• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایپسٹین نے مجھے اپنے سیاہ راز بتائے: زندہ بچ جانے والی متاثرہ خاتون کی میڈیا سے گفتگو

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

بدنامِ زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین  کے جنسی استحصال کی شکار رہنے والی خاتون رینا اوہ نے برسوں تک جاری رہنے والے نفسیاتی اور جسمانی استحصال کی دل دہلا دینے والی تفصیلات بیان کی ہیں۔

رینا اوہ نے بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا ہے کہ جب وہ 21 برس کی تھیں تو ایپسٹین نے اِنہیں ذہنی طور پر شدید نقصان پہنچایا، ان کی جسمانی ساخت پر تنقید کی، ان کی تذلیل کی اور انہیں ’زیادہ عمر‘ کا طعنہ دیا، حالانکہ اس وقت اِن کی عمر صرف 21 سال جبکہ ایپسٹین کی عمر 47 سال تھی۔

رینا اوہ کے مطابق یہ مسلسل بدسلوکی ان کے لیے دیرپا ذہنی نقصان کا سبب بنی۔

رینا اوہ نے کہا کہ ایپسٹین سے ملنے سے قبل بھی اِن کا جنسی استحصال ہو چکا تھا اس لیے وہ بچپن سے ہی خاموش طبع تھیں اور یہی کمزوری ایپسٹین نے پہچان کر ان کا فائدہ اٹھایا۔ 

اُنہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایک سفر کے دوران ایپسٹین نے اِنہیں اپنے ’انتہائی تاریک راز‘ بتائے اور جب اُنہوں نے یہ بات ایک اور لڑکی سے شیئر کی تو ایپسٹین نے انہیں دھمکیاں دیں، جس کے بعد وہ خوف کے باعث وہاں سے نکل نہ سکیں۔

متاثرہ خاتون کے مطابق ایپسٹین انہیں یہ باور کرواتا رہا کہ وہ واشنگٹن میں بااثر لوگوں کو جانتا ہے اور ان کی امیگریشن حیثیت سمیت ذاتی معلومات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممکنہ طور پر ان کی نگرانی بھی کی گئی۔

رینا اوہ نے بھارتی میڈیا کو بتایا ہے کہ آخری ملاقات میں ایپسٹین انتہائی پرتشدد تھا جس کے بعد اُنہوں نے مکمل طور پر رابطہ ختم کر دیا مگر طویل عرصے تک خاموش رہیں۔

انہوں نے برطانیہ کے سابق شہزادے پرنس اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر کی گرفتاری کو ایک ’اہم پیش رفت‘ قرار دیا تاہم کہا کہ امریکا میں حکام اس کیس میں ابھی بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے۔ 

اِن کے مطابق بااثر شخصیات کا احتساب دیگر نامزد افراد کے لیے مثال بنے گا۔

بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کے آخر میں رینا اوہ نے دیگر متاثرہ افراد کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں، دنیا ان کی پرواہ کرتی ہے اور سچائی کے لیے ثابت قدم رہنا ہوگا۔ 

رینا اوہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس منظم مجرمانہ نیٹ ورک میں شامل تمام افراد کو بالآخر جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید