• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مَیں نے پہلی بار اُنہیں مسجد میں دیکھا۔ قِبلہ رُو آلتی پالتی مار کے بیٹھے ہوئے، کمر سیدھی مگر سر اپنے ہی سینے پر جُھکا ہُوا، سر پر ایک ململ کا صاف سُتھرا رنگ دار صافہ، جو چہرے کو نصف چُھپاتے ہوئے گردن کے گرد گھوم کر کاندھوں پر دھرا تھا۔ چہرہ تقریباً نہاں مگر پھر بھی باریش ہونے کی کیفیت عیاں۔ خاموشی پہلا لفظ تھا، جو اُنہیں دیکھ کر میرے دھیان میں آیا۔ سکُون دوسرا لفظ تھا۔ 

وہ دُعا کر رہے تھے۔ مَیں چُپکے سے اُنہیں دیکھتا رہا۔ دُعا اشکوں میں گُھل مِل گئی تو وہ منبر و محراب کی جانب دیکھنے لگے، لیکن نظر کہیں دُور ان دونوں مقامات کے پار تھی۔ مجھے خبر نہیں ہوئی کہ اس دوران مسجد کا صحن خالی ہو چُکا تھا اور شاید ہم دو نمازی ہی رہ گئے تھے۔ یہ ضرور یاد ہے کہ ہلکی سی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ وہ دُعا مانگ کر اُٹھے، تو مَیں اُن کی طرف لپکا اور بغیر تعارف کے اُن سے گلے ملا۔ یہ میری نور الحسن سے پہلی ملاقات تھی۔

دُنیا انہیں اداکار اور صداکار سمجھتی ہے۔ وہ نہ اداکار ہیں نہ صداکار۔ اِس سے کچھ پرے، کچھ زیادہ اور کچھ ماورا ہیں، کیوں کہ اُن کی نہ ادا اپنی ہے نہ صدا۔ سب کہیں اور سے عطا ہے جو رضا کے بغیر ممکن نہیں۔ مجھے کبھی کبھار یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ وہ قونیہ و بغداد یا شاید ’’یاد آباد‘‘ سے آئے ہیں اور اداکار کا بہروپ اوڑھے لاہور میں چُھپے ہوئے ہیں۔ 

پیاسے اُنہیں پہچانتے ہیں، کیوں کہ پیاسے کو کنواں پہچاننے کے لیے کچھ سیکھنا پڑھنا نہیں پڑتا۔ پیاس ہی اُس کی پی ایچ ڈی ہوتی ہے۔ پیاس خُود ہی پیاسے کا سب سے بڑا علم ہے۔ نُور الحسن سے مل کر لگتا ہے کہ رُومی بھی اُن کے روم روم میں خوشبو کی طرح بسا ہے اور تبریز سے بھی لب ریز ہیں۔ سچ کہوں تو مجھے یہ بھی شک ہوتا ہے کہ اُنہیں ایک اداکار کے طور پر کوئی گہرا، رُوح سے بھرا، سچا کردار کرنے کو ملا۔ اس ڈرامے کی شوٹنگ ختم بھی ہوگئی، زندگی میلوں آگے بڑھ گئی، لیکن نُور اُسی کردار میں رہ گئے۔ اداکار ختم ہوا، عطا یافتہ کردار سچائی بن گیا۔

ویسے سچ یہ ہے کہ نُور الحسن نے جو کردار کیا، ڈوب کر کیا۔ خُود مٹ گئے، بس وہ کردار ہی باقی رہ گیا۔ رمضان ٹرانس میشن کی میزبانی کی تو اُسے ایسا رُوحانی رنگ ڈھنگ دیا کہ دیکھنے سُننے والوں کو آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں۔ اشکوں کی پھوار میں ٹیلی ویژن اسکرین تک دُھندلاجاتی۔ ’’رانجھارانجھا کردی‘‘، ’’چیخ‘‘، ’’آنگن‘‘، ’’عشق جلیبی‘‘ کے گہرے کردار ہوں چاہے ’’تین بٹا تین‘‘ اور ’’کالج جینز‘‘ کے جدید حسیات والے رول، نُورالحسن نے جو کیا، اُسے نبھایا۔

ویسے تو پہلی بارچودہ پندرہ برس کی بالی عُمرمیں ٹی وی اسکرین پر نعت کے کورس میں نمودار ہوئے۔ اور اُن کا اِسی کھڑکی سے نمود کرنا بنتا تھا، کیوں کہ وہ اندر کے آدمی ہیں۔ اُن کا پہلا اورآخری تعارف عشق ہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس میں اُن کا دورِ طالبِ علمی آرٹ سے لدا پھندا اور تخلیقی اُڑان کا ابتدائیہ تھا۔ پی ٹی وی کے کوئز شو’’فن گامہ‘‘ سے تو وہ گھر گھر پہچانے جانے لگے۔ 

تب بھی مَیں اُن کی آواز سُن کر سوچتا تھا کہ اُن کا قدرتی کھرج ہلکا سا بھرّایا ہوا ہے، جیسے بات کرتے کرتے کسی یاد میں ڈُبکی لگی ہو اور آواز رندھ گئی ہو۔ رِقّت، گریہ، آنسو اُن کے دوست ہیں۔ آس پاس ہی رہتے ہیں، بُلانا نہیں پڑتا۔ جھٹ سے آنکھوں میں آن بیٹھتے ہیں۔ آج کل کے سنگ دل دَورمیں رو پانا بہت بڑی نعمت ہے۔ انہی اشکوں کی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے جیو ٹیلی ویژن کے شہرہ آفاق ڈراموں ’’دیوانگی‘‘ اور ’’خدا اور محبت‘‘ تک آتے آتے دُنیا پر نورالحسن کے جوہر مکمل کُھل چکے تھے۔ وہ ایک ورسٹائل اداکار کے طور پر خُود کو منوا چکے تھے، لیکن اُن کے اندر کی کسک اُنہیں کہیں اور بھی جوڑے ہوئے تھی۔

مَیں نے ہرملاقات میں یہ جانا ہے کہ نُور الحسن دِلوں میں جھانکنے کا راز بھی جانتے ہیں۔ ایک دن مسجد میں غلام حسین ممتاز یعنی میرے ابو سے ملے، جن کے سر اور داڑھی کے بھی سب بال سفید ہیں۔ عُمر بھر اُنہوں نے حلال کھایا، کھلایا۔ درویش صفت ہیں، زندگی بھر سفید کے علاوہ کوئی رنگ نہیں پہنا۔ کچھ روز بعد نُور الحسن مجھ سے کہنے لگے۔ ’’فارس میاں! ایک بات کہیں لکھ کر رکھ لیجے۔ 

آپ بہت جلد اپنے ابو جیسے بن جاؤ گے اور زیادہ دُور نہیں وہ دن۔ حُلیہ بھی، کُلیہ بھی۔ رنگ بھی، ڈھنگ بھی۔‘‘ یہ اُن کی پیشین گوئی ہے۔ آگے رب کی باتیں، رب جانے۔ ویسے آپ اگر نُورالحسن کے چہرے کو غور سے دیکھیں تو آپ کو لگے گا کہ اُن کی آنکھوں میں قدرتی طور پر ہی سُرما لگا ہوا ہے۔ اللہ نے بصارت و بصیرت دونوں عطا کی ہیں۔ مجھے لگتا ہے،اللہ جن کا رُخ پھیرنا چاہتا ہے، اُن کے آس پاس اپنے خاص پُراسرار بندے بھیج دیتا ہے یا اُس شخص کو اُن بندوں کے پاس بھیج دیتا ہے۔

صاحبو! ’’ست سنگ‘‘ سنسکرت میں سچ کے ساتھ یا سچّوں کی محفل میں بیٹھنے کو کہتے ہیں اور یہ بیٹھنا صرف بیٹھنا ہو تو وہ ہرگز ’’ست سنگ‘‘ نہیں۔ ’’ست سنگ‘‘ میں آپ مکمل receptive ہوتے ہیں۔ آفاقی سچ کوموصول کرنے اور ازلی ابدی حقیقت کو وصول کرنے کے لیے کامل تیار۔ ایسی آمادگی ہو تو ناممکن ہے کہ سچ آپ کو عطا نہ ہوجائے۔ دو ہی شرائط ہیں۔ ایک:سچ کی رینج میں بیٹھیے۔ دوم: موصول کرنے پر مکمل آمادہ، دُعاگو اور تیار بیٹھیے۔ Gen-Z کو سمجھانےکے لیے یوں کہے دیتا ہوں کہ وائی فائی کھول کر رکھیے۔ 

فون کی بیٹری مکمل چارج ہو اور آپ اُس کی رینج میں ہوں۔ پھر پاس ورڈ کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سگنلز اُڑتے بہتے آئیں گے اور آپ بلا روک ٹوک جُڑ جائیں گے۔ تمام ڈیٹا Air -Drop ہو کر خود بخود آپ کی رُوح میں اسٹور ہوجائے گا۔ نُور کو ایسا ’’ست سنگ‘‘ اشفاق احمد، بانو قُدسیہ اور بابا یحییٰ کی صُورت میں عطا ہوا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جب بھی نور سے ان برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں پوچھیں تو نہ جانے کیوں، اُنہیں چُپ سی لگ جاتی ہے۔ 

ایک مرتبہ میں نے زیادہ کُریدا تو کہنے لگے۔’’لب سِلے ہی رہیں گے، فارس بھائی! بڑی مُشکل سے خاموشی کا سبق سیکھنے کے لیے قدم قدم چل رہا ہوں اور بارہا سبق بُھول کر ٹھوکر کھا جاتا ہُوں۔ کوشش کرتا ہُوں، اگر کوئی بات کر پاؤں۔ مَیں ہارجاؤں گا اور اشک جِیت جائیں گے بس اللّہ کی ذات نے بھرم اور شرم کے پردے حائل کر رکھے ہیں۔‘‘ ایک بار مجھ سے کہنے لگے۔ ’’آپ بھی میرا امتحان ہیں اور مَیں کسی بھی امتحان کی تیاری کے سلسلے میں نئے گتّے، نئی پینسل، ربر اور شارپنر کے علاوہ کبھی بھی کوئی تیاری نہ کر سکا اور اب تو وہ بھی نہیں ہیں۔‘‘ 

عموماً اِن سے بات کی جائے، تو بولتے کم کم ہیں۔ بزبانِ خاموشی زیادہ باتیں کرتے ہیں۔ شرمیلی لڑکیوں کی طرح خُود کو سنبھالتے رہتے ہیں۔ لڑکیوں سے یاد آیا۔ بانو قُدسیہ کو نُورالحسن ’’ماں جی‘‘ کہہ کر بُلاتے تھے اور یہ رشتہ کہیں اور ہی سے ودیعت ہوا تھا۔ بانو قُدسیہ نے اپنی معروف کتاب ’’راہِ رواں‘‘ میں خُوب محبّت سے نُور الحسن پر بات کی۔ لکھتی ہیں۔ ’’جس کا ٹیلی ویژن سے ہلکا سا بھی رابطہ ہو، وہ نورالحسن کی شخصيت سے بخوبی نہ سہی، سرسری طور پر ضرور واقف ہوگا ۔ لیکن مَیں نے اس نوجوان کو ذرا مُختلف انداز میں جانا ہے۔ 

خان صاحب سے اُن کی زندگی میں مِلتا رہا، لیکن مَیں نے اسے نہیں دیکھا- جوں ہی خان صاحب اپنےگھر سدھارے، نُورالحسن گربہ پائی سے داستان سرائے کی طرف بڑھنے لگا۔ ہمارے برآمدے میں ڈرائینگ روم کا دروازہ کُھلتا ہے۔ ساتھ ہی اُس کمرے کی دیوار ذرا آگے بڑھی ہوئی ہے۔ یہ ديوار نُورالحسن کی ٹیک تھی۔ پتا نہیں کیسے اور کب آجاتا اور اس ديوار سے لگ کر لڑکیوں کی طرح رویا کرتا۔ ویسے بھی نُورالحسن میں کم عُمر لڑکیوں جیسی لجاجت اورحيا ہے۔‘‘یہ مضمون خاصّے کی چیز ہے، وہ بھی خاصی پُراسرار۔

ازلی ابدی رمزوں، رازوں کو جاننے والے نے بانو قُدسیہ اور اشفاق احمد کو انسانی رُوح کی کھڑکیوں میں جھانکنےکی قدرت عطا کر رکھی تھی۔ اُنہوں نے وہ بھی دیکھ لیا، جو نُور آج تک دُنیا سے چُھپاتے پھرتے ہیں، یعنی اُن کی شخصیت کی گہری ترین روحانی پرت۔ اشفاق احمد کے’’اپنے گھر سدھارنے‘‘ کے بعد نُور نے جیسے اُن کے بیٹے اثیر کا دل لگانے، بہلانے کی ترکیبیں کیں، وہ بھی ایک الگ کہانی ہے۔ 

اس مُعاملے میں’’لبیک‘‘اور ’’علی پُور کا ایلی‘‘ والےممتاز مفتی کے بیٹے عکسی مُفتی بھی نُور کے ساتھ رہے۔ بانو آپا نے لکھا ہے کہ ’’عکسی مُفتی ہر ہفتے لاہور آتے اور اثیر کے ساتھ لگ کر اُس کا سر اپنے بازو پر رکھ کر سوتے۔ نُور الحسن نیچے قالین پر بیٹھ کر اثیر خان کے پلنگ کےساتھ جُڑ کر اپنی پُشت کو پلنگ سے ٹیک لگا کر بارہ بارہ بجے تک بغیر ہم دردی جتائے، دوستی کا بھرم بھرے بغیر ٹِکے رہتے۔

ایسے مہربان زندگی کے زخموں پر پھاہا رکھنے کی بڑی اہلیت رکھتے ہیں۔‘‘بانو آپا کے اس خیال کا مَیں عینی گواہ بھی ہوں۔ کچھ لوگوں کو خدا مجسّم مرہم بنا کر پیدا کرتا ہے۔ نُور الحسن اُنہی میں سے ایک ہیں کہ جن سے مل کر اپنے دُکھ درد کا احساس نہیں رہتا اور جو آپ سے آپ کے غم بہانے بہانے سے اُدھار لے لیتے ہیں اور پھر واپس نہیں کرتے۔

نُور ہمارے گھر کے سامنے والی گلی ہی میں رہائش پذیر ہیں۔ ایک باربیگم نے لذیذ حلوا بنایا، تو مَیں نے سوچا کہ نُور بھائی کو بھی چکھانا چاہیے۔ سو، مَیں خُود ہی لے کر پہنچ گیا۔ موصوف نے دروازہ کھولا اور اتنی گرم جوشی سے ملے کہ کیا کہوں۔ مَیں ویسے ہی شرمندہ تھا کہ بغیر بتائے چلا گیا۔ مگر اُنہوں نے بالکل محسوس نہیں ہونے دیا کہ مَیں اُن کے کسی کام میں مُخل ہوا ہوں۔ اُن کےچہرے پر وہی ملکوتی نرم مسکراہٹ اور آنکھوں میں ہلکی سی نمی والی چمک تھی، جو ہمیشہ رہتی ہے۔ گھر بھی بہت رمزوں بھرا ہے۔

سجے سنورے تو بہت سے گھر ہوتے ہیں۔ اُن کا آشیانہ آشا بھرا یعنی اُمید سے معمور ہے۔ درودیوار اینٹوں سے زیادہ محبّت سے بنے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ میں بھی انہی کا دھیما پن جھلکتا ہے۔ ایک خاص قسم کا خاموش سُکون تھا، جو گھرکی فضا میں تیر رہا تھا اور جو شاید نیّتوں کے خلوص سے پُھوٹتا ہے۔ ٹی وی پر پاکستان کا میچ چل رہا تھا۔ پلک جھپکتے ہی کچن سے انواع و اقسام کے کباب اور چائے کے دیگر لوازمات آن پہنچے۔ نُور کے ساتھ بیٹھ کر مَیں نے چائے پی اور کچھ اوورز میچ دیکھا۔ وہ میچ تو پاکستان ہارگیا لیکن نُورالحسن نے ناچیز کا دل جیت لیا۔ اُن میں پاکستانیت بھی کُوٹ کُوٹ کر بَھری ہے۔

مَیں خاکہ لکھتے لکھتے چھبیس فروری کو اس سطر تک پہنچا تو نُور بھائی سے بات کی کہ آپ کی سال گرہ پچیس فروری اور میری ستائیس فروری کو ہے۔ سو، آپ کو ایک دن تاخیر سے اور مجھےایک دن پیشگی سال گرہ مبارک۔ مزید عرض کیا کہ آپ مجھ سے اس سیّارے پر تو عُمر میں پانچ سال دو دن بڑے ہیں، لیکن رُوح کے سفرمیں ہزاروں نوری سال بڑے ہیں۔ کہنے لگے۔ ’’اللہ اکبر کبیرا۔ آپ اس میں ایک انکشاف اور شامل کر لیجے کہ قدرت اللہ شہاب کی سال گرہ چھبیس فروری کو ہے۔سو یہ پچیس، چھبیس اور ستائیس کا سلسلہ ہے۔‘‘

ایک بار لاہور میں’’اخوت‘‘ کے افطار ڈنرپر ناچیز کو کمپیئرنگ سونپی گئی۔ پروگرام کا آغاز ہونے ہی والا تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ نُور الحسن بابا یحیٰی کا ہاتھ تھامے چلے آرہے ہیں۔ یاد رہے، بابا جی بھی ایک نہایت پُراسرار شخصیت ہیں۔ مَیں نے جلدی سے اسٹیج سےاُتر کر دونوں کو پہلی صف میں لا بٹھایا۔ ایک بات نوٹ کرنے کی یہ تھی کہ پروگرام کے دوران بابا جی مسلسل نُور الحسن کا ہاتھ تھامے بیٹھے رہے۔ 

تھوڑی دیر کے لیے بھی اگر نُور کہیں گئے تو بابا جی مضطرب اور پریشان ہوجاتے تھے۔ یہ عجیب سلسلہ تھا، جس کی کڑی کڑی جُڑی ہوئی بھی ہے، الگ الگ بھی۔ ویسے نُور کے سلسلے اب مُلک سےباہر نکل کر مُلکوں مُلکوں جھانکنے لگے ہیں۔ ظاہر ہے نُور کو پھیلنے سے کون روک سکتا ہے۔ رات جتنی بھی گہری ہو، صبح کی پہلی کرن، نُور واپس لے آتی ہے۔ کیا یہ کوئی عام سی بات ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کے ایک اہم ترین کردار یعنی صلاح الدین ایوبی کی داستان میں، روحانی سلسلے کے ایک اہم ترین کردار، شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے لیے ایک پاکستانی اداکار یعنی نُور الحسن سے گزارش کی گئی ؟

نورالحسن، صائمہ بھابھی اور اُن کے بیٹوں اویس اور خالد کا کُنبہ الگ ہی مہمان نواز مزاج کا ہے۔ بانو آپا نے ان کے بارے میں لکھا تھا کہ صائمہ اُن کی بیٹی بنی ہوئی تھیں اور یہ گھرانہ اُن کے گھر اکثر آتا جاتا رہتا تھا۔ شاید یہ اُنہی کا فیضان ہے کہ نُور الحسن کے آنگن میں ٹھہراؤ نظر آتا ہے، ہنگامہ نہیں۔ سُکون محسوس ہوتا ہے، بھگدڑ نہیں۔ اُن کے ہاں خاموشی کئی گھرانوں کے غیرضروری شور پر حاوی ہے۔ ان کے لان میں کِھلے پھول پودے جاتے جاتے آپ کو آواز دیں گے۔ آپ ٹھہر کر سُنیں گے، تو وہ آپ کو چُپکے چُپکے وہ پُرلطف باتیں بتائیں گے، جو نُور اُن سے صُبح و شام کرتے ہیں اور ان باتوں میں بناوٹ نہیں ہوگی، محض لگاوٹ ہوگی۔

میرا مشورہ ہے کہ آپ کو موقع ملے تو نُور الحسن کے ساتھ ضرور بیٹھیے۔ ’’ست سنگ‘‘ کی کیفیت دل میں بھریے اور اُن کی خاموشی کو سُنیے۔ وہ چُپ چاپ بیٹھیں گے، سر جُھکائے اور اپنی نظریں اپنی ہی گود میں ٹکائے۔ لیکن اُس دوران کمرے کا گھڑیال بھی سُوئی کی ٹِک ٹِک کےساتھ یہی کہے گا۔ ’’نُور ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ 

آپ چونک کر اُوپر دیکھیں گے کہ نُور نے کیا کہا، مگر اُس کی خاموشی برقرار رہے گی۔ کھڑکی کا پٹ آدھا کُھل کر آپ کے کان میں سرگوشی کرے گا۔ ’’نُور ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ آپ دوبارہ ہڑبڑا کر نُور کو دیکھیں گے۔ خاموشی برقرار ہے۔ آس پاس سے آنے والی سات آٹھ گواہیوں کے بعد خاموشی مزید بڑھ جائے گی۔ 

اِسی گہرے سکوت میں آپ پر دھیان کا وہ سعد لمحہ طاری ہوگا، جس میں آپ کو نُور کی خاموشی کی بلند آواز سُنائی دے گی، جسے سُنتے ہی آپ یک لخت مُسکرا دیں گے، گہرا سانس لیں گے اور پکار اُٹھیں گے کہ ’’ہاں! نُور ٹھیک کہتا ہے۔‘‘

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید