• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایمن علی منصور

ہمیشہ کی طرح بڑی بھابھی، مَیں اور چھوٹی بہن سیر سپاٹے کو نکلے تھے۔ ہم تینوں ہی کماتی تھیں اور مہینے کی شروعاتی تاریخوں میں پورے مہینے کی محنت کا صلہ شاپنگ اور ہوٹلنگ کی صُورت وصولتی تھیں۔ ویسے ابّا اور بھیا بھی اچھا کماتے تھے، اُنہوں نے کبھی ہم سے ہماری کمائی نہیں مانگی تھی، مگر بھیا اگر دو جوڑوں کے پیسے دیتے تھے، تو ہم چار کی خواہش پوری کرلیتی تھیں۔ ابّا جو مہینے کا جیب خرچ دیتے تھے، اُس میں اپنے پیسے ملا کر کوئی منہگی چیز بنوالی جاتی تھی۔ خیر، اب ہم اتنی بھی سنگ دل نہیں تھیں، رستے میں کوئی فقیر شقیر ملتا، تو اُسے بھی سو، پچاس دے کر فارغ کرتیں۔

یہ ایسا ہی ایک دن تھا۔ ہم تینوں نے مِل جُل کر کیب کروائی اور پارلر چلی گئیں۔ ایک لگژری فیشل، ہئیر ٹِرمنگ اور مینی، پیڈی کے بعد پارلر والی کو آٹھ، آٹھ ہزار نکال کر فخر سے دیے، تو جیسے ٹھنڈ پڑگئی دل میں۔ آخر کو ہم بھی دنیا داری کی دوڑ میں شامل تھیں، کسی سے پیچھے کیوں کر رہتیں۔ 

اُس کے بعد شہر کے مشہور مال کا رُخ کیا۔ بھابھی کو گھڑیاں اور پرس خریدنے کا جنون تھا۔ گو، اُن کے پاس اچھی خاصی کلیکشن تھی، لیکن پھر بھی وہ ہر مہینے اس کلیکشن میں دو تین گھڑیوں اور ایک آدھ پرس کا اضافہ ضرور کرتیں۔ مجھے اپنے لیے اسنِیکرز اور کچھ جیولری خریدنی تھی اور چھوٹی بہن کو میک اَپ کا سامان۔ خیر، اِس سب دوڑ بھاگ میں ہمیں کافی بھوک لگ چُکی تھی اور ایک عدد پیزا آنکھوں کے سامنے ناچ رہا تھا۔

اِس بار ہم نے ایک منہگے پیزا ہاؤس کا انتخاب کیا تھا اور تینوں ایک عدد لارج اٹالین پیزا، کولڈ ڈرنکس اورمیٹھے میں لاوا کیک سے لُطف اندوز ہورہی تھیں۔ ہنسی مذاق جاری تھا، دھیمے میوزک کا لطف سونے پہ سہاگے کا کام کررہا تھا کہ بے دھیانی میں میری نئی کُرتی پر پیزا ساس گرگیا۔ سارا مُوڈ ہی خراب ہوگیا۔

ویٹر سےواش روم کا پوچھا اور بےنیازی سے اُٹھ کراُس طرف چل دی۔ شرٹ صاف کی، آئینے میں چہرہ دیکھ کر لپ اسٹک گہری کی اور واپس اپنی ٹیبل کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ قدم ایک آواز پر رُک گئے۔ ویٹر ایک بوڑھی عورت کو کرخت آواز میں ڈانٹ کر ریسٹورنٹ سے باہر جانے کو کہہ رہا تھا۔

وہ کوئی بھکارن تھی، جو ریسٹورنٹ کے اندر شاید اِس اُمید پر آگئی تھی کہ اندر بیٹھے امیر لوگ اُسے کچھ دے دِلا دیں گے، لیکن ویٹر نے اُس کی کوشش دروازے ہی پر ناکام بنادی تھی۔ مَیں کچھ دیر وہیں کھڑی سب سُنتی رہی۔ بالآخر بڑھیا کچھ پس و پیش کے بعد دہائیاں دیتی، بڑبڑاتی، آنسو پونچھتی باہرچلی گئی تھی۔ میرا مزاج مزید برہم ہوگیا۔ ’’یہ پیسے بٹورنے کا کون سا طریقہ ہے کہ بیوہ ہونے کا رونا رویا جائے، بچّوں کی لمبی قطار کا ذکر کیا جائے۔‘‘ بہرحال، مَیں اپنی میز پر واپس آگئی۔

ایک تو پیزاساس گرنے کی وجہ سے، دوسرے بڑھیا کی عجیب و غریب باتیں سُن کر میرا موڈ سخت خراب ہوچُکا تھا۔ بھابھی اور بہن کیا باتیں کر رہی تھیں، مُیں اُن سے بےنیاز، خاموشی سے اپنا پیزا ختم کرنےلگی۔ نہ جانے اِس واقعے نے میرے دماغ پر گہرا اثر کیا تھا یا مَیں دانستہ اُس سارے واقعے، اُس بڑھیا کو نظرانداز کر رہی تھی، مگرمتضاد سوچیں مسلسل میرا احاطہ کیے ہوئے تھیں۔ کبھی اللہ کی اِس تقسیم پر شکوہ کرتی، کبھی بڑھیا کی باتوں پر غصّہ آتا۔ 

باربار خیال آرہا تھا کہ ایک طرف اِتنی فراوانی، دوسری جانب ایسی کسمپرسی کیوں ہے؟ بڑھیا کا حلیہ یاد آیا تو کوفت بڑھ گئی۔ ’’ٹھیک ہے، غربت ہے، مگرصاف سُتھرا تو رہا جاسکتا ہے۔‘‘ اللہ جانے کیوں، مجھے رہ رہ کے غصّہ آرہا تھا اور مَیں اندر سے بہت بے چین تھی۔ اِتنے میں راستے میں ایک فقیر نظر آیا تو مَیں نے اُسے ہمیشہ کی طرح سو، پچاس دینے کے بجائے پورے پانچ سو روپے نکال کر دے دیے اور قدرے مطمئن ہوگئی۔

اور…رات جب مَیں سونے کی تیاری کررہی تھی تو ایک بار پھر وہ سارا منظر نگاہوں کے سامنے گھومنے لگا، تو مَیں نے خُود سے یہ کہہ کر ’’کر تو دی تھی مدد!! اب کیا پوری قوم کو پالوں؟‘‘ نہ صرف آنکھیں موند لیں بلکہ دوپہر سے بار بار کچوکے لگاتے ضمیر کو بھی گہری، میٹھی نیند سلا دیا۔

سنڈے میگزین سے مزید