جاڑے کی ہر شام کی طرح یہ شام بھی بہت بوجھل سی تھی۔ گہری سوگوار خاموشی نے ماحول کو مزید کرب ناک کردیا تھا۔ دبیز سناٹے کے سبب دروازے کُھلنے کی چرچراہٹ اور بھی نمایاں ہو کر گونجنے لگی۔ ہمیشہ کی طرح اُس کی نظرسب سے پہلےسامنےموجود چارپائی پر پڑی۔ بستر پر لیٹی بوڑھی عورت نے بے چینی سے پہلو بدل کر آنے والے کو دیکھا اور ہر شام کی طرح اپنا سوال دہرایا۔
’’نہیں آیا…؟‘‘ ’’نہیں آیا۔‘‘ ہمیشہ کی طرح وہ مختصر جواب دے کر آگے بڑھ گیا۔ اپنے جواب کے ردعمل میں عورت کے چہرے پر پھیلے حُزن و ملال کو سہنے کی ہمت اُس میں نہیں تھی۔ اُس کے قدم آہستہ آہستہ آتش دان کی جانب بڑھنے لگے۔ ہاتھ میں پکڑا سوکھی لکڑیوں کا گٹھا آتش دان میں پھینک کر وہ دیا سلائی ڈھونڈنے لگا۔ نظر کی کم زوری اور جسمانی نقاہت کے سبب اُسے دیا سلائی ڈھونڈنے میں بہت وقت صرف ہوگیا۔
’’تم نےتلاش کیا؟‘‘شدید کھانسی کے سبب بوڑھی عورت بمشکل یہی پوچھ پائی۔’’ہاں، ہرجگہ۔‘‘ آتش دان میں آگ جلنے کے سبب اب کمرے میں دھیمی دھیمی روشنی پھیل چُکی تھی۔ بوڑھے کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ آنسو دھویں کے سبب تھے یا غم کے۔ ’’کچھ کھاؤ گی؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘ بغیر کسی بحث کے وہ ایک بار پھر خشک لکڑیاں آتش دان میں جھونکنے لگا۔ کمرے میں تپش کے باوجود اُس کاساراجسم کپکپا رہا تھا۔
دوسری جانب بوڑھی عورت کی کھانسی رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ’’میرے پاس کچھ جڑی بوٹیاں ہیں، اُن کا قہوہ پی لو، کھانسی میں افاقہ ہو گا۔‘‘ کافی دیر بعد اس نے پیش کش کی۔ ’’سینے میں گہرے داغ کے ہوتے بھلا کھانسی کیسے ختم ہوگی۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ بمشکل ادا کررہی تھی۔ شدید کھانسی کے سبب اُس کی سانس اکھڑنے لگی تھی۔ بوڑھے نے مزید کوئی گفتگو نہ کی اور جلتی لکڑیوں کو بجھا کر بستر کی جانب بڑھ گیا۔
صُبح دونوں ہی کچھ ہشاش بشاش تھے۔ نہ بوڑھے کی نقاہت باقی تھی، نہ بڑھیا کی کھانسی، اگرچہ آدھی رات سےزیادہ دونوں اپنے اپنے بستر پر جاگتے، غم کی آگ میں سلگتے رہے تھے۔ دونوں چائے پی کر صُبح تڑکے ہی تیار ہو چُکے تھے۔ ’’تم بھی جاؤ گی آج۔‘‘ ’’ہاں‘‘ ’’تمہاری حالت ایسی نہیں۔‘‘ ’’یہاں بھی مجھے چین نہیں آئے گا۔‘‘ بڑھیا کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ اُسے اپنے ساتھ لے جا سکتا۔ پھر بھی اُس نے رُکنے پر اصرار نہ کیا۔ کھانے کا کچھ سامان گٹھری میں باندھ کر دونوں پہاڑوں کی جانب نکل چُکے تھے۔
دن بھربوڑھا اُسے لے کر پہاڑوں میں پِھرتا رہا۔ نقاہت ایک بار پھر اُس پر طاری ہو چُکی تھی۔ کچھ خشک لکڑیاں، پہاڑی پھل جمع کرنے کے بعد وہ ہردن کی طرح دھوپ میں بیٹھ کر سامنے پہاڑ کو تکنے لگا۔ پچھلے پانچ سال سے اُس کا قریب قریب یہی معمول تھا، البتہ گرمی کے دنوں میں وہ پہاڑ کے سائے کے نیچے بیٹھنے کو ترجیح دیتا تھا۔
بوڑھی عورت بیماری کے باوجود اِرد گرد ماری ماری پھر رہی تھی۔ کئی بار سچائی سننے کو باوجود سراب کے پیچھے دوڑ رہی تھی۔ بوڑھے کی نظر جوں ہی اس پر پڑی، اُس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ ’’عورت پہاڑ جیسا صبر رکھ سکتی ہے، مگر ممتا کے جذبے کوکہیں چین نہیں ملتا۔‘‘ وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ اُس کی آنکھیں اب ارد گرد فضا کا جائزہ لے رہی تھیں۔
خشک اور سخت موسم کے سبب چرند پرند نہ ہونے کے برابر تھے۔ فطرت کی آغوش بھی خالی تھی۔ بوڑھا اُس کی مامتا کی بےقراری کو اچھی طرح محسوس کر رہا تھا۔ اُن کا اور فطرت کا دُکھ سانجھا تھا۔ ’’تم اُسے ٹھیک سے تلاش نہیں کرتے، ورنہ وہ اب تک مل چُکا ہوتا۔‘‘ وہ اب اُس کے قریب پہنچ گئی تھی۔ جواب میں بوڑھا خاموش رہا۔ ’’تم چُپ کیوں ہو، جواب دو۔‘‘ اس نےغصیلے لہجے میں پوچھا۔ ’’مَیں ہر دن اُسے تلاش کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔‘‘
’’ایسے ایک جگہ بیٹھ کر کون تلاش کرتا ہے۔ تم دن بھر پودوں، درختوں میں لگےرہتے ہو۔ تمہیں اُس کی فکر کب ہے، جانے وہ کس حال میں ہو۔‘‘ اُس نے پھر تیز لہجے میں کہا۔ ’’اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہم یہاں اُسے ہی تلاش کرنے آئے ہیں۔ مجھے کیسے اُس کی فکر نہیں۔‘‘ بوڑھے نے آزردہ ہو کر کہا۔ ’’لیکن اب میں روز تمہارے ساتھ آؤں گی اُسے تلاش کرنے۔‘‘ قریب سے گزرتے چرواہے نے اُن کی گفتگو سن کر تأسف سے سر ہلایا اور بستی کی جانب روانہ ہوگیا۔ یہ بحث اُس کے لیے نئی نہیں تھی۔
سردیوں کے بےصبرے سورج نے غروب ہونے میں بہت تیزی دکھائی۔ بوڑھے نے اُٹھ کر جمع کی ہوئی لکڑیوں کا گٹھا بنایا۔ کھانے کی گٹھری میں پھل سمیٹے اور آہستہ آہستہ ڈھلوان سے اُترنے لگا۔ بوڑھی عورت بھی چار وناچار واپس پلٹنے لگی، مگر اس کی نگاہیں بارہا پیچھے مڑ کر دیکھنے لگتیں۔ بوڑھا اُس سے غافل نہیں تھا۔ شام کےدھندلکے پھیلتے ہی ایک بار پھر دونوں کے چہروں پر حُزن و ملال کی کیفیت طاری ہو چُکی تھی۔ فطرت پر چھائی پژمُردگی بھی گہری ہونے لگی۔
’’مَیں نےاُسےخواب میں دیکھا ہے۔ وہ وہیں ہے، اُس چٹان کی چوٹی پر۔ وہ مجھے آوازیں دیتا رہا ہے۔‘‘دوسری صُبح بوڑھی عورت خوشی خوشی بتانے لگی۔’’کون سی چٹان کی چوٹی پر؟‘‘ بوڑھے نے حیرانی سےسوال کیا۔’’وہی جسے تم روز تکتے رہتے ہو۔‘‘ جواب سن کر بوڑھے پر عجیب کیفیت طاری ہوچُکی تھی۔ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ اُس کی بیوی سمجھ نہ پائی۔
آج بوڑھے نے جانے سے قبل بہت کوشش کی کہ بڑھیا اس کے ساتھ نہ جائے، مگر اس کی ہر کوشش ناکام گئی۔ مجبوراً وہ اُسے اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوگیا۔ ’’ٹھہرو… ٹھہرو… آہستہ چلو۔‘‘ بوڑھے نے ہانپتے ہوئے کہا۔ بڑھیا کو تو جیسے آج پر لگ چُکے تھے۔ وہ اُس سے بہت آگے نکل گئی تھی۔ کافی دیر بعد اُس نے اُسے جا لیا۔ وہ اسی جگہ بیٹھ کر اُس پہاڑ کو تک رہی تھی، جہاں بوڑھا اکثر بیٹھا کرتا تھا۔ ’’آج تمہاری رفتار بہت تیز تھی۔‘‘
بوڑھے نے تیز تیز سانس لیتے ہوئے کہا۔ ’’تم مجھے سچ کیوں نہیں بتا دیتے۔‘‘ اُس نے سامنے پہاڑ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ چند سال قبل تک پہاڑ کی یہ چوٹی اس موسم میں برف کی سفید چادر اوڑھے رکھتی تھی، مگر اس بار منظر مختلف تھا۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس علاقے کو بھی شدید متاثر کیا تھا۔ ’’کیسا سچ؟‘‘ ’’میرے ولید کا سچ۔‘‘ ’’تم سچ سُننا نہیں چاہتی۔‘‘ یہ مکالمہ اُن کے درمیاں تقریباً ہر ماہ بعد ضرور ہوتا تھا۔ ’’کہو مَیں سُننا چاہتی ہوں۔‘‘ ’’مَیں کئی بار تمہیں بتا چُکا ہوں کہ ہمارا بیٹا مر چُکا ہے۔‘‘ ’’جھوٹ، سوفی صد جھوٹ۔‘‘ ہر بار اس کا جواب سُننے کے بعد وہ یہی دہراتی تھی۔
بیٹے کی حادثاتی موت نےاُسے ذہنی مریض بنا دیا تھا۔ ’’سچ تسلیم کر لو ولید کی ماں۔ تمہیں چین آجائے گا۔ لا حاصل انتظار صرف رُوح چھیدتا ہے۔‘‘ ’’یہ سچ نہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو تمہاری آنکھیں کچھ اور کیوں کہتی ہیں۔‘‘ بوڑھے نے فوراً نظریں چُرا لیں۔ ’’تم میرے ساتھ یہاں اس ویران جگہ مارے مارے کیوں پھرتے ہو۔ شہر واپس کیوں نہیں چلے جاتے۔‘‘ بوڑھا کچھ کہنا چاہتا تھا کہ چند لوگ کٹے ہوئے درخت لےکر پاس سے گزرتے نظر آئے۔ اُن کے انداز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یقیناً یہ ’قتل‘‘ غیر قانونی طور پر کیا گیا تھا۔
’’فطرت بھی ماں ہے اور ہم نے اس کی ممتا چھین لی ہے۔‘‘ بوڑھے نے تاسف سے سر ہلایا۔ ’’اُس کی قبر کہاں ہے؟‘‘ بڑھیا کے سوال پر وہ یک دم چونکا تھا۔ ’’اِن ہی پہاڑوں کے بیچ۔‘‘ ’’کیا تمہیں جگہ نہیں معلوم۔‘‘ جانے اُس نے کیا خواب دیکھا تھا کہ محض ایک رات میں اُس کی ذہنی حالت سنبھلی ہوئی تھی۔ ’’نہیں۔‘‘ بوڑھے کی آنکھوں سے اب زار و زار آنسو بہہ رہے تھے۔
پانچ سال بعد ضبط کا بندھن بالآخر ٹوٹ چُکا تھا۔ ’’وہ سیلابی ریلے میں بہہ کر ان ہی پہاڑوں میں کہیں دفن ہو چُکا ہے۔ میرا بیٹا حادثے کا شکار نہیں ہوا تھا، مجھ سے تو فطرت نے اپنا انتقام لیا تھا۔‘‘ ’’کیسا انتقام…؟؟‘‘ بوڑھی عورت آج مکمل ضبط کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ برسوں کے انتظار نے شاید اُسے تھکا دیا تھا۔ آج ذہن ہر حقیقت قبول کرنے کو تیار تھا۔ ’’مَیں بھی تو ایک عرصے سے فطرت کے زخم پر زخم دے رہا تھا۔
میرا فرنیچر کا سارا کاروبار اسی جگہ کے درختوں کی کٹائی پر تو ٹکا تھا، جہاں ولید حادثے کا شکار ہوا۔ یہ سامنے والا پہاڑ گواہ ہے۔‘‘ اپنی بیوی کی ذہنی حالت میں ایک عرصے بعد ٹھہراؤ دیکھتے ہوئے بالآخر اس نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔ بڑھیا اُسے یک ٹک دیکھےجا رہی تھی۔ اُس میں کچھ کہنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔ ’’اور اب پانچ سال سے مَیں یہاں درخت لگاتا ہوں، اُنھیں سنوارتا ہوں۔ تاکہ اپنے جرم کی تلافی کر سکوں۔ بیٹے کی جدائی کے غم نے مجھے فطرت کے دُکھ سے بھی آشنا کر دیا ہے۔‘‘
سردیوں کےاس رُت میں نئی شجرکاری ممکن نہ تھی، مگر پہلے سے لگے پودے سخت موسم اور خشک سالی کے باوجود اب بھی جم کر کھڑے تھے۔ اُس نے اپنے سامان سے پانی نکالا اور دونوں بوڑھے میاں بیوی مل کراُنھیں سیراب کرنے لگے۔ زمین نے اُن پودوں کو یوں تھام رکھا تھا، جیسے کوئی ماں اپنے نومولود بچّوں کو تھامتی ہے۔ بوڑھی عورت اُنھیں پھلتا پھولتا دیکھ کر بےاختیار ہی مُسکرا دی، جیسے اس کا بیٹا واپس لوٹ آیا ہو۔ انتظار کی طویل شام ختم ہوچُکی تھی۔