• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ میں 1 ہزار بحری جہازوں کے GPS کیوں کام نہیں کر رہے؟

فوٹو — اے ایف پی
فوٹو — اے ایف پی

بڑھتی ہوئی جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں پھنسے ہوئے مال بردار جہازوں، آئل ٹینکرز اور دیگر جہازوں کی گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS) کی صلاحیتیں ممکنہ طور پر سیل فون سے بھی زیادہ خراب ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات واضح ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سیٹلائٹ نیویگیشن سگنلز کے جام ہونے کی وجہ سے خلیج اور خلیج عمان میں تقریباً 1 ہزار بحری جہاز اپنے مقام کا تعین کرنے سے قاصر ہیں۔

انرجی مارکیٹ انٹیلی جنس فرم کیپلر کے ایک سینئر رسک اور کمپلائنس تجزیہ کار ڈمیٹریس ایمپٹ زیڈس نے میڈیا کو بتایا کہ یہ تعداد علاقے میں تقریباً نصف جہازوں کی نمائندگی کرتی ہے، ان جہازوں کی اکثریت متحدہ عرب امارات اور عمان سے دور ہے۔

سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم مصنوعی سیاروں کے ایک برج سے بنا ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ زمین کو سگنل بھیجتا ہے، جس کے بعد یہ سگنل وصول کرنے والا صارف اپنے درست مقام کا تعین کر سکتا ہے۔

آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں انجینئرنگ کے پروفیسر ٹوڈ ہمفریز نے میڈیا کو بتایا کہ جدید اسمارٹ فون سیٹلائٹس کے 4 گروپس سے سگنل وصول کرتے ہیں؛ جن میں امریکن، یورپی (گیلی لیئو)، روسی (گلوناس) اور چینی (بے ڈو) گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹمز (جی این ایس ایس) شامل ہیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ زیادہ تر سیل فونز اب دو جی پی ایس فریکوئنسی بینڈ استعمال کرتے ہیں، ایک جو پرانا اور کمزور ہے اور دوسرا جو نیا اور مضبوط ہے۔ 

ٹوڈ ہمفریز نے بتایا کہ لیکن بہت سے جہاز صرف اصل سویلین جی پی ایس سگنل کو سنتے ہیں، جسے ’L1 C/A‘ سگنل کہا جاتا ہے، یہ وہی ہے جو 1990ء کی دہائی کے آغاز سے عام استعمال کے لیے موجود ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر بحری جہاز جی پی ایس کے جام ہونے کی صورت میں بے ڈو یا گیلی لیئو سسٹم پر انحصار کرنے سے قاصر ہیں۔

ٹوڈ ہمفریز نے بتایا کہ ہوا بازی کے ضوابط کی وجہ سے ہوائی جہازوں کے لیے تو صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ آج دنیا میں ایک بھی جہاز ایسا اڑتا ہوا نہیں ملے گا جس کا بلٹ ان (built-in) جی پی ایس ریسیور جی پی ایس’L1 C/A‘ کے علاوہ کسی کے سگنلز کو ٹریک کرنے اور ان کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، لہٰذا یہ 15 سال پرانا ہو چکا ہے۔

جی پی ایس کی تاریخ کی آنے والی کتاب ’لٹل بلیو ڈاٹ‘ کی مصنفہ کیتھرین ڈن نے کہا ہے کہ جی پی ایس سگنل کو جام کرنا اتنا پیچیدہ نہیں ہے بس اس کے لیے ایک اور ریڈیو ٹرانسمیٹر درکار ہوتا ہے جو ایسی ہی فریکوئنسی پر لیکن بلند آواز میں کام کر سکتا ہو۔

اُنہوں نے بتایا کہ اس طرح سے جہاز کے خودکار شناختی نظام کو بہت آسانی سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔

کیتھرین ڈن نے بتایا کہ آج کے دور میں جی پی ایس سگنل صرف مقام کا تعین کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ وہ آن بورڈ گھڑیوں، ریڈار سسٹمز اور اسپیڈ لاگ کو بھی طاقت دیتے ہیں۔ 

اس لیے اگر متحدہ عرب امارات یا کویت کے بحری جہاز ڈرون حملوں سے محفوظ بھی رہے تو بھی آبنائے ہرمز سے جی پی ایس کے بغیر بحری سفر کرنا خطرناک ہو گا۔

دنیا بھر میں مال بردار بحری جہازوں پر سفر کرنے والے ایک مرچنٹ میرین کیپٹن نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بتایا کہ جہازوں کے سائز کو دیکھتے ہوئے، ان کو چلانے کے لیے الیکٹرانک مدد ضروری ہو گئی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ عملے کو 20 ویں صدی کے آلات  ریڈار یا نظر آنے والے نشانات کا استعمال کرنا چاہیے۔

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران سگنل جیمنگ بلاشبہ جارحانہ اور دفاعی طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

ایسی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہوائی اور سمندری نیویگیشن کے لیے، اسٹارٹ اپز متبادل ٹیکنالوجیز تیار کر رہے ہیں لیکن بحری جہازوں کے لیے مستقبل میں جی پی ایس کے بغیر سفر کرنا ابھی بہت دور ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید