• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیفری ایپسٹین کے جنسی جرائم ’انسانیت کیخلاف خطرناک جرائم‘ قرار دیے جا سکتے ہیں: اقوام متحدہ کا ردعمل

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

اقوامِ متحدہ کے پینل کے ممبران نے کہا ہے کہ بدنامِ زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے جنسی جرائم بعض صورتوں میں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، یہ بات امریکی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی لاکھوں فائلوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تحت کام کرنے والے آزاد ماہرین نے کہا ہے کہ ایپسٹین دستاویزات میں خواتین اور بچیوں کے خلاف منظم، وسیع اور بین الاقوامی نوعیت کے مظالم کا انکشاف ہوا ہے جو ایک عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین نے ایپسٹین اور اس کے بااثر ساتھیوں کے خلاف آزاد، غیر جانبدار اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یو این کے ماہرین کے مطابق ایپسٹین فائلز میں طاقت ور شخصیات کی شناخت چھپانے کے لیے غیر ضروری سینسر شپ کی گئی ہے جس سے متاثرین کو مزید ذہنی اذیت پہنچی ہے۔

یو این کے ممبران کا یہ بیان 30 جنوری کو امریکی حکومت کی جانب سے 35 لاکھ صفحات پر مشتمل جاری کی گئی فائلز  کے بعد آیا ہے۔

یہ فائلز ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت جاری کی گئی ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اب بھی لاکھوں دستاویزات منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔

یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین نے 2008ء میں کم عمر لڑکیوں سے متعلق جرائم کا اعتراف کیا تھا مگر اسے صرف 13 ماہ قید کی سزا ملی تھی، جیفری نے 2019ء میں وفاقی مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں خودکشی کر لی تھی۔

ایپسٹین کی سابقہ ساتھی گزلین میکسویل کو جنسی اسمگلنگ میں کردار ادا کرنے پر 20 سال سے زائد قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے ایپسٹین فائلز پر جاری کیے گئے اپنے ردِ عمل میں واضح کیا ہے کہ ایپسٹین کیس کو نظر انداز کرنا متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہو گی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مکمل شفافیت اور جوابدہی ناگزیر ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید