• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

ناقابلِ اشاعت کی فہرست اور ذوق و شوق

عرضِ حال یہ ہے کہ ’’سنڈے میگزین‘‘ ہاتھوں میں ہے اور ہمیشہ کی طرح باعثِ خوشی ہے۔ اُمید رکھتی ہوں کہ آپ، آپ کی ٹیم اور تمام تر قارئین بخیروعافیت، خوش و خرم ہوں گے۔ سال تمام ہوا، لیکن جریدے میں میری کوئی ایک بھی تحریر جگہ نہ بناسکی۔ شکایت تو نہیں، بس دُکھ ہے۔

ہاں، دو چار خطوط ضرور شائع ہوئے۔ اب مندرجات کی طرف آنا چاہیے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ سے ذہن کو جِلا بخشتے، رُوح سیراب کرتے آگے بڑھے، تو وہی خواتین کے استحصال کا پرانا رونا۔ سب کاغذی باتیں ہیں، عملاً کچھ ہونا ہوانا نہیں۔ واہ جناب واہ، چلغوزوں کی تجارت؟ جو اب سونگھنے کو بھی نہیں ملتے۔ 

ڈاکٹر امیر حسن کی پان، چھالیا، گٹکے غیرہ سے متعلق تحریر اچھی تھی، لیکن جب تک حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا جاتا، کوئی بہتری ممکن نہیں۔ عرفان جاوید کا تو بس نام ہی کافی ہے۔ خُود بھی شاہ کارتخلیق کرتے ہیں اور انتخاب کا بھی جواب نہیں۔ ڈاکٹر مہدی کا ’’انٹرویو‘‘ پڑھ کے بےحد خوشی ہوئی کہ کھنڈرنُما یونی ورسٹی کو ترقی کی راہ پر گام زن کردیا۔ 

واہ زبردست، ایسے ہی لوگوں کے انٹرویوز کروایا کریں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کی ہر تحریر ہی متاثر کرتی ہے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی رونقیں تو بس آپ ہی کے دم قدم سے اور آپ ہی کی مرہونِ منّت ہیں۔ ویسے یہ کتنے مزے کی بات ہے، قارئین ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ کی فہرست بھی خُوب ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں۔ جب تک ہمارا یہ نامہ شائع ہوگا، نیا سال شروع ہوچُکا ہوگا۔ سو، آپ، آپ کی ٹیم اور تمام قارئینِ کرام کو نیا سال بہت، بہت مبارک ہو۔ (نرجس مختار، خیرپور میرس)

ج: واقعی، مزے کی بات تو ہے۔ جریدے کے لکھاری فہرست کا مطالعہ کریں، بات سمجھ آتی ہے، عام قارئین بھی بصد شوق پڑھتے ہیں۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی رونقیں ہمارے نہیں، آپ لوگوں کے دم قدم سے ہیں۔ 

رہی بات تحریروں کی عدم اشاعت کی، تو بس معاملہ اتنا سا ہے کہ ہم نے ’’میرٹ‘‘ تھوڑا سخت کردیا ہے۔ ٹیم ممبرز کم ہوگئے ہیں، چند افراد پر بہت ورک لوڈ ہے، تو اب تحاریر کی ’’نوکیں پلکیں‘‘ سنوارنے کی کسی کے پاس بھی فرصت نہیں۔ سو، ترجیحاً معیاری تحریریں ہی شائع کی جارہی ہیں۔

ہمیشہ موجود ہوتا ہے

ہمیں اس بات کی ازحد خوشی ہے کہ میگزین میں منور مرزا کا ’’حالات و واقعات‘‘ کا صفحہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے، اِس ضمن میں ہم آپ کے بےحد ممنون ہیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں فاروق اعظم کا مضمون ’’پاکستان میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں‘‘ پسند آیا۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ سلسلہ شوق و جستجو سے پڑھا جاتا ہے۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ بھی مَن پسند صفحہ ہے۔ چین سے آئی ڈاکٹر علی اعظم کی تحریر بھی زبردست تھی۔

سلیم راجا ہفتہ واری بیسٹ چٹھی کے حق دار ٹھہرے، تو درست ہی ٹھہرے۔ اگلے جریدے میں بھی منور مرزا ’’حالات و واقعات‘‘ کے ساتھ موجود تھے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں عرفان جاوید کے لاجواب انتخاب کا کیا کہنا۔ اختر سعیدی ’’نئی کتابیں‘‘ میں دو ہی کتابوں کے ساتھ موجود تھے۔ ’’ناقابلِ اشاعت کی فہرست‘‘ پوری پڑھ ڈالی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں سیما عباسی اور محمد اشرف کی غزلیں پسند آئیں۔ اور سلیم راجا پھر ’’اِس ہفتے چٹھی‘‘ کی مسند پربراجمان پائے گئے۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: منور مرزا صاحب کا مضمون جو ہمیشہ موجود ملتا ہے، تو اصل ممنونیت کے حق دار وہ خُود ہیں، ہم نہیں۔ اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود پچھلے کئی برسوں سے وہ جریدے کے لیے ہر ہفتے ایک نئے موضوع، کرنٹ ایشو پر بروقت تجزیاتی رپورٹ تیار کر کے ارسال کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کے مشاہرے، فائدے کے بغیر۔ 

اُن کے پیشِ نظر صرف عوام کو ایجوکیٹ کرنا اور حُکم رانوں کو متنبّہ، گائیڈ کرنا ہے اور یہ خدمت وہ کسی بھی مالی منفعت سے سو فی صد بالاتر ہو کے انجام دے رہے ہیں، سو۔ قارئین کواُن کا شُکرگزار اور ممنونِ احسان ہونا چاہیے۔

ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرا

شمارےمیں’’سرچشمۂ ہدایت‘‘موجود تھا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے دنیا بھر کے حالات کا موثر تجزیہ پیش کیا۔ رئوف ظفر نوبل امن انعام کا قصّہ لائے۔ ملک عصمت اللہ نے میانوالی کی بڑھتی آبادی اور اس کےنتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل پر توجّہ مبذول کروائی۔

ڈاکٹر سکندراقبال کا کہنا تھا کہ بڑھاپا کوئی بیماری نہیں، قدرتی نظام کا حصّہ ہے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ دل چسپ لگا۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کے تینوں مرحومین کو اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا خط بھی شائع ہوا، شکریہ۔ اگلے جریدے کے’’سرچشمۂ ہدایت‘‘میں تعلیماتِ نبویؐ اور اسوۂ رسولﷺ کی دوسری قسط پڑھی، معلومات کا خزانہ معلوم ہوئی۔ محمّد کاشف کرپٹو کرنسی کے فوائدونقصانات بتا رہے تھے۔ 

ڈاکٹر سکندر اقبال نے ’’سانس زندگی ہے‘‘ کے موضوع پر بہترین لکھا۔ بےنظیر بھٹو شہید یونی ورسٹی کے وی سی پروفیسر ڈاکٹر سید حسین مہدی کا ’’انٹرویو‘‘ لاجواب تھا۔ عندلیب زہرہ نے افسانے کے ذریعے عورت کا درد سمجھنے کی ترغیب دی اور’’آپ کا صفحہ‘‘میں میراخط شامل نہیں تھا، تو ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرا محسوس ہوا۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی،کراچی)

ج: یہ اندھیرا دائمی بھی ہوسکتا ہے، اگر آئندہ آپ نےچھے چھے صفحات پرمشتمل طویل نامے ارسال کرنا نہ چھوڑے (جب کہ ہربارآپ کا خط 90 فی صد تک ایڈٹ ہوجاتا ہے) دوم، کاغذ کے نام پر چیتھڑوں پہ خط لکھ لکھ بھیجتے رہے۔ متعدد بار دست بستہ گزارش کی ہے، خط مختصر، جامع لکھیں کہ بےمقصد طول طویل تحریریں پڑھنے کی ہمارے پاس فرصت ہے اور نہ ہی اشاعت کے لیے جگہ۔

نوکری سے تو نہیں لگ گئے؟

’’خُوب رُوجب سنگھارکرتے ہیں…‘‘عبارت کے ساتھ، ٹائٹل سے ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ تک ماڈل، ماہی چھائی ہوئی تھی۔ چاند چہرے نے میگزین کو چار چاند لگا دئیے۔ سونے پہ سہاگا، وسطی صفحات کی تحریر ایڈیٹر صاحبہ نے لکھی اور خُوب ہی لکھی، کیا ہی کہنے، بڑی خوشی ہوئی۔ ثانیہ انور ماہِ دسمبر کے اہم عالمی ایام کا احوال دے رہی تھیں۔ 

نیّر مسعود کی تحریر ’’دھول بن‘‘ بھی اچھی لگی۔ سب سے زیادہ خوشی، قرأت نقوی کی تحریر ’’امریکا کے موسم اور تہوار‘‘ پڑھ کے ہوئی۔ اُنہوں نے امریکا کے موسموں، تہواروں، رسوم و رواج، رنگوں، فضاؤں کا احوال انتہائی دل کش انداز سے پیش کیا، صفحے کا لےآؤٹ بھی انتہائی شان دار تھا۔ تصاویر کے انتخاب نے تحریر کا حُسن دوچند کر دیا۔ 

نگارشات میں کلثوم پارس کی ’’چمٹا‘‘ حرا خان کی ’’بڑھاپا، قدرت کا حسین مظہر‘‘ اور وحید زہیر اور عندلیب زہرہ کی تحریریں پسند آئیں۔ پیارا صفحہ، ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی خُوب جگمگا رہا تھا اور وہ بھی ہمارے بغیر۔ واقعی، دنیا کا سارا نظام، رونقیں، محفلیں اِسی طرح چلتی، جگمگاتی رہیں گی، جب ہم نہیں بھی ہوں گے۔ خادم ملک (بےکار ملک) کافی ہفتوں سے غائب ہیں؟ کہیں نوکری سے تو نہیں لگ گئے؟ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: اللہ کرے، لگ ہی گئے ہوں اور رہی نظامِ کائنات چلنے کی بات، تو وہ یقیناً کسی کے بھی آنے، جانے سے مشروط نہیں، جب تک ربِ کائنات چاہے گا، یوں ہی چلتا رہے گا۔ ہم سے پہلے بھی چل رہا تھا، ہمارے بعد بھی یقیناً چلےگا۔

شاید تھک بھی گئیں؟

شمارہ موصول ہوا۔ سرِورق کی خُوب رُو پر اچٹتی سی نظرڈال کر، ٹرمپ کی سُرخ ٹائی اور سعودی ولی عہد کےجُبّے کو غور سے دیکھتے رہے کہ اِن دونوں کی کاوشوں سے غزہ میں جاری تین سالہ جنگ بالآخر بند ہوئی اور اموات کا سلسلہ کسی حد تک تھم گیا کہ اسرائیل اب بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں تو کررہا ہے مگر بہرحال بھیانک حملوں سے گریزاں ہے۔ 

’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں، ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی مضمون ’’تعلیمات نبویؐ اور اسوۂﷺ‘‘ کی تیسری بے حد معلوماتی اور رُوح پرور قسط کے ساتھ آئے اور حتیٰ المقدور حقِ سیرتؐ ادا کیا۔ ’’حالات وواقعات‘‘ میں منور مرزا نے غزہ امن منصوبے کی منظوری اور سعودی ولی عہد کے شان دار استقبال کا بہترین تجزیہ پیش کیا۔ بے شک، مسلم دنیا کواب اپنی روش بدل لینی چاہیے۔

منیر احمد خلیلی نے عراق کی تاریخ کواچھی طرح کھنگالا۔ ویسے دیکھا جائے، تو پوری دنیا ہی ظالموں، مظلوموں کی سرزمین ہے، دنیا کے کس خطے میں ظلم نہں ہوا؟ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں ثانیہ انور ماہِ دسمبر کے اہم عالمی ایّام کا تذکرہ لائیں۔ عرفان جاوید، نیّر مسعود کے ’’دھول بن‘‘ کی پہلی قسط کےساتھ آئے۔ 

بچپن میں ہم بھی دھول کے بھنور میں گُھس کرساتھ ساتھ بھاگتے تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ایڈیٹرصاحبہ بقلم خُود موجود تھیں، دوسری خواتین شاید تھک بھی گئیں، بھئی، ہے بھی تو یہ جان جوکھم کا کام، بلامعاوضہ کون مغزماری کرے۔ 

قرات نقوی کی تحریر ’’امریکا کے موسم اور تہوار‘‘ سے خُوب لطف اندوز ہوئے۔ ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں بھی اُن کےقلم کی جولانیاں دیکھتے ہیں، اب قلم کا جوبن بھی دیکھ لیا۔ وہ بھی تصویرکےساتھ۔ وحید زہیر نے شعبدہ بازی اور دھوکا دہی کی صحیح تشخیص کی۔ ملک ذیشان عباس، دوہزار سال پرانے شہر سرکپ کے کھنڈرات کی رُوداد لائے۔

عندلیب زہرہ شادی سےقبل جوڑے کے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کی ضرورت پر زور دے رہی تھیں، ویسے تو ایڈز، ٹی بی، ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کے بھی ٹیسٹ ہونے چاہئیں۔ حرا خان نے بڑھاپے کو قدرت کا حسین مظہر کہہ کر بزرگ افراد کا حوصلہ بڑھایا۔ اور ہمارے صفحے میں رانا محمّد شاہد کی چٹھی اول نمبر پررہی،جب کہ گوشۂ برقی خطوط بھی صرف قرات نقوی کے نام تھا۔ باقی سب محروم ہی رہ گئے۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: جن کو لکھنے کی چسک ہو، وہ اتنی جلدی نہیں تھکا کرتے۔ شائستہ اورثانیہ پوری تن دہی، ایمان داری اور بےحد ذوق وشوق سے لکھ رہی ہیں۔ وہ تو ایک اچھی ماڈل دیکھ کر اور تھوڑی فرصت پاکر ہمارا خُود ہی لکھنے کو جی چاہا، توایک رائٹ اَپ لکھ ڈالا۔ آپ ناحق الٹے سیدھے اندازے لگانے میں انرجی ضائع نہ کیا کریں۔

                فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

خوش قسمتی سے اتوار (ویکلی ہالیڈے) اور اقبال کا (برتھ ڈے) اکٹھے آئے۔ مدیرہ کا اقبال بلند ہو کہ یومِ اقبال پر ’’اقبال ایڈیشن‘‘ شائع کر کے ارادت مندانِ اقبال کا دل موہ لیا۔ وہ ہے ناں کہ ’’دل بدست آور کہ حجِ اکبر است (کسی کی دل جوئی، حجِ اکبرکےمثل ہے) پری پیکر نازنین کے وجود سے، خوش رنگ سرِورقِ رسالہ، اقبال کے اِس آفاقی شعر کی جیتی جاگتی تصویر ٹھہرا ؎ وجودِ زن سے ہے، تصویرِ کائنات میں رنگ… اِسی کے ساز سے ہے، زندگی کا سوزِ دروں۔ 

ورقِ اوّل سے آغازِ مطالعہ کیا۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں انٹرنیشنل افیئرزپر اتھارٹی رکھنے والے منور مرزا نےصدر ٹرمپ کے جنوب مشرقی ایشیا کے دھواں دار دورے کو اپنی صحافیانہ روشنائی کی دھار سے خُوب دھویا۔ مشرقِ بعید کے اِن ممالک نے جب ’’تلوار‘‘ پر ’’اوزار‘‘ کو ترجیح دی تو ’’ایشین ٹائیگرز‘‘ بن گئے۔ اس کایا کلپ میں برصغیری مہاراجوں کے لیے ’’چڑھدا سورج‘‘ سا سبق ہے۔

’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں مردِ دُوراندیش، اقبال کا اٹھاسی سال قبل ظاہر کیا گیا خدشہ پڑھنے کو ملا۔ ’’ایشیا کے دروازے پر ایک مغربی چھائونی کا مسلّط کیا جانا، اسلام اور مسلمان دونوں کے لیے پُرخطر ہے۔‘‘ اقبال کی یہ پیش گوئی لگ بھگ تیس سال بعد سچ ہوئی، جب صیہونی ریاست نے ہم سایہ عرب ممالک کے علاقے کیک پیس کی طرح ہڑپ لیے، ڈاکٹر علیمی نے’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں فلسفۂ اقبال کو محض اِک جملے میں سمو کر واقعتاً دریا کوزے میں بند کردیا۔

’’اقبال کے نزدیک اسلام محض عبادات کا نظام نہیں، بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔‘‘ اوراہتمامِ یومِ اقبال کی تیسری تحریر تو شہرِاقبال کے لکھاری کے قلمِ واہ کے توسط سے، راہِ چشم سے ہوتی فرشِ دل پرنقش سی ہوگئی۔ اقبال نےاِک نوجوان شاعر (طالبِ اصلاح) کو نصیحت کی ’’قوم کو شعروں کی بجائے شیروں کی ضرورت ہے۔‘‘ امریکی ماہر ِنفسیات میک کولی کا صحافتی ’’انٹرویو‘‘ کیا تھا، عفریتِ دہشت گردی کی ایک پوسٹ مارٹم رپورٹ تھی۔

حمید بلوچ کی شوخ بیانی نے تو دلِ سادہ کاایسا رنگ کردیا، کہ جیسےخوش بو کا جھونکا سنگ کردیا۔ (رنگوں سےباتیں کرتا ہوں، رنگ گم راہ نہیں ہونے دیتے) ’’اسٹڈی لاری‘‘ کو ایمرجینسی بریک لگاکر مقامِ وسطیٰ (اسٹائل) پرروکا تو ماڈل کے پیراہن و جمال پر لکھی غزلِ کمال (تحریر) سے، راجا کے دل کا رانجھا بھی راضی ہوگیا۔ ’’خواب راستے پر تھمے قدم‘‘ بظاہر اک ادبی صنف ’’افسانہ‘‘ تھا۔ تاہم، حقیقتاً کتابِ حیات کے بابِ ازدواج کا اِک الم ناک دیباچہ تھا اور صفحہ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ کو سَر تے بانہہ رکھے پایا کہ ’’ذیابطیس کا جن قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے۔‘‘

عقلِ سلیم کا مشورہ ہے۔ شوگر اور گولڈ کے بھاؤ باہم بدل دیے جائیں تو مرد و زن دونوں جنسِ انساں، ٹینشن فِری ہوجاویں گے۔ ہاہاہا…’’پیارا گھر‘‘کےتختِ طاؤس پہ براجمان، ڈرائی فروٹ کنگ ’’بادام‘‘ کے دعویٰ ہائے حُسن افزا سُن کر رضیہ سلطانہ (مونگ پھلی) کو بھی وَٹ چڑھ گیا۔ جوانی میری بجلی، طوفان میرا نخرہ… ہاہاہا! ’’ڈائجسٹ‘‘ کی ڈائری کا قرطاسِ نفیس بھی خوش بوئےاقبال سے معطّر تھا۔ 

آخر کار،اسٹڈی ایکسپریس گل زاروں سے ہوتی لالہ زارِ رسالہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ تک آن ہی پہنچی۔ جہاں رونق افروزورانا شاہد اگررونقِ دربارِعالیہ تھے، توسید زاہد وافضل شاہین، شانِ محفل اور عائشہ ناصر جانِ بزم (اعزازی چٹھی) ٹھہرے۔ قارئینِ جنگ کوسالِ نو مبارک اور ادارۂ جنگ کےلیے نیک تمنائیں۔ دُعا ہے، رُت بدلے، چاہے موسم بدلتا رہے، جنگ و جیو کے پیار کا دیا، یونہی جلتا رہے۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)

ج: پوچھنا یہ تھا کہ جس عرصے میں آپ نے یہ ’’خط و کتابت‘‘ موقوف کر رکھی تھی، تو اُن دِنوں آپ کی حیاتی کا مقصد کیا ہوا کرتا تھا۔ کیوں کہ جس باقاعدگی سے اب آپ کے نامے وصول پا رہے ہیں، گمان ہوتا ہے، زندگانی کا واحد مقصد، نصب العین ’’مکتوب نگاری‘‘ ہی ٹھہرا۔

گوشہ برقی خطوط

* منیر احمد خلیلی ’’اندلس اور یہودیوں‘‘ کے راز افشا کررہے ہیں۔ ڈاکٹرعبدالستار نے زندگی، زندگی کاراگ الاپا۔ سیّدہ تحسین عابدی نے دیہی معاشرے کا بدنُما چہرہ بےنقاب کیا، ساتھ لگی تصویردیکھ کے تورونگٹےکھڑے ہوگئے۔ ڈاکٹر عزیزہ انجم اکیلے پن کا عذاب بیان کررہی تھیں۔ مگر مَیں جس معاشرے میں رہتی ہوں، یہاں تو یہ بہت ہی عام بات ہے۔ اور اِس بار اسٹائل بزم ’’تتلیوں‘‘ کےذکر سےمالامال تھی۔ پڑھ کے بہت لُطف آیا کہ مجھے تو تتلیوں سے کچھ خاص ہی اُنس و لگائو ہے۔ مَیں اگر انسان نہ ہوتی، تو یقیناً تتلی ہوتی۔ 

آپ یقین کریں، میرے پاس تتلی پرنٹ کے نہ جانے کتنےہی پہناوے اور زیورات ہیں۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘میں”ایک کہانی، جو لکھی نہ جا سکی“ بہت ہی گہری تھی؟ کافی دیر دل و دماغ پہ چھائی رہی۔ نئےسفرنامے کی پہلی قسط بھی بہت ہی پسند آئی، اگلی کا شِدّت سےانتظار ہے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں شائستہ اظہر کو اتنا خُوب صُورت جواب دیا گیا کہ پڑھ کے تھوڑی جیلسی سی ہوئی، لیکن دل سے اُن کے لیے دُعا بھی نکلی۔ ’’شمارۂ جشنِ آزادی‘‘ پڑھ کے بچپن کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ 

ہم بھی یہ دن خُوب جوش و خروش سے منایا کرتے تھے۔ اقصیٰ منور کا افسانہ ’’گھر توآخر اپنا ہے‘‘ پڑھ کے آنکھیں بار باربھیگتی رہیں۔ اسٹائل بزم کی تحریر اچھی تھی، لیکن ماڈلز کے اتنے گہرے بلش آن /ہائی لائٹر کی کوئی تُک سمجھ نہیں آئی۔ سفرنامے کی دوسری قسط پہلی سےبھی بڑھ کر رہی۔ ’’آپ کاصفحہ‘‘میں جمیل ادیب سیدکودیا گیاجواب کو پڑھ کے سوچتی رہی کہ آخر اُن کے افسانے میں ایسا کیا تھا؟ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)

ج: اتنا مت سوچا کرو، ’’عُمر چور‘‘ ہونے کے باوجودجلد بوڑھی ہو جائو گی۔ ویسےافسانے میں وہی کچھ تھا، جو منٹو اورعصمت چغتائی کے کئی افسانوں میں ہے، لیکن بہت بوگس، بھونڈے انداز میں۔

* میرے پاس ایک اُردو نظم ہے۔ کیا مَیں اُسے آپ کے ساتھ شیئر کرسکتا ہوں؟ (محمود علی)

ج: اگر خود کوشش فرمائی ہے، تو پہلے کسی مستند شاعر کو دِکھا لیں۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید