• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2014 ءکا برس تھا۔ اپریل کی 22 تاریخ تھی۔ حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوئے دو دن گزرے تھے۔ اسی ادارتی صفحے پر بے خبر صحافی کا کالم شائع ہوا ’دشمن کے انتخاب میں غلطی‘۔ عرض کی تھی کہ صحافی کو نشانہ بنانے کی بجائے بندوقوں کا رخ وطن کو درپیش حقیقی خطرے کی طرف کیا جائے۔ شنید تھی کہ ایوان وزیراعظم سے ایک معتمد وزیر اس شخص کے پاس بھیجا گیا جس کا نام کئی برس پہلے تاریخ کے غبار میں گم ہو چکا ہے لیکن اپریل 2014 میں اس کا نام لینا بلائے جاں ہو گیا تھا۔ حکومت کے فرستادہ وزیر نے صحافی اور اس کے ادارے کا قصور پوچھا تو دو ٹوک جواب ملا کہ جب کوئی ریاست سے بڑا ہونے کی کوشش کرے تو ہم اسے کاٹ پیٹ کے برابر کر دیتے ہیں۔ یہ پرانی کہانی آج اس لیے یاد آئی کہ پاکستان نے سرحد پار افغانستان میں تین صوبوں میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے جن میں مبینہ طور پر 80دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ صدر پاکستان نے ایک سخت بیان جاری کیا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔ اہل پاکستان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صدر مملکت کا یہ بیان ان کے عمومی لب و لہجے سے مختلف ہے۔ بے خبر صحافی کا اپنی بارہ برس پرانی تحریر کا حوالہ دینا خودستائی نہیں کیونکہ صحافی کا منصب تو کلام مقدس کی سورہ یونس میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ’تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کریں گے‘۔ واللہ، ہمیں تاریخ کے اس موڑ کے انتظار میں نصف صدی گزری ہے۔ اب جبکہ سرکار دربار تک رسائی رکھنے والے باخبر صحافی اچھل اچھل کر کوئٹہ شوریٰ،طالبان کے محفوظ ٹھکانوں اور ان کے اہل و عیال کی پناہ گاہوں کی تفصیل بیان کر رہے ہیں،بے خبر صحافی کیلئے تاریخ کی باز آفرینی کا اچھا موقع ہے۔

فروری 1989ءمیں آخری سوویت فوجی کو دریائے آمو کے پار اترنا تھا۔ اس مہینے سوویت وزیر خارجہ ایڈورڈ شیورناڈزے نے اسلام آباد کے دورے میں حکومت پاکستان کو تجویز دی تھی کہ سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد کابل میں پرامن انتقال اقتدار میں سہولت کاری کی جائے مبادا انتہا پسند اور بنیاد پرست جتھے زبردستی کابل پر قبضہ کر لیں۔ تاہم ہمارے دانشور فیصلہ ساز افغانستان میں تزویراتی گہرائی کے خواب دیکھ رہے تھے، کابل کی مسجد میں سجدہ ِشکر کے لیے بے کل ہو رہے تھے۔ نیز افغانستان کے تجربے سے مشرقی سرحد پر استفادہ کرنا چاہتے تھے چنانچہ شیورناڈزے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔ مشرقی سرحد پر در اندازی کی بساط جنوری 2004 ءمیں واجپائی کے دورہ اسلام آباد کے بعد لپیٹ دی گئی۔ اس دوران نائن الیون ہو چکا تھا۔ اسامہ بن لادن ایک گمنام قبائلی ملا کی مدد سے تورا بورا سے بچ نکلا تھا۔ 2003ءمیں کوئٹہ شوریٰ کی خبریں نکل رہی تھیں۔ مشرف آمریت نے ہرن اور شکاری کتوں کے ساتھ بیک وقت دوڑنے کی پالیسی اختیار کر لی تھی کیونکہ اسی پالیسی میں آمریت کی بقا کی ضمانت تھی۔ ہمارے فیصلہ ساز افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان میں فرق بیان کر رہے تھے۔ اچھے اور برے طالبان کی بحث نے اسی مجادلے سے جنم لیا تھا۔ ’خونی لبرل‘ تب بھی نوحہ کناں تھے کہ انتہا پسند سوچ کا نظریاتی منبع ایک ہے۔ یہ تمام گروہ نہ صرف پاکستان کیلئے خطرہ ہیں بلکہ ان کی مدد سے پاکستان میں انتہا پسندی مضبوط ہو گی۔ آج بلوچستان میں یہ پیش گوئی سچ ثابت ہو رہی ہے تاہم جون 2004 میں نیک محمد وزیر کی ڈرون حملے میں ہلاکت پر اس قدر گرد اڑائی گئی کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف رائے عامہ ہموار ہو گئی۔ نیک محمد کے بعد ٹی ٹی پی کا بانی بیت اللہ محسود اگست 2009 میں، حکیم اللہ محسود نومبر 2013 میں، ملا منصور اختر مئی 2016 میں اور سوات کا ملا ریڈیو جون 2018 میں ڈرون حملوں ہی کا نشانہ بنے تھے۔ اس سلسلے کی حتمی کڑی مئی 2014 میں اسامہ بن لادن کی امریکی حملے میں موت تھی۔ پانچ روزہ خاموشی کے بعد ہمیں یاد آیا کہ ایبٹ آباد حملہ ہماری خود مختاری کی خلاف ورزی تھا۔ کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ پاکستان کے یہ تمام دشمن امریکی حملوں ہی میں کیوں ہلاک ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی نظر سے کیوں اوجھل رہے۔ اس دوران امریکی عہدیدار بار بار اعلان کرتے رہے کہ تحریک طالبان اور افغان طالبان کو پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ اس کا پہلا اشارہ اکتوبر 2009 میںہلیری کلنٹن نے دورہ پاکستان کے دوران دیا تھا۔ پھر جنرل ڈیوڈ پٹریس نے پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگایا۔ ستمبر 2011ء میں ایڈمرل مائیک مولن نے امریکی کانگرس کو بتایا کہ پاکستان میں کچھ ریاستی عناصر طالبان کی کھلی حمایت کر رہے ہیں۔ اگست 2021 میں طالبان دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کابل پر چڑھ دوڑے تو پاکستانی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں انہیں غلامی کی زنجیریں توڑ پھینکنے پر مبارکباد دی جبکہ طالبان کے درپردہ حامی اس کامیابی کو بیس سالہ جدوجہد کا ثمر قرار دیتے رہے۔ کابل کے ہوٹل میں لذیز چائے نوش کی گئی۔ آج وہی طالبان جو ہمارا اثاثہ تھے، تازہ بیانیے کے مطابق بھارت کی سرپرستی میں پاکستان پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ افغان طالبان اور پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے انتہا پسند گروہوں میں لاینفک تعلق واضح ہو گیا ہے۔ یہ منظر محب وطن حلقوں کے لیے خوشگوار نہیں کیونکہ اہل پاکستان کی جانیں دائو پر لگی ہیں۔ دنیا پوچھ رہی ہے کہ ہماری تزویراتی گہرائی، تزویراتی کھائی میں کیسے بدل گئے۔ خونی لبرل جگر فگاروں کی یہ تاریخ چار عشروں پر پھیلی ہوئی ہے۔ اب زہد و اتقا کا پردہ ہٹا کے ترمیم زہد کا موقع آن پہنچا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ اسلام آباد کے اس مذہبی پیشوا تک ہماری ریاست کا ہاتھ کب پہنچے گا جس نے گزشتہ برس مئی میں بھارت کے خلاف جنگ میں ریاست پاکستان کے خلاف کھلی بغاوت کا اعلان کیا تھا۔

تازہ ترین