• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی حکومت کی جونز ایکٹ میں 90 دن کی توسیع سے تیل کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش

—تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

امریکی حکومت نے جونز ایکٹ میں دی گئی چھوٹ کو مزید 90 دن کے لیے بڑھا دیا ہے جس کا مقصد ملک میں تیل، ایندھن اور کھاد کی ترسیل کو آسان بنا کر بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی توانائی کی مہنگائی کو کم کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، خاص طور پر نومبر کے وسطِ مدتی انتخابات سے قبل جب مہنگائی ایک بڑا عوامی مسئلہ بن چکی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق جونز ایکٹ 1920ء میں بنایا گیا تھا جس کے تحت امریکی بندرگاہوں کے درمیان سامان کی ترسیل صرف امریکی جہازوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اس قانون کا مقصد مقامی بحری صنعت کا تحفظ ہے مگر ناقدین کے مطابق یہ ایکٹ سامان کی ترسیل کو مہنگا اور سست بناتا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کی رائے کے مطابق اس چھوٹ سے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔

ایک اندازے کے مطابق مشرقی ساحل پر پیٹرول کی قیمت میں صرف 3 سینٹ تک کمی آ سکتی ہے جبکہ خلیجی علاقوں میں قیمتیں بڑھ بھی سکتی ہیں۔

دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے کہ اس سے مقامی جہاز ساز صنعت اور کارکنوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور تیل کی کمپنیاں زیادہ منافع حاصل کر سکتی ہیں۔

حالیہ سروے کے مطابق 77 فیصد ووٹرز تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمے دار صدر ٹرمپ کو قرار دیتے ہیں جس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جنگ کو بتایا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں شائع کیے گئے تجزیے کے مطابق جنگ ختم ہونے کے بعد بھی عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث قیمتیں زیادہ رہ سکتی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
تجارتی خبریں سے مزید