السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
امریکا کے موسم اور تہوار
’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا موجود تھے، ہمیشہ کی طرح تجزیہ پڑھ کے بہت اچھا لگا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں عرفان جاوید ’’دھول بن‘‘ کی پہلی قسط کے ساتھ آئے، پڑھ بھی لی، اچھی قسط تھی۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں امریکا سے قرات نقوی موجود تھیں، ساتھ ہی اُن کی خُوب صُورت تصویر بھی ۔ واہ، واہ امریکا کے موسم اور تہوار، جنوری سے دسمبر تک۔
پڑھ کر معلومات میں بےپناہ اضافہ ہوا، متعلقہ تصاویر دیکھ کربھی طبیعت شاد ہوگئی اور پھر ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں ڈبل کالم ای میل بھی پڑھ لی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کا صفحہ آپ نے کافی اچھا بنادیاہے،اب پڑھنے کو دل کرنے لگا ہے۔ اگلے جریدے میں منور مرزا ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کے ساتھ موجود تھے، بے لگام سوشل میڈیا پر شاہ کار مضمون تحریر کیا۔
’’ہمارا وَرثہ‘‘ میں ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری نے لاہور کے تعلیمی اداروں پرایک خُوب صُورت مضمون لکھا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی دوسری قسط بھی خاصی دل چسپ تھی اور اختر سعیدی ’’نئی کتابیں‘‘ میں ایک ڈھیر اکٹھا کر لائے، بہت ہی اچھے۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج: بلاشبہ، قرات نقوی نے ہلکے پُھلکے انداز میں امریکا کے موسموں، تہواروں سے خُوب ہی متعارف کروایا، ہمیں خُودبھی تحریر کی ایڈیٹنگ اور صفحے کی تیاری کے دوران خاصا لُطف آیا۔
موبائل نیٹ ورکس کی گھٹیا سروس
شمارہ مِلا۔ ’’اُجلی چاندنی رات سی آنکھیں، اُجلا دھوپ سا مُکھ…‘‘ عبارت کے ساتھ ماڈل اقراء ٹائٹل سے سینٹر اسپریڈ تک سمائی بلکہ چھائی ہوئی تھی۔ اُس کے حسین سراپے، دل کش ہیئر اسٹائل اور شان دار پہناووں کے سبب میگزین خُوب جگ مگ،جگ مگ کررہا تھا۔ وسطی صفحات دیکھے تو آشکار ہوا کہ بِن تیغ کے کیسے قتل کرتے اور ہوتے ہیں، نگاہِ قاتل کسے کہتے ہیں۔ ایک تصویر دیکھ کر تو فلم ’’ناگ منی‘‘ کی ہیروئن یاد آگئی۔
وہ کیا گانا تھا۔ ’’تن تو پہ واروں، مَن تو پہ واروں۔‘‘ رائٹ اَپ شائستہ اظہر صدیقی نے لکھا اور موضوعِ تحریر دسمبر اور دسمبر سے وابستہ رنج و والم کو بنایا۔ ایک، ایک جملہ سو، سو بار داد کے لائق ٹھہرا۔ جیسے ’’گویا گزشتہ سنہری رُت کا کوئی ادھار باقی تھا، جو اب لازمی چُکایا جائے گا‘‘ اور ’’وقت شاید کوئی سوداگر ہے، جو ہر سرد رات میں اپنا باسی حساب ساتھ لیے چلا آتا ہے کہ وہ سب قسطیں چُکائیں جو گرم دِنوں میں کبھی جذبات نے ادھار لی تھیں۔‘‘
ثانیہ انور اور منور راجپوت کی عدم حاضری شدت سے محسوس ہوئی، شمائلہ نیاز، خادم ملک، شری مُرلی چند گھوگھلیہ اور دیگر دوچار لوگ بھی کئی ہفتوں سے غیر حاضر ہیں، تو تشویش لاحق ہوئی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کی تینوں غزلیں اچھی تھیں۔ دُعا عظیمی کی ’’رسیلی خوبانیوں تلے‘‘ سر سے گزر گئی۔ البتہ حافظ محمّد ثانی منور مرزا، حافظ بلال بشیر، ڈاکٹر معین نواز اور ڈاکٹر سکندر اقبال کی تحریریں لائقِ مطالعہ تھیں۔
ایف سی کالج لاہور میں دفن ’’ٹائم کیپسول‘‘ سے متعلق معلومات خاصی دل چسپ لگیں اور’’آپ کا صفحہ‘‘آسمان پر چمکتے ستاروں کی مانند چمک رہا تھا، بمع ہمارے خط اور قرات نقوی کی ای میل کے۔ موبائل نیٹ ورکس کی گھٹیا سروس، ناجائز کٹوتیوں پر بھی کچھ لکھوائیں۔
اِنہوں نے عجیب بدمعاشی لگا رکھی ہے۔ آئے دن پیکجز کے ریٹس بڑھا دیے جاتے ہیں اور سروس اتنی خراب کہ کہیں تو سِرے سے سگنلز ہی نہیں ہوتے اور کہیں کال میں اتنی خرابی کہ بار بار لائن ڈراپ ہو جاتی ہے یا شور کے سبب بات ہی سمجھ نہیں آتی۔ (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: موبائل نیٹ ورکس کی گھٹیا سروسز کی بات چھیڑ کر آپ نےاپنی خاصی بچت کروا لی، وگرنہ جس طرح آغاز سے ماڈل کی قصیدہ خوانی شروع کی تھی، تو ہمارا تو خون کھول کھول کے کانوں کی لوئیں سُرخ کیے دے رہا تھا۔ آپ لوگوں کو بن تیغ قتل ہونے کا ایسا ہی شوق ہے، تو بیگمات کی ’’گُھوریوں‘‘سےکیوں نہیں مرجاتے۔ اور موبائل نیٹ ورکس پر کیا لکھیں اور کیا لکھوائیں۔
یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ جب حکومت کی کوئی رِٹ ہی نہ ہو، تو ہر شعبۂ زندگی میں ایسی ہی من مانیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس مُلک میں کون ہے، جس کی بدمعاشی عروج پر نہیں۔ عام سبزی فروش سے لے کربڑی بڑی کمپنیز تک سب ہی نے باقاعدہ ’’مافیاز‘‘ کا روپ دھارلیا ہے۔
ایک بار پھر اندھیرا ہی اندھیرا
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی نے تعلیماتِ نبویؐ اور اسوۂ رسولﷺ کی تیسری قسط میں مزید روشنی ڈالی اور خاصی تفصیل سے تعلیماتِ رسولؐ بیان کیں۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے غزہ امن منصوبے پر بہت عمدگی سے ایک تجزیاتی تحریر رقم کی۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منیر احمد خلیلی نے عراق کو ظالموں اور مظلوموں کی سرزمین قرار دیا۔ ثانیہ انور ماہِ دسمبر کے اہم ایام کا احوال بتا رہی تھیں۔
قرات نقوی امریکا کے موسموں، تہواروں کی تفصیلات لائیں۔ وحید زہیر نے جعلی بھکاریوں کی طرف توجّہ مبذول کروائی۔ ملک ذیشان عباس سرکپ کی داستان لائے، جو ٹیکسلا میں واقع ہے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی پہلی قسط ہی خاصی دل چسپ لگی، اگلی کا انتظار ہے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں عندلیب زہرہ اور ’’ڈائجسٹ‘‘ میں کلثوم پارس کی نگارشات بہترین تھیں۔
’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط بھی شامل تھا، بہت شکریہ۔ اگلے جریدے میں ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے مطالعے کے بعد منور مرزا کا ’’سنڈے اسپیشل‘‘ پڑھا، جس میں انہوں نے بےلگام سوشل میڈیا کی طرف توجہ دلوائی۔ حافظ بلال بشیر میانہ روی کے موضوع پر اچھا مضمون لائے۔ ’’ہمارا وَرثہ‘‘ اور ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کے مضامین معلومات سے بھرپور تھے۔’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ کی دوسری قسط کا بھی جواب نہ تھا۔ سسپنس بہت بڑھ گیا ہے۔ جب کہ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ایک بار پھر اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
جھنجھٹ ہی ختم کردیا جائے
شمارہ موصول ہوا، سرِورق پر رنگ و خوشبو اور موسم سہانا لگا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی ہدایتِ ابدی دینے والے سرکارؐ کی تعلیمات کی آخری قسط لائے۔ دِلوں کو روحانی سرور عطا ہوا۔ اے کاش! ہم اِن تعلیمات پر خلوصِ نیّت سےعمل پیرا ہوجائیں تو دین دنیا و آخرت سنور جائے۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا دنیا میں اسلحے کی ریکارڈ فروخت پر فکرمند تھے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں پروفیسر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی اینٹی بائیوٹکس کے صحیح استعمال کے رہنما اصول بتا رہے تھے۔
ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی نے اصلی ڈگری ثابت کرنے کی دشواریاں اور حل بھی بتایا۔ نصرت عباس داسوشجرکاری کی افادیت پر تحریر لائے۔ خدیجہ طیّب نے بحث بھی بصیرت سے کرنے کی تلقین کی۔اےکاش!یوٹرن خان بھی یہ استدلال پلّے باندھ لیں تو مُلک میں امن و استحکام ہو جائے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر صدیقی کا رائٹ اَپ خُوب تھا۔
ماڈل کی تعریف چوں کہ ممنوع ہے، اِس لیے چُپ ہی بھلی۔ ویسے اگر یہ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کا جھنجھٹ ہی ختم کردیا جائے توجریدے کو کچھ خاص فرق نہیں پڑےگا۔ ہماری استدعا اوپر پہنچا دیں۔ تاکہ حضرات آنکھوں کے گناہ سے محفوظ رہیں۔ ’’دھول بن‘‘ اختتام پذیر ہوا، کچھ خاص مزہ نہیں آیا،مگر’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کی نگارشات دل چُھو گئیں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ثناء توفیق نے کراچی کی سردی پر اچھے سُر لگائے۔ بےشک، کراچی مہذّب، بااخلاق لوگوں، عزت واحترام دینے والوں کا شہر ہے۔
ہمیں بارہا تجربہ ہوا کہ کسی بس یا ویگن میں چڑھے تو نوجوانوں نے کھڑے ہوکر ہمارے لیے اپنی سیٹ خالی کر دی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں’’دو استاد‘‘ کے عنوان سے متاثرکُن افسانہ شامل کیا گیا۔ ڈاکٹر شمیم آزر اورزین صدیقی کی غزلیں اچھی تھیں۔
بابر سلیم خان اور پرنس افضل شاہین کی اچھی باتیں نصیحت آموز رہیں۔ اختر سعیدی نے نئی کتابوں پرماہرانہ تبصرہ کیا اور محمّد صفدر کی اطلاع کے لیے عرض ہے، کھجوروں، چھوہاروں کا مرکز خیرپور ہے، میرپورخاص نہیں۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)
ج:جوخودکو’’سینٹراسپریڈ‘‘دیکھنےسےبازنہ رکھ سکیں، سلسلہ ہی ختم کردینےکا حُکم نامہ جاری کریں، وہ کل کودنیا کی آدھی آبادی ختم کرنے کی فرمائش بھی کرسکتےہیں۔ مطلب’’اسٹائل‘‘ کا جھنجھٹ ختم کرنے سےبات نہیں بنےگی، اصل ضرورت دماغ کا خنّاس ختم کرنے کی ہے۔
بیگم کی نظر پڑگئی تو…!!
اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ دونوں میں متبرک صفحاتِ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ موجود تھے، جنہیں پڑھ کر دل و رُوح کو منور کیا۔ ’’غزہ امن منصوبے کی منظوری‘‘ شان دار تجزیہ تھا۔ مسلم دنیا کو اِس وقت اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیوں کہ ہماری ذرا سی غلطی سے ’’بھیڑیے‘‘ کو ایک بار پھر پھاڑ کھانے کا موقع مل جائے گا۔ ماہِ دسمبر کےعالمی ایام سے متعلق پڑھا، یہ سلسلہ بہت ہی شان دار رہا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں دھول بن کی دونوں اقساط پسند آئیں۔
امریکا کے موسموں، تہواروں کے حوالے سے بھی ایک بہترین تحریر پڑھنے کو ملی۔ ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات میگزین کے درمیان سے نکال کر چُھپا دیتا ہوں کہ مبادا میری اکلوتی بیگم کی نظر پڑگئی اور کسی لباس کی فرمائش کردی تو پھر پورا مہینہ فاقے کرنے پڑ جائیں گے۔ سوشل میڈیا واقعی بے لگام ہوچُکا ہے۔ بچّوں، نوجوانوں پربہت ہی خوف ناک، بھیانک اثرات مرتّب کر رہا ہے۔
لاہور کے تعلیمی اداروں میں پوشیدہ دل چسپ تاریخ کا جواب نہیں۔ سب سے دل چسپ بات ایف سی کالج میں دفن کیپسول سے متعلق لگی، جسے 2065ء میں کھولا جائےگا۔ سچ کہوں تومجھے’’ سنڈے میگزین‘‘ سے عشق ہوگیا ہے، جب تک پڑھ کر تبصرہ نہ کرلوں، دل بےچین و بےقرار ہی رہتا ہے۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)
ج: بیگمات اتنی بھی بھولی، بے وقوف نہیں ہوتیں کہ آپ درمیانی صفحات چُھپا دیتے ہیں اور آپ کی اہلیہ پوچھتی تک نہیں اور نہ ہی ایسی فاترالعقل ہوتی ہیں کہ گھر کا بجٹ اَپ سیٹ کرکے بیش قیمت پہناوے خریدتی رہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ایک شدید غلط فہمی لاحق ہوگئی ہے کہ بیگمات پر جملے کسنا، اُن سے متعلق سستے لطائف گھڑنا تحریر میں مزاح پیدا کرنے کا آسان ترین نسخہ ہے، تو بھئی، اپنی اصلاح کرلیں، ہمیں کیا، کسی بھی باشعور شخص کو ایسی فضولیات پر قطعاً ہنسی نہیں آتی۔
فی امان اللہ
جنگ،’’سنڈے میگزین‘‘سے وابستہ جملہ کارکنان کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلی ہوئی ڈھیروں دعاؤں، نیک تمنائوں کے ساتھ جریدے پر تبصرے کا آغاز کرتا ہوں۔ ہر اتوار میگزین کا شدت سے انتظار رہتا ہے اور رسالہ ہاتھ آتے ہی مَن میں عجیب سی سرشاری، لُطف و کیف کی لہر دوڑجاتی ہے اور جب ’’مرکزی صفحات‘‘ پر مدیرہ کی تحریر ہو، تو لُطف گویا دوبالا ہو جاتا ہے اور بخدا یہ محض لفّاظی نہیں، صد فی صد حقیقت ہے۔
بےشک، تمام تر شعبہ ہائے زندگی پر محیط متنوّع معلومات کی فراہمی ’’سنڈے میگزین‘‘ کا خاصّہ ہے اوریہی امر اِسے ہم عصر جرائد میں ممتاز مقام کا حامل ٹھہراتا ہے۔ مذہب، سیاست، مُلکی و بین الاقوامی حالات و واقعات، صحت کے مسائل اور دیگر موضوعات پرسیرحاصل بحث کرتا جریدہ دِلوں میں اپنا مقام بنا چُکا ہے۔ صحابیٔ رسولؐ، حضرت عمار بن یاسرؓ پرشان دار تحریرطبیعت کومذہب کی طرف مزید مائل کرنے کا سبب بنی۔
کوفہ کے گورنر ہوکر بھی کم گوئی، سنجیدگی اور متانت و تقویٰ کا حامل ہونا یقیناً اللہ کی طرف سے خاص انعام تھا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ کے زیرِ عنوان غزہ پر منورمرزا کا تجزیہ جامع، بہت معلوماتی تھا۔ ’’سنڈےاسپیشل‘‘میں موسمیاتی تبدیلیوں کےضمن میں پاکستان کے کردارپر سیر حاصل بحث کی گئی۔ نیز،مسائل کی درست نشان دہی کے ساتھ قابلِ عمل حل بھی تجویز کیےگئے۔ اللہ کرے، زورِ قلم اور زیادہ۔ اے کاش! ڈاکٹر علیمی کا مضمون، بعنوان ’’سوشل میڈیا‘‘ کا رپردازانِ مُلک وملّت کو بھی خوابِ غفلت سے بے دار کردے۔
من پسند صفحہ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ انتہائی تکلیف دہ مرض ’’فالج‘‘ پرچونکا دینے والی معلومات سے مزین تھا۔عرفان جاوید جیسےلکھاری بلاشبہ اردوادب کے ماتھے کا جھومراور ’’سنڈے میگزین‘‘ کی آن، بان، شان ہیں۔ اُن کا منتخب کردہ افسانہ معاشرتی زندگی میں وڈیرے کی نفسیات اور مزاج کے جملہ پہلوئوں کی عکّاسی کرتا بہت دل چسپ اور حقیقت سے قریب ترین تھا۔ مرکزی صفحات پرماڈلزصبا، احمد اور حمزہ کا مشترکہ شوٹ اچھے انداز میں پیش کیا گیا۔
ثانیہ انور تو آغاز ہی سے قارئین کے دِلوں میں جگہ بناچُکی ہیں۔ ’’انٹرویو‘‘ میں رئوف ظفر کے دل چسپ، سوالات، رحمان فارس کےخُوب صورت، برجستہ جوابات نے تحریر کا لُطف دوبالا کردیا۔ اختر سعیدی نئی کتابوں پر اِس احسن انداز سے تبصرہ کرتے ہیں کہ طبیعت خُود بخود کتاب خریدنے کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ جامعہ کراچی سانحے کا پڑھ کرچشمِ دل نم ہوگئی۔
وطن عزیز کا مجموعی انفرااسٹرکچر ہی ترقیٔ معکوس کی طرف گام زن ہے۔ اگرچہ زیرِ تبصرہ میگزین میں سلیم راجا کا خط شامل نہیں تھا، مگراُن کا اندازِ نگارش بہت منفرد اور لائقِ صدتحسین ہے۔ ہر بار کیا ورائٹی لاتے ہیں، بےاختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ ویسےتوسب ہی خطوط نگار ایک خاندان کی طرح محسوس ہوتے ہیں، جو ایک دوسرے کی خوشی، غم محسوس کرتے، تو یک ساں طور پرکھٹے میٹھے،کرارے جوابات سے بھی نوازے جاتے ہیں۔
اور ہاں،ثانیہ انور کا افسانہ ’’سفر‘‘ بہت عُمدہ، معیاری اور سبق آموز تھا۔ اُن کا طرزِ تحریر خاصا دل کش ہے، خصوصاً ماحول کی منظر کشی میں توملکہ حاصل ہے۔ یہ تو جیسے آپ کی دستِ راست بن گئی ہیں۔ مستقبل میں کہیں آپ کی سیٹ ہی نہ سنبھال لیں۔ (ظہیرالدین، بستی عثمان والی، بہاول نگر)
ج: اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔
* بصد ادب عرض ہے کہ گزشتہ پانچ چھے ماہ میں، مَیں نے اپنی کئی تحریریں اورکالم آپ کے موقر جریدے کو ارسال کیے۔ اُن میں سے بعض خصوصی ایّام کے لیے بروقت قلم بند کیے گئے، مگر نہ وہ مقررہ وقت پر شایع ہوئے اور نہ ہی عام دِنوں میں اُن کا کوئی سُراغ ملا۔
حیرت اس بات پر ہےکہ ناقابلِ اشاعت کی فہرست میں بھی شامل نہیں کی گئیں، گویا وہ درمیان ہی میں کہیں گم ہوگئیں۔ گزارش ہے، مجھے اِس طویل انتظار کی وجہ سے آگاہ کیا جائے تاکہ میرا قلم بےسمتی کے اندھیرے میں نہ بھٹکے۔ (نصرت عباس داسو)
ج: ناقابلِ اشاعت تحریروں کی فہرست اَپ ڈیٹ ہونے میں وقت لگتا ہے۔ آپ کو ذاتی طور پر ای میل کر کے بھی کہا گیا کہ جب تک سابقہ تحریروں کی اشاعت، عدم اشاعت کا فیصلہ نہ ہوجائے، مزید تحریریں نہیں بھیجیں۔ ہمارے صفحات کی تعداد محدود، لکھاریوں کی تعداد بہت زیادہ ہےاورآپ جس طرح تھوک کے بھائو نگارشات بھیجتے ہیں، اگر ہر ایک شامل کرلی جائے، تو پھر کسی اور کی تو کبھی باری ہی نہ آئے۔
* منور مرزا نے بالکل درست فرمایا ’’جس مُلک کا یہ حال ہو کہ اُسے آج کے جدید زمانے میں بھی پتا نہ ہو کہ چینی کی قیمتیں کیسے کنٹرول کرنی ہے، وہاں اعلیٰ ٹیکنالوجی کی باتیں نری حماقت ہی ہیں۔‘‘ جو قوم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو مذہب کے ماتحت کرنا چاہتی ہو، وہ کبھی کوئی سائنسی ایجاد نہیں کرسکتی، چاہے پوری قوم سائنس دانوں سے بَھری پڑی ہو۔ کوئی ایک ویکسین ہی بتا دیں، جو کسی مسلمان ملک نے بنائی ہو۔ اِن کافر سائنس دانوں ہی نے کورونا ویکسین بنا کے دنیا کو ایک خطرناک عالم گیر وبا سے نجات دلوائی۔ (محمّد کاشف، کراچی)
* میری تحریر’’سنڈے میگزین‘‘ میں شائع ہوئی، مَیں آپ اور پوری ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کی رہنمائی، محنت اور ادارتی بصیرت ہی کے سبب میری تحریر قارئین تک پہنچ پائی۔ اُمید ہے، آئندہ بھی رہنمائی اور تعاون میسّر رہے گا۔ (ثاقب عبداللہ نظامی، لیّہ)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk