• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ رات پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہونے والی شدید جھڑپیں اس تلخ حقیقت کی تازہ یاد دہانی تھیں کہ ہم کسی وقتی تناؤ سے نہیں بلکہ ایک طویل ،منظم اور منصوبہ بند بحران سے دوچار ہیں۔ گولہ باری، فائرنگ اور دراندازی کے یہ واقعات محض عسکری ردِعمل نہیں تھے بلکہ اس ریاستی صبر کا اختتام بھی تھے جو برسوں آزمایا گیا۔ سیکورٹی فورسزکے مطابق دہشت گرد عناصر کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ پاکستان نے اپنے دو جوانوں کی شہادت کا دکھ سہا۔ یہ شہادتیں کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس جنگ کی قیمت ہیں جو پاکستان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تنہا لڑ رہا ہے ایک ایسی جنگ جس میں دشمن سامنے کم اور پردوں کے پیچھے زیادہ رہا۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سرحد پر ہونے والی ہر جھڑپ کسی ایک رات کی پیداوار نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے تاریخ ہوتی ہے، مفادات ہوتے ہیں پراکسی جنگیں ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ احسان فراموشی ہوتی ہے جس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ چالیس برس میں افغانستان کیلئے جو کچھ کیا وہ کسی ایک معاہدے یا وقتی مجبوری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک انسانی اخلاقی اور علاقائی ذمہ داری کا مظہر تھا۔ 1979 میں سوویت یونین کے حملے کے بعد افغانستان سےلاکھوں نہیں کروڑوں افغان پاکستان آئے۔ پاکستان نے نہ سرحد بند کی نہ کیمپوں کو قید خانہ بنایا نہ ہی انہیں محض مہاجر سمجھ کر الگ تھلگ رکھا۔ انہیں روزگار ملا، تعلیم ملی ، علاج ملا، کاروبار ملا یہاں تک کہ شناخت بھی ملی۔

اس مہمان نوازی کی قیمت پاکستان نے اپنی معیشت سماج اور سلامتی سے چکائی۔ اسلحہ کلچر پھیلا ، منشیات کی راہیں کھلیں، جرائم میں اضافہ ہوا، دہشت گردی نےجڑ پکڑی مگر اس سب کے باوجود پاکستان نے افغان عوام کو کبھی دشمن نہیں سمجھا۔ افسوس ناک سچ یہ ہے کہ اس احسان کے بدلے ہمیں وہ رویہ ملا جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ بارہا یقین دہانیاں کرائی گئیں،بارہا وعدے کیے گئے مگر نتیجہ ہمیشہ دراندازی ،دہشت گردی اور بدامنی کی صورت میں نکلا۔آج افغانستان میں برسراقتدار طالبان کے حوالے سے یہ حقیقت اب کسی بحث کی محتاج نہیں رہی کہ وہ ایک یکساں منظم اور جواب دہ ریاستی اکائی نہیں۔ ان کے اندر طاقتور دھڑے موجود ہیں جو دانستہ طور پر امن کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ افغان عوام کی اکثریت شاید امن چاہتی ہومگر طالبان کے اندر موجود یہ گروہ امن نہیں چاہتے کیونکہ امن ان کی کمائی بند کر دیتا ہے۔ بدامنی ان کی معیشت ہے۔ اسمگلنگ ، اسلحہ، انسانی تجارت اور منشیات یہ سب اسی جنگی معیشت کے ستون ہیں۔

یہ گروہ دراصل نظریاتی کم اور کارٹیل نما زیادہ ہیں۔ ان کی سوچ ریاست کی نہیں بادشاہت کی ہے۔ جیسے میکسیکو کے ڈرگ کارٹیلز ریاستی رِٹ کو یرغمال بنا کر اپنی سلطنت قائم رکھتے ہیں ویسے ہی افغانستان میں یہ عناصر بندوق اور خوف کے بل پر اپنی اجارہ داری چاہتے ہیں۔ امن آئے گا تو سرحدیں کنٹرول ہوں گی قانون حرکت میں آئے گا تجارت قانونی راستوں سے ہوگی اور یہی ان کے مفاد کے خلاف ہے۔ اسی لیے وہ دانستہ طور پر ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں نہ مکمل جنگ ہو نہ مکمل امن بس ایک مستقل انتشار برقرار رہے۔اس انتشار کو ہوا دینے میں بیرونی ہاتھ بھی پوری طرح سرگرم ہیں۔ بھارت برسوں سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کیلئے استعمال کرتا آ رہا ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں بلکہ ایک طویل پیٹرن ہے ،مالی معاونت ،لاجسٹک سپورٹ، انٹیلی جنس شیئرنگ اور بیانیاتی جنگ۔ مقصد صاف ہے پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم رکھنا اسکی معیشت کو دباؤ میں رکھنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا کہ یہ ملک سرمایہ کاری کیلئے محفوظ نہیں۔یہ تاثر اس لیے گھڑا جا رہا ہے کیونکہ دشمن جانتے ہیں کہ اگر پاکستان میں پائیدار امن قائم ہو گیا تو عالمی سرمایہ یہاں کا رخ کرئیگا۔ سرمایہ بندوق سے نہیں ڈرتا وہ غیر یقینی سے ڈرتا ہے۔ اسی لیے دہشت گردی کی ہر کارروائی دراصل ایک ہیڈ لائن آپریشن بھی ہوتی ہے ایک ایسی خبر جو دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی ہے کہ پاکستان میں عدم استحکام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ حملے فوجی نہیں معاشی اہداف ہوتے ہیں۔بلوچستان اس لیے دشمن کی آنکھ میں کھٹکتا ہے کہ یہی صوبہ پاکستان کے مستقبل کی کنجی ہے۔ ساحل معدنیات علاقائی رابطے اور ٹرانزٹ ٹریڈ سب کچھ یہیں سے جڑا ہے۔ اسی تناظر میں گوادر محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے۔ ایک ایسا خواب جو پاکستان کو عالمی تجارتی نقشے پر مرکزی مقام دلا سکتا ہے۔ اسی لیے بلوچستان میں دہشت گردی خیبر پختونخوا میں عدم استحکام اور ملک بھر میں پراکسی کارروائیاں کی جاتی ہیں تاکہ سرمایہ ڈرے ،منصوبے رکیں اور تاثر خراب ہو۔لیکن دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہماری اپنی کمزوری ہے، پاکستان کی سیاسی تقسیم! ہم ایک ایسے وقت میں اندرونی محاذ آرائی میں الجھے ہیں جب بیرونی خطرات سر پر کھڑے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں قومی سلامتی کے معاملات بھی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر ہو جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے گردش کرتے ہیں۔ دشمن کو بندوق اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی،ہم خود اپنے بیانیے کمزور کر دیتے ہیں۔یہاں یہ بات کھل کر کہنی چاہیے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر جنگ کے وقت صف بندی لازم ہوتی ہے۔ فوج سرحد پر لڑتی ہے مگر اس کی اصل طاقت قوم کا اعتماد اور سیاسی استحکام ہوتا ہے۔ جب ملک اندر سے منقسم ہو تو بیرونی قوتیں آسانی سے دراڑوں میں زہر بھر دیتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومی اتحاد محض نعرہ نہیں بلکہ ریاستی ضرورت بن جاتا ہے۔

گزشتہ رات کی جھڑپوں نے ایک واضح پیغام دیا ہے پاکستان اب ابہام کی پالیسی نہیں رکھ سکتا۔ افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔ دوستی کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے، مگر نمک حرامی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ افغان عوام کی امن کی خواہش قابلِ احترام ہے مگر طالبان کے اندر موجود کارٹیل نما عناصر کی غداری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ احسان کا بدلہ بدامنی سے دینا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔

تازہ ترین