یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ پاکستانی قوم جو کبھی مہمان نوازی، دیہی ثقافت اور روایتی کھیلوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی، آج اپنی بہت سی روایات سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے دیہی معاشرے میں گھڑ سواری، نیزہ بازی، کتوں کے ذریعے خرگوش کا شکار، بیلوں کی دوڑ اور بعض علاقوں میں تربیت یافتہ کتوں کے ذریعے جنگلی سور کا شکار جیسی سرگرمیاں صدیوں سے ثقافت کا حصہ رہی ہیں۔ بعض انسان دوست پرندے بڑے شوق سے رکھے جاتے تھے اور باقاعدہ فیس ادا کر اجازت نامہ حاصل کیا جاتا تھا پرندوں کی مارکیٹوں سےلوگوں کو روز کار ملتا تھا وقت کے ساتھ ساتھ ان سرگرمیوں پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں اور جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے محکمہ وائلڈ لائف قائم کیا گیا۔ ایک زمانہ تھا جب کسانوں کو کھیتوں کو نقصان پہنچانے والے جنگلی سور کو مارنے پر باقاعدہ فی جانور انعام دیا جاتا تھا۔
تاہم آج صورت حال مختلف ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آبی اور جنگلی حیات بھی اپنے انداز میں شکوہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ربِ کائنات نے اس دنیا کو نہایت خوبصورت اور متوازن نظام کے تحت پیدا کیا ہے۔ اسی رب نے زمین پر بسنے والی ہر مخلوق کو ایک خاص مقصد اور کردار عطا کیا ہے۔ انسان کو عقل و شعور دیا گیا تاکہ وہ اس نظام کو سمجھ سکے اور اس کی حفاظت کرے۔
زمین پر موجود ہر جاندار اپنے مخصوص ماحول اور حالات کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ پرندوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو موسموں کی تبدیلی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتی ہے۔ سردیوں کے آغاز پر مغربی اور شمالی سرد علاقوں سے بے شمار پرندے نسبتاً گرم علاقوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے تارکینِ وطن پرندے سردیوں میں ایشیا کی جھیلوں، دریاؤں اور دلدلی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جسے پرندوں کی ہجرت کہا جاتا ہے اور یہ ربِ کائنات کے بنائے ہوئے فطری نظام کا حصہ ہے۔سرد علاقوں میں جب برف باری شروع ہو جاتی ہے اور خوراک کی کمی پیدا ہوتی ہے تو پرندوں کیلئے وہاں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس مشکل سے بچنے کیلئے وہ ہزاروں میل کا طویل سفر طے کرتے ہیں اور ایسے علاقوں میں آتے ہیں جہاں موسم معتدل ہو اور خوراک باآسانی دستیاب ہو۔ ایشیا کے بہت سے ممالک میں جھیلیں، دریا اور دلدلی علاقے ان مہمان پرندوں کیلئے بہترین پناہ گاہ ثابت ہوتے ہیں۔ یہاں انہیں مچھلیاں، آبی پودے اور دیگر چھوٹے جاندار بآسانی مل جاتے ہیں۔ایسے ماحول میں یقیناً آبی حیات بھی مہمان پرندوں کی آمد سے متاثر ہوتی ہوگی۔ جب بڑی تعداد میں پرندے کسی جھیل یا دریا پر اترتے ہیں تو وہاں کی فضا میں اچانک ہلچل بڑھ جاتی ہے۔ مچھلیاں، مینڈک اور دیگر آبی جاندار جو پہلے سکون سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، انہیں خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ مہاجر پرندے اکثر اپنی خوراک کیلئے مچھلیوں اور چھوٹے آبی جانداروں کا شکار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے آبی مخلوقات کو اپنی بقا کیلئے زیادہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ گویا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آبی حیات مہمان پرندوں سے شکوہ کر رہی ہو کہ ان کی آمد سے ان کے ماحول کا سکون متاثر ہو گیا ہے۔لیکن اگر اس معاملے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ کے بنائے ہوئے اس نظام میں ہر مخلوق کا اپنا کردار ہے۔ مہاجر پرندے نہ صرف اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں بلکہ ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بہت سے نقصان دہ کیڑوں کو ختم کر دیتے ہیں اور کئی پودوں کے بیج ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس طرح قدرتی نظام متوازن اور متحرک رہتا ہے۔ان مہاجر پرندوں کی آمد انسانوں کیلئے بھی خوشی اور دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔ دنیا بھر سے سیاح ایسے مقامات کا رخ کرتے ہیں جہاں یہ پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ اس سے سیاحت کو فروغ ملتا ہے ۔
حکومت پنجاب نے بھی اسی مقصد کیلئے محکمہ وائلڈ لائف قائم کر رکھا ہے جو مہمان پرندوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے کام کرتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سالٹ رینج اور دیگر قدرتی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دیا جائے تاکہ آنے والے سیاحوں کو خوبصورت مناظر کے ساتھ بے خوف جنگلی حیات اور نایاب نسل کے پرندے دیکھنے کو ملیں۔تاہم اس شعبے میں کچھ مسائل بھی موجود ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف ابھی تک مکمل طور پر خودمختار ادارہ نہیں بن سکا اور اکثر اوقات بیوروکریسی کے زیرِ اثر رہتا ہے۔ بعض اہم عہدوں پر افسران برسوں تک تعینات رہتے ہیں جس کے باعث انتظامی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً غیر قانونی شکار کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں ۔اگر حکومت اور محکمہ وائلڈ لائف چند مخصوص مقامات کو بہتر منصوبہ بندی کے تحت سیاحتی مراکز میں تبدیل کر دیں، جھیلوں، ڈیموں اور بیراجوں کے اطراف ماحول کو دلکش بنا دیں اور شکار یا سیاحت کیلئے شفاف نظام قائم کریں تو اس سے نہ صرف شوقین افراد کو مواقع ملیں گے بلکہ قومی خزانے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ اس طرح مقامی لوگ بھی روزگار حاصل کر سکیں گے اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مہاجر پرندوں کی ہجرت ربِ کائنات کی قدرت کا ایک حیرت انگیز مظہر ہے۔ یہ عمل ماحولیاتی توازن کے لیےبھی ضروری ہے۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ رب کی دی ہوئی اس زمین اور اس میں بسنے والی مخلوقات کی حفاظت کرے۔ اگر ہم ذمہ داری اور شعور کے ساتھ قدرتی وسائل کا خیال رکھیں تو پرندے، آبی مخلوقات اور انسان سب مل کر اس دنیا کو خوبصورت اور زندہ رکھ سکتے ہیں۔