• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا

طالبان کی طرف سے نئے خاندانی قانونی ضابطے کے تحت کم عمری کی شادیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

طالبان کے مخصوص رہنما کی طرف سے نئے قائم کردہ اصولوں کے مطابق کم عمر کنواری لڑکیوں کے لیے نابالغی میں شادی کے قواعد وضع کیے گئے ہیں۔

31 صفحات پر مشتمل آرٹیکل ریگولیشن جسے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے اصول کہا جاتا ہے مذہبی اور قانونی شرائط کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست کے تحت شادیوں کو تحلیل کرنے کے قوانین کا خاکہ بھی پیش کرتا ہے، اس میں بچپن کی شادی، دودھ پلانے کے تعلقات، جبری علیحدگی، گمشدہ شوہر، ارتداد اور حدود کے الزامات کی تشریح کی گئی ہے۔

آرٹیکل 5  کے مطابق اگر کسی بچے کی شادی ان کے والد یا دادا کے علاوہ رشتہ داروں کے ذریعے طے کی جاتی ہے تو یہ قانونی طور پر درست تسلیم کی جائے گی  بشرطیکہ شریک حیات سماجی طور پر مطابقت رکھتا ہو اور جہیز مناسب ہو۔

آزاد افغان آؤٹ لیٹ امو ٹی وی کے مطابق ضابطے میں کہا گیا ہے کہ بچہ بلوغت کو پہنچنے کے بعد عدالت کے ذریعے منسوخی کی درخواست بھی کر سکتا ہے، کنواری لڑکی کی خاموشی کو رضا مندی تعبیر کیا جاتا ہے مگر سزا کے خوف سے خواتین کے بولنے کے امکانات نہیں، نئی قانون سازی سے ان کے حقوق کا استحصال ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید