جمہوریت میں دائیں اور بائیں بازو کے دھارے اپنی مخصوص ترجیحات سے قطع نظر جائز سیاسی رجحان کا درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم مذہبی سیاست سے مراد ایسی سوچ ہے جو کسی مخصوص مذہبی شناخت کے تابع ہو اور اس ترجیحی مذہبی فکر کی معاشی اور قانونی بالادستی کو سیاسی نصب العین سمجھتی ہو۔ اگلے روز ایک محترم صحافی نے ہنگری کے یہودی انتہا پسند تھیوڈور ہرزل کا ذکر کرتے ہوئے انہیں صہیونی فکر کا بانی قرار دیا۔ ان سے تقویمی تسامح ہوا۔ ہرزل کی کتاب ’Der Judenstaat ‘ 1904 میں نہیں، 1896 میں شائع ہوئی تھی۔ محترم صحافی یہ نشاندہی بھی کر دیتے تو بہتر ہوتا کہ ہرزل فکری طور پر مذہبی نہیں بلکہ سیکولر اور ملحد تھا۔ اس کے لئے یہودی ریاست کا تصور عقیدے کی آڑ میں یورپ کی قدیمی یہود دشمنی سے نجات کا نسخہ تھا جس میں اسے عثمانی حکمرانوں سے ربط ضبط سے لے کر لاطینی امریکا کے کسی دور دراز منطقے میں انخلا تک سب قبول تھا۔
سرد جنگ کے دوران سرمایہ دار بلاک نے اپنے سیاسی بیانیے میں مذہب کی جو پیوند کاری کی، اس میں مسلم اکثریتی معاشرے علمی اور معاشی پسماندگی کے باعث زیادہ کارآمد ثابت ہوئے۔ تاہم سرد جنگ کےبعد مسلم دنیا میںیہ کاشتکاری عالمی منظرپر بنیادی سیاسی تفریق کی بنیاد بن گئی۔ سرمایہ دار بلاک کی چھتر چھایا میں پلنے والی مذہبی سیاست نے نویافتہ سیاسی اور تمدنی بالادستی کو سیاسی ہتھیار میں بدل دیا اور جدیدیت کے خلاف اپنے ردعمل پر جمہوری اصطلاحات کی آڑ میں مغرب دشمنی کا کمبل ڈال دیا۔ اس میں سرمایہ دار دنیا سے گہرا عناد رکھنے والے اشتراکی فکر کے سابق خوشہ چیں بھی شامل ہو گئے۔ اس کا ایک بڑا مظاہرہ افغانستان میں سامنے آیا۔ افغانستان پر نیٹو اور امریکی قبضے کی دو دہائیوں میں پاکستان افغان مزاحمت کا حقیقی سرپرست تھا۔ تاہم 2021ء میں امریکی انخلا کے بعد طالبان نے دوحا معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی مفاہمت کی بجائے کابل پر زبردستی قبضہ کر کے یک طرفہ حکومت قائم کر لی۔ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی ضمانت کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے صرف پاکستان ہی کے خلاف سرگرم گروہوں کی کھلی سرپرستی نہیں کی بلکہ دنیا بھر سے دہشت گرد جتھوں کو افغان سرزمین پر جمع کر لیا۔ افغانستان پر اپنا ترجیحی سیاسی اور سماجی نظام مسلط کر دیا۔ عورتوں اور بچوں کے حقوق غصب کر لیے۔ میڈیا کی آزادی سلب کر لی۔ عورتوں پر تشدد کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا۔ افغان معیشت ٹھپ ہو گئی۔ انتظامی نااہلی،غذائی بحران، بیروزگاری اور تشدد کے نتیجے میں افغانستان کو ایک بڑے انسانی المیے کا سامنا ہے۔ افغان ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی روز افزوں دراندازی سے بالآخر پاکستان کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور گزشتہ ہفتے سے دونوں ملکوں کے درمیان کھلا تصادم جاری ہے۔
شمالی افریقہ کے ملک الجیریا میں 90ء کی دہائی میں سیاسی بحران کے آثار نمودار ہوئے۔ انتخابات میں مذہبی انتہا پسندوں نے ابتدائی طور پر بڑی کامیابی حاصل کی جس کے ردعمل میں فوج نے انتخاب منسوخ کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی خانہ جنگی ایک دہائی تک جاری رہی۔ مذہبی گروہوں نے ایک طرف جمہوری اقدار کے خلاف ذہن سازی جاری رکھی اور دوسری طرف القاعدہ جیسی قوتوں کی پشت پناہی سے پورے شمالی افریقہ میں پرتشدد کارروائیاں شروع کر دیں۔ دس برس تک جاری رہنے والی اس خانہ جنگی میںلاکھوں افراد مارے گئے۔ گویا مذہبی سیاست کرنے والوں نے جمہوریت کی آڑ میں تمام جمہوری اقدار کو روند ڈالا۔ مسجدوں کو سیاسی مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا۔ عورتوں کی ہراسانی سے لے کر کھلی دہشت گردی تک ہر حربہ اپنایا گیا۔
جمہوریت کی آڑ میں فسطائی قانون سازی کا یہی حربہ مصر میں بھی آزمایا گیا۔ جمہوری اقدار کی دہائی دے کر انتخاب جیتنے والی اخوان المسلمین نے ایک ہی برس میں تمام جمہوری اقدار روند ڈالیں۔ عدالتوں سے حکومتی اقدامات پر نظرثانی کا اختیار چھین لیا گیا۔ آزادی صحافت ختم ہو گئی۔ اخوان المسلمون کے ارکان کو کلیدی حکومتی عہدے دیے گئے۔ سیاسی مخالفین، عورتوں اور اقلیتوں کو فیصلہ سازی سے بے دخل کر دیا گیا۔ اس کے باوجود معاشی بحران ختم نہ ہو سکا۔ 2013ء میں وسیع عوامی احتجاج نے فوج کو پھر سے اقتدار پر قبضے کا موقع دے دیا۔ یعنی مصر میں بھی مذہبی سیاست نے جمہوریت کو یرغمال بنا کر مذہبی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی، چنانچہ مصر کا جمہوری خواب پریشان ہو گیا۔
اب یہ امر کوئی راز نہیں کہ 1979ء کے موسم سرما میں انقلاب ایران سے پہلے امریکی انتظامیہ کو ہر طرح سے تعاون کی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں لیکن ایران پہنچتے ہی انقلاب کی ہراول قوتوں مثلاً تودے پارٹی کو بے رحمی سے کچل دیاگیا۔ ہزاروں سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارا اور بالآخر ایک سخت گیر مذہبی حکومت قائم کر دی۔ عورتوں کے حقوق غصب کر لیے اور انتخابی عمل پر مذہبی پیشوائوں کی گرفت قائم کر لی۔ ملک کو عملی طور پر شدت پسند عناصر کے زیر انتظام عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ سابق صدر ابوالحسن بنی صدر نے جنوری 2019 میں بتایا تھا کہ انہوں نے انقلاب کے کچھ ماہ بعد انقلابی حکومت سے امریکی حکومت سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کا شکوہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ پیرس میں جلاوطنی کے دوران امریکیوں کو دی گئیں ضمانتیں معروضی حالات میں مفید تھیں اور ان شرائط سے انحراف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ایران میں مذہبی پیشوائوں کی حکومت ایرانی عوام کے لیے ایک ڈرائونا خواب رہی ہے۔ ہمارے ملک میں اس وقت امریکی حملوں کے خلاف اشتعال پایا جاتا ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی قوانین کی دہائی دی جاتی ہے لیکن ایسا کرنے والے یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ میں امریکا اور برطانیہ نے اشتراکی سوویت یونین سے اشتراک کیا تھا۔ نیز 1939ء میں اسٹالن نے ہٹلر سے معاہدہ کر کے پولینڈ کے حصے بخرے کیے تھے۔ جدید عالمی تاریخ میں فسطائی حکومتوں کے خلاف بیرونی مداخلت واحد راستہ بچتا ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جو ہمارے ملک نے افغانستان میں اختیار کیا ہے اور ہم سے زیادہ طاقتور قوتیں مشرق وسطیٰ میں آزما رہی ہیں۔