• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملائیشین ایئر لائن کا طیارہ 12 سال بعد بھی معمہ بنا ہوا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

پُراسرار طور پر لاپتہ ہونے والا ملائیشین ایئر لائن کا طیارہ 12 سال بعد بھی معمہ بنا ہوا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 12 سال قبل ملائیشیا کی لاپتہ ہونے والی پرواز MH370 کی حالیہ تلاش بھی بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی۔

ملائیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق دسمبر میں شروع ہونے والی نئی تلاش جنوری میں مکمل ہوئی، تاہم اس دوران طیارے کے ملبے کے مقام کی تصدیق کرنے والا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

یہ بوئنگ 777 طیارہ 8 مارچ 2014ء کو کولالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے ریڈار اسکرینوں سے غائب ہو گیا تھا۔ اس میں سوار 239 افراد میں سے تقریباً دو تہائی مسافر چینی شہری تھے، جبکہ دیگر میں ملائیشیا، انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے علاوہ بھارت، امریکا، نیدرلینڈز اور فرانس کے شہری بھی شامل تھے۔

ہوا بازی کی تاریخ کی سب سے بڑی تلاش میں شامل اب تک کی متعدد تلاشوں کے باوجود نہ تو طیارہ ملا ہے، نہ مسافروں کا سراغ اور نہ ہی اس کے بلیک باکس۔

حالیہ تلاش کے دوران تقریباً 15 ہزار مربع کلومیٹر کے سمندری علاقے میں طیارے کو ایک بار پھر ڈھونڈا گیا۔ یہ مہم برطانیہ اور امریکا میں قائم تحقیقاتی کمپنی اوشین انفینیٹی نے انجام دی، جو 23 جنوری کو ختم ہوئی۔

طیارے کی تلاش کے لیے کمپنی نے ایسے خودکار زیرِ آب ڈرونز استعمال کیے جو 6 ہزار میٹر (تقریباً 20 ہزار فٹ) گہرائی تک جا سکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی 2018ء میں اسی کمپنی نے تلاش کی تھی جبکہ آسٹریلیا نے بھی 3 سال تک جاری رہنے والی تلاش جنوری 2017ء میں ختم کر دی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید