سرسید احمد خان کے محسن قوم ہونے میں کیا کلام ہے۔ انہوں نے قریب 75برس بعد اس نکتے کو سمجھا اور حرز جان بنایا جو راجہ رام موہن رائے انیسویں صدی کی ابتدا میں سمجھ چکے تھے۔ راجہ رام موہن ہندوستانی شناخت، قومی خود داری اور جدید علوم کے اولین موید تھے۔ فرسودہ رسوم مثلاً بیوہ کی شادی کے امتناع اور ستی کے شدید مخالف تھے۔ پون صدی بعد سرسید احمد نے جانا کہ مسلمانوں کی معاشی ترقی اور سیاسی احیا جدید زمانے کو سمجھے بغیر ممکن نہیں۔ مرحوم اپنی افتاد میں قدیم و جدید کا طرفہ سنگھم تھے۔ لڑکیوں اور نام نہاد اجلاف کی تعلیم سے انہیں یک گونہ نفور تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اشرافیہ کے نونہالوں کو جدید تعلیم مل جائے تو مسلمانوں کیلئے سیاسی رسوخ کے دروازے کھل جائینگے۔ اس پر قدامت پسند مسلمانوں نے وہ دھول اڑائی کہ الامان۔ کوئی گالی اردو لغت میں ایسی نہیں تھی جو سرسید کو دان نہ کی گئی ہو۔ نیچری اور کرشٹان ہونے کے بہتان تو گویا ٹکسالی سکے تھے۔ تاریخ کا جبر دیکھئے کہ سرسید کے اسی معتوب تعلیمی ادارے کے طالبعلموں نے نہ صرف ہندی مسلمانوں پر صدائے قم باذنی کا اثر کیا بلکہ ان میں کچھ تو باقاعدہ قدامت پسند فکر کے داعی ٹھہرے۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ سرسید شماتت ہمسایہ کے خوف سے اس قدر محتاط ہو گئے کہ جدید فکر کی بجائے احیا پسند رجعت پسندی، سرکاری کاسہ لیسی اور مذہبی تاویل آرائی علیگڑھ کی غالب پہچان قرار پائی۔
پہلی عالمی جنگ میں جرمنی، آسٹرو ہنگیرین، عثمانیہ اور بلغارین سلطنتیں محوری طاقتیں تھیں جو جمہوریت مخالف اور موروثی بادشاہت کی حامی تھیں۔ دوسری طرف ہندوستان میں برطانوی سلطنت کے غالی مخالف محض مذہبی تعصب میں سلطنت عثمانیہ کے غیرمشروط حامی تھے۔ یہ ہندی مسلمانوں کا جدید عالمی سیاست سے پہلا تعارف تھا، انہیں معیشت اور عالمی جوڑ توڑ کی کچھ سمجھ نہیں تھی۔ ایک جذباتی دھارے میں لشٹم پشٹم بہ رہے تھے۔ شکست کے بعد سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہو گئے۔ نوجوان ترکوں نے مارچ 1924 میں خلافت کی بساط لپیٹ کر جمہوریہ قائم کر لی۔ دلچسپ امر یہ کہ خلافت پر جان دینے والے اسی سانس میں مصطفی کمال کی بلائیں بھی لیتے تھے۔ انہیں سمرنا کے محل وقوع، آتش زنی اور قتل عام کی کچھ خبر نہ تھی محض سمرنا کے بچوں کو مصطفی کمال کے کندھے پر بٹھانا مقصود تھا۔ منٹو کا افسانہ ماتمی جلسہ تو آپ کو یاد ہو گا۔ ادب کا ذکر چلا تو کرنل محمد خان کی کتاب بجنگ آمد میں شاہ فاروق کے دربار کا تذکرہ پھر سے دیکھ لیجیے۔
اسی مصر میں 1952ءمیں جنرل نجیب اور جمال عبد الناصر نے شاہ فاروق کا تختہ الٹا تو ہمیں اپنی نہفتہ آرزوئوں کے ہار لٹکانے کو نئی کھونٹی مل گئی۔ 1956 ءکے سویز بحران میں کراچی میں احتجاجی جلوس نکلے، یوم مصر منایا گیا۔ جمال ناصر نے سہروردی کی دورہ مصر کی تجویز مسترد کر کے کشمیر پر بھارت کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس کے باوجود ستمبر 1970ءمیں ناصر کا انتقال ہوا تو لاہور میں ناصر کی غائبانہ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور بھٹو نے گول باغ کو ناصر باغ قرار دے دیا۔
فروری 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے شرکا میں شاہ فیصل، یاسرعرفات اور معمر قذافی نے اہل پاکستان میں ایسی مقبولیت پائی جو انہیں خود اپنے ملکوں میں بھی نصیب نہیں تھی۔ اس کانفرنس کی فضا ہی سے فائدہ اٹھا کے جنرل ضیاالحق نے مسلم امہ، جہاد افغانستان اور اسلامائزیشن کا ترشول ہمارے جسد اجتماعی میں اتارا۔ فروری 1979 میں انقلاب ایران کے بعد امام خمینی اور ان کے جلاد جج صادق خلخالی کے فوری انصاف نے اہل پاکستان کے دل موہ لیے۔ اس پر طرہ یہ کہ لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن نے شاہ فیصل کے قاتل کا سر قلم کرنے کی تصویر اور کرکٹ کے ایک کھلاڑی کی شبیہ اسکول کے بچوں کی کاپیوں پر نصب کر کے ایک پوری نسل کا تخیل بدل ڈالا۔ دسمبر 1977 میں لاہور کے ایک تاجر کا کمسن بچہ پپو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ فوجی حکومت موقع کی تلاش میں تھی۔ تاجر کے ڈرائیور کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ تین مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی اور آخری بار سرعام پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 23 مارچ 1978 کو کیمپ جیل لاہور کے باہر پھانسی کے تختے نصب ہوئے۔ شام ڈھلے تین مجرموں کو پھندے سے لٹکایا گیا تو یہ منظر دیکھنے کے لیے پانچ لاکھ افراد موجود تھے جن کے فلک شگاف نعروں سے لاہور گونج رہا تھا۔ مجرموں کی لاشیں لٹکتی رہیں اور اندھیرا ہونے کے بعد اتاری گئیں۔ یہ ناٹک قوم کو بھٹو صاحب کی پھانسی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کا اہتمام تھا۔ جنوری 1990 ءمیں کویت پر عراقی قبضے کے خلاف پہلی خلیجی جنگ شروع ہوئی تو دنیا بھر میں صرف دو عبقری رہنمائوں کو صدام حسین کی فتح کا یقین تھا۔ پہلے یاسرعرفات اور دوسرے جنرل اسلم بیگ۔ پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے مقبولیت پسند رہی ہے۔ اس کا واضح ترین ثبوت تو 1971ءمیں مغربی پاکستان کے اخبارات کی مجرمانہ خاموشی تھی۔ سرکاری اشارہ ہو تو صحافی کے جملوں کی بندش اور لفظوں کے انتخاب سے لہو ٹپکنے لگتا ہے۔ ’غازی صدر ایوب کی آنکھ میں خون اتر آیا ہے‘۔ وقت گزرنے کے بعد مناسب موقع پر سجدہ سہو کر لیا جاتا ہے۔ ایک ہفتے سے مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری ہے۔ یہ جنگ شروع ہونے سے صرف چوبیس گھنٹے پہلے افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر پاکستانی فوج کی فیصلہ کن کارروائی شروع ہوئی لیکن خلیج کی جنگ شروع ہوتے ہی اخبارات سے افغانستان آپریشن غائب ہو گیا۔ صحافی خوب سمجھتا ہے کہ ریاست کا ترجیحی بیانیہ کیا ہے اور اسے کس رنگ میں ترسیل کرنا ہے۔ صحافی کے ایک ہاتھ پر سواد رومتہ الکبریٰ کا نقشہ کھنچا ہے اور دوسرے ہاتھ میں چلبلی طمنچہ جان کے خدوخال نقش ہیں۔ صحافتی مہارت یہی ہے کہ کب رومتہ الکبریٰ کی داستان شروع کرنا ہے اور کب طمنچہ جان کو رقص کا اشارہ کرنا ہے۔ اس میں نسلوں کی ذہنی تربیت مسخ ہونے سے صحافی کو غرض نہیں۔ صحافی جانتا ہے کہ عوامی یادداشت ضعیف ہے اور ہر شام ایک نئی اندرسبھا سجانا ہے۔