گزشتہ رات میرے محبوب شاعر اور نہایت اعلیٰ درجے کے انسان سید ضمیر جعفری مجھے خواب میں نظر آئے۔ میں انھیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ پہلے تو سوچا کہ نیند کا حصار توڑ کر اٹھ بیٹھوں مگر دیرینہ محبت بھرے تعلقات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا، مگر ضمیر صاحب نے میرے چہرے سے میرے احساسات کا اندازہ کر لیا اور’’ بولے تم بھی دوسروں کی طرح مجھے دیکھ کر ڈر گئے ، مجھے کم از کم تم سے ایسی توقع نہیں تھی تم تو مجھ سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔‘‘
میں نے سہمی ہوئی آواز میں جواب دیا’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں تو آپ کی شکل دیکھنے کو ترس گیا تھا ۔‘‘
ضمیر صاحب نے شاید میری بات پر یقین کر لیا اور بولے’’میں آج کل اپنے پرانے دوستوں کو بہت مس کر رہا ہوں مگر عجیب بات ہے جسے بھی خواب میں نظر آتا ہوں وہ چیخ مار کر جاگ جاتا ہے اور میں اس سے بات کرنے کو ترس جاتا ہوں۔‘‘
پتا نہیں کیا بات ہے، میں خود بھی ضمیر کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اور چاہتا تھا جلد سے جلد یہ خواب ختم ہو مگر ضمیر صاحب بہت دکھی لگ رہے تھے اور مجھے لگا کہ وہ بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں۔
چنانچہ میں نے نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا’’ سنائیں عالم بالا میں کیسی گزر رہی ہے؟ ‘‘ بولے ’’عالم بالا میں ویسے تو بہت خوش ہوں مگر تم لوگوں کے حوالے سے بہت پریشان رہتا ہوں ‘‘۔
میں نے پوچھا وہ کیسے؟بولے چند روز قبل میں اپنے ایک پرانے دوست سے ملا، جو ایک ٹی وی چینل کا مالک ہے۔ میں نے اس کے چہرے پر بے رخی دیکھی تو کہا یا ر لگتاہے تم نے مجھے پہچانا نہیں، میں تمہارا ضمیر ہوں، یہ سن کر اس کی آواز اس کے حلق میں پھنس گئی اور بولا کون ضمیر ؟ میں کسی ضمیر کو نہیں جانتا۔ مجھے اس کی بات سے دکھ تو بہت ہوا، مگر میں نے کہا یار میں وہی ضمیر ہوں جو کبھی تمہارے رگ و پے میں سمایا ہوتا تھا۔
اس نے کہا’’تم ٹھیک کہتے ہوگے، مگر اب میں کسی ضمیر کو نہیں جانتا ، خدا کیلئے یہاں سے چلے جاؤ، کیوں میرا چینل بند کراؤ گے؟‘‘
یہ بتاتے ہوئے ضمیر صاحب کے چہرے پر گہرے ملال کے آثار نظر آئے اور مجھ سے پوچھا ’’ یار اس نے ایسے کیوں کہا؟ میں تو اس سے محبت کرتا تھااور وہ بھی میرے اس قدر قریب تھا کہ کوئی کام میری منشا کے خلاف نہیں کرتا تھا، اب اسے کیا ہو گیا ہے؟‘‘
میں انہیں اس بات کا کیا جواب دیتا۔ میں تو انہیں اپنے سامنے پاکر خود اندر سے سہما ہوا تھا۔
میں نے جواب دیا ’’سر ! بس ہوا ہی ایسی چل پڑی ہے۔ مجھے تو اپنی سمجھ نہیں آتی، میں دوسروں کے بارے میں کیا کہوں؟‘‘ مگر لگتا تھا ضمیر صاحب بھرے بیٹھے ہیں۔ بولے:’’چند روز قبل ایک پرانا دوست جو بہت مشہور سیاستدان ہے، مجھ سے ملنے میرے خواب میں آیا اور اس نے مجھے دیکھتے ہی چیخ کر کہا ضمیر خدا کیلئے مجھے اپنی یاد دلانے آئندہ میرے خواب میں نہ آنا۔ تمہارے کہنے پر میں اپنا کیریئر خراب کرتا رہا، اب عزت کی روٹی کھا رہا ہوں۔ خدا کیلئے اب میری جان چھوڑ دو۔ اس کے بعد اس نے بسترسے چھلانگ لگائی اور میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا‘‘۔ضمیر صاحب مجھے اپنی دکھ بھری داستان سنائے جا رہے تھے۔
انہوں نے ایک عالم دین کی کایا کلپ کے بارے میں بتایا، کچھ لکھاریوں کا قصہ سنایا، کچھ تجزیہ کاروں کا احوال بتایا، چند بیورو کریٹس انھیں دیکھ کر جس طرح گھبرائے اس کی تفصیل بیان کی۔ میں خاموشی سے سنتا رہا اور دل میں دعا کرتا رہا کہ خداوند ! میں جتنی مروّت دکھا سکتا تھا، دکھا چکا۔ اب ضمیر کی باتیں مجھ سے نہیں سنی جارہیں ۔ یا اللّٰہ ! اگر تو ان کی زبان بند نہیں کر سکتا تو مجھ سے سننے کی طاقت چھین لے۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ البتہ جب وہ مختلف طبقوں کی بے التفاتی کی داستانیں سناتے سناتے مسند انصاف کی طرف آئے تو میں نے سب ادب آداب اور سید ضمیر جعفری کیلئے اپنی بے پایاں محبت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چلا کر کہا
”بس کریں ضمیر صاحب بس کریں، اگر آپ سے یہ سب کچھ دیکھا نہیں جاتا تو بھول جائیں ان لوگوں کو جو بھی ضمیر سے محبت کرتے تھے۔ آپ براہ کرم عالم بالا میں واپس تشریف لے جائیں ۔ آپ تو لوگوں کو ہنسایا کرتے تھے ، اب انھیں رلانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟‘‘
یہ کہہ کر میں نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے صرف آنسوؤں کی ایک جھالر نظر آئی۔وہ جا چکے تھے اور آنسوؤں کی جھالر میرے لیے چھوڑ گئے تھے!