چند روز قبل ملتان پریس کلب کے انتخابات منعقد ہوئے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی جمہوری سرگرمی تھی، ایسی سرگرمی جو ہر سال ہوتی ہے اور جسے ایک صحتمند روایت سمجھا جانا چاہیے۔ مگر اس مرتبہ باعثِ تشویش پہلو خود انتخابی عمل نہیں بلکہ وہ ماحول تھا جو اس کے گرد پیدا ہوا۔ انتخابی مقابلہ اپنی جگہ، اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر جس زبان، لہجے اور طرزِ گفتگو کا مظاہرہ کیا گیا اس نے اس جمہوری عمل کی خوبصورتی کو دھندلا دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مدمقابل آنے والے بیشتر افراد وہی تھے جو کبھی ایک دوسرے کے ہم سفر رہے، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر الیکشن لڑتے رہے، ایک دوسرے کیلئےتعریفی کلمات ادا کرتے رہے۔ مگر جب مفادات ٹکرائے تو وہی لوگ ایک دوسرے کیلئے سخت ترین الفاظ استعمال کرنے لگے۔
یہ رویہ محض ایک ادارے یا ایک شہر تک محدود نہیں۔ دراصل یہ ہمارے اجتماعی معاشرتی مزاج کا عکس ہے۔ جب ساتھ ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو مثالی انسان قرار دیتے ہیں، اور جب اختلاف پیدا ہوتا ہے تو کردار کشی پر اتر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا جواب ہمیں سماجی علوم کی اس معروف تھیوری میں ملتا ہے جسے’’پولیٹکل سوشلائزیشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسان کے سیاسی اور سماجی رویے بچپن سے تشکیل پاتے ہیںگھر سے، اسکول سے، مذہبی و سماجی اداروں سے اور بعد ازاں سیاسی قیادت سے۔ اگر ان مراحل میں برداشت، احترام اور اختلافِ رائے کی تہذیب نہ سکھائی جائے تو بڑا ہو کر وہی فرد عدم برداشت، غصے اور نفرت کا مظاہرہ کرتا ہے۔بدقسمتی سے ہمیں یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری تربیت کے کئی پہلو کمزور رہے ہیں۔ والدین، اساتذہ، مذہبی و سیاسی رہنمائی سب نے دانستہ یا نادانستہ طور پر ایسی فضا قائم ہونے دی جہاں برداشت کم اور ردعمل زیادہ ہے۔ چھوٹوں کے دل میں بڑوں کا احترام کم ہوا، اور بڑوں کے دل میں چھوٹوں کیلئے شفقت گھٹتی گئی۔ گفتگو کی شائستگی اور اختلاف کی تہذیب جیسے اوصاف رفتہ رفتہ ناپید ہوتے گئے۔ہماری ایک بڑی کمزوری ’’کتاب‘‘ سے دوری بھی ہے۔ کتاب سے مراد صرف نصابی یا ادبی کتاب نہیں بلکہ ہر وہ ضابطہ اور اصول ہے جو معاشرے کو منظم کرتا ہے،خواہ وہ دینی کتاب ہو، اخلاقی ضابطہ ہو یا آئین و قانون۔ آج صورتِحال یہ ہے کہ مطالعہ ہمارے لیے بوجھ بن چکا ہے۔ آئین کی بات کی جائے تو لوگ اسے غیر ضروری بحث سمجھتے ہیں۔ کسی ادارے کے قواعد کی بات ہو تو سننے والے بیزار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ مہذب معاشروں کی بنیاد ہی ضابطوں اور کتابوں پر عمل سے قائم ہوتی ہے، نہ کہ خواہشات اور مفادات پر۔
اس وقت مقدس مہینے کا آغاز ہو چکا ہے۔ مساجد میں رش بڑھ گیا ہے، عبادات میں اضافہ ہو رہا ہے، ننگے سروں پر ٹوپیاں نظر آ رہی ہیں، روحانیت کی فضا محسوس ہوتی ہے۔ یہ سب خوش آئند ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر عبادت بڑھ رہی ہے تو نفرت کیوں کم نہیں ہو رہی؟ اگر ہم واقعی روحانی طور پر سنور رہے ہیں تو ہمارے رویوں میں نرمی کیوں نہیں آ رہی؟ عبادت کا اصل مقصد تو انسان کے اندر اخلاقی تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ اگر عبادت کے باوجود دلوں میں کدورت باقی ہے تو ہمیں اپنی نیتوں اور اعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔یہ مسئلہ صرف صحافتی حلقوں تک محدود نہیں۔ ملکی سیاست سے لے کر گلی محلوں تک، سماجی تنظیموں سے لے کر تاجر برادری تک، وکلا سے لے کر ادیبوں اور دانشوروںتک ہر جگہ تناؤ اور عدم برداشت کا عنصر بڑھتا محسوس ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے، تنقید کو ذاتی حملہ بنا دیا گیا ہےاور دلیل کی جگہ آواز کی بلندی نے لے لی ہے۔
ایسے حالات میں علمائےکرام، اساتذہ، دانشوروں اور سماجی قائدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر اس مقدس مہینے میں منبر و محراب سے صرف عبادات کے فضائل ہی نہیں بلکہ اخلاقیات کی تعلیم بھی عام ہونی چاہیے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں محبت، رواداری، صلح جوئی اوربرداشت کا درس دیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ شیطان کو گالیاں دینا آسان ہے مگر شیطانی رویوں کو چھوڑنا اصل کامیابی ہے۔ معاشرے میں مہنگائی، ناانصافی اور استحصال جیسے مسائل کو اجاگر کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ اصل برائی کہاں ہے اور اصلاح کا راستہ کیا ہے۔
صحافیوں اور دانشوروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ دوسروں پر تنقید کرنا آسان ہے مگر خود احتسابی مشکل۔ اگر ہم واقعی اصلاح چاہتے ہیں تو پہلے اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے رویوں، اپنی زبان اور اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا ہوگا۔ جب تک ہم خود کو درست نہیں کریں گے، دوسروں کی اصلاح کی بات اثر نہیں رکھے گی۔
ہماری دو نسلیں بے یقینی، بے سکونی اور مسائل کے بوجھ تلے زندگی گزار چکی ہیں۔ اب کم از کم آنے والی نسل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو ہم نفرت، تقسیم اور بے اعتمادی کی وہ میراث چھوڑ جائیں گے جو آنے والے وقتوں کو بھی زہر آلود کر دے گی۔ نئی نسل کو سکون چاہیے، اعتماد چاہیے، اور ایسا معاشرہ چاہیے جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے اور مقابلہ نفرت میں تبدیل نہ ہو۔
آخرکاربات وہیں آتی ہے جسے ہم’’کتاب‘‘ کہہ رہے ہیں۔ نیکیاں سمیٹنے کا موسم ضرور ہے، مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کتاب سے انحراف نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ چاہے وہ کتاب مذہب کی ہو، اخلاق کی ہو یا آئین کی،اس کا احترام اور اس پر عمل ہی معاشرے کو امن، سکون اور توازن دے سکتا ہے۔ اگر ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں تو ہمیں نعروں سے نہیں، اصولوں سے وابستگی اختیار کرنا ہوگی۔ یہی راستہ ہمیں نفرت سے نکال کر انسانیت کی طرف لے جا سکتا ہے۔