سرحد……
میں ایک شورش زدہ شہر کا باسی تھا۔
فسادات کے باعث مجھے اپنی بستی چھوڑنی پڑی۔
میں نے اپنی کہانیاں گھر کی درازوں، کونے کھدروں میں چھپا دیں۔
سوچا تھا کہ لوٹ کر انھیں بازیافت کر لوں گا،
مگر کبھی واپس اپنے گھر نہیں جاسکا۔
برسوں بعد میں نے اپنی ان بھولی بسری کہانیوں کو
سرحد پار سے تازہ تازہ چھپی ایک کتاب میں پایا۔
تب میں نے جانا کہ میرے اس پرانے مکان کو
نئے مکین مل گئے ہیں،
جنہوں نے میری کہانیوں کواپنا لیاہے۔