہ کن کارروائی۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑنے کے بعد بھی مکمل امن قائم نہیں کر سکے۔ ہم کب تک وقتی فیصلوں سے کام چلاتے رہیں گے۔ دہشت گردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ، خارجہ حکمت عملی اور داخلی ہم آہنگی کا بھی امتحان ہے۔ مذاکرات اور آپریشن کی بحث اپنی جگہ، اصل سوال پالیسی کے تسلسل کا ہے۔ اگر وفاقی وصوبائی حکومتیںاپنی الگ الگ حکمت عملی اختیار کریں گی تو نتائج بھی عارضی رہیں گے۔ ایک اور پہلو نوجوان نسل کی بڑھتی مایوسی ہے۔
سوشل میڈیا نے سیاسی شعور میں اضافہ تو کیا ہے ساتھ ہی پولرائزیشن کو بھی خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ آج ہر شخص اپنے بیانئے کا سپاہی بن چکا ہے۔ مکالمہ ختم ہو رہا ہے، مخالف کو غدار قرار دینا معمول بنتا جارہا ہے۔ یہ رویہ کسی بھی جمہوریت کیلئےزہر قاتل ہے۔ موجودہ سیاسی کشمکش میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان ہورہے ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا کا شور ہے، دوسری طرف روزگار کے محدود مواقع۔ نوجوان سیاست میں دلچسپی تو رکھتے ہیں لیکن سیاست دانوں پر اعتماد نہیں کرتے۔ وہ تبدیلی تو چاہتے ہیں مگر راستہ واضح نہیں دیکھ پاتے۔ یہی نوجوان اگر مثبت سمت میں متحرک ہوں تو ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں، مایوسی کا شکار ہو جائیں تو یہی مایوسی سماجی انتشار میں بدل سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت معاشی، سیاسی اور سماجی تینوں محاذوں پر ایک پیچیدہ صورت حال سے دوچارہے۔ یہ خطرناک ترین موڑ صرف بحران نہیں ایک موقع بھی بن سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں مشکل وقت میں ہی اپنی سمت درست کرتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ قیادت ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دے۔ کیا ہماری سیاسی قیادت اس قربانی کیلئے تیار ہے؟اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ جب تک سیاسی جماعتیں مکالمے کی میز پر نہیں آئیں گی، معیشت کو سیاست سے الگ کر کے قومی ایجنڈا نہیں بنایا جائے گا،اس وقت تک صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔پاکستان ایک نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔ اس نظریئے کا تقاضا انصاف، مساوات اور جمہوری اصولوں کی پاسداری تھا۔ آج ہمیں پھر انہی بنیادی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔یہ وقت جذباتی نعروں،الزام تراشی،سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں سنجیدہ فیصلوں، قومی سمت کے تعین کا ہے۔ پاکستان واقعی ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں، صرف آگے بڑھنا ہے یا تو استحکام کی طرف یا مزید انتشار کی طرف۔ فیصلہ ہمارے اور سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے، سب سے بڑھ کر عوام کے شعور میں ہے۔ اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہم نے اس نازک موڑ کو موقع میں بدل دیا تو یہی لمحہ ہماری نئی تاریخ کی بنیاد بن سکتا ہے۔