• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ معصومیت، محبت، رشتوں، بستیوں، گلیوں، خوابوں اور ہنسی پر اترتے شعلوں کا ظلم ہے۔ موت کے سوداگروں کا مجرمانہ کاروبار ہے۔ میں نے جنگ کو پہلی بار اپنی ماں کی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ہندوستان کا بٹوارا ہوا تو ماں آٹھ یا شاید نو برس کی رہی ہو گی۔ یہ کہانی میں نے گرمیوں کی اندھیرے میں اترتی شاموں اور سردیوں کی گہری خاموش راتوں میں اتنی بار سنی کہ اس کا دکھ میری ہڈیوں میں اتر گیا۔جب اُدھر والے پنجاب سے مذہب کے نام پر لالچ، ہوس، لوٹ مارکے وحشیانہ شعلوں سے بھاگتے غیر مسلم مشرقی پنجاب میں ہمارے نیم خوابیدہ قصبے میں پہنچے تو گلیوں میں بندوق، بلم اور کرپانوں کا طوفان اتر آیا۔ یہ مرتب نقل مکانی نہیں تھی۔ جس کا جدھر منہ اٹھا بھاگ نکلا۔ ماں نے اپنی کپڑے سے بنائی گڑیائیں الماری میں سمیٹ دیں اور بڑے بھائیوں کی انگلی پکڑ کر بھاگتی ہوئی اسٹیشن کی طرف دوڑی۔ ماں پھر کبھی ان گڑیائوں کو نہیں دیکھ سکی تھی۔ پاکستان میں متروکہ املاک کی چھین جھپٹ، تحریک آزادی کے من گھڑت قصوں اور زورآوری کی حکمرانی پیدا ہونے والی بے گھری کا قصہ الگ ہے۔ کئی دہائیوں بعد آ پ کے نیازمند نے یہ دکھ لکھنا چاہا تھا۔

پرندے ہجرتوں میں تھے/ مگر ان گھاس کے چھوڑے ہوئے تنکوں کو/ پھر بھی گھر سمجھتے تھے/ جہاں پہ سینت کے رکھے تھے/ بچوں کے کھلونے / آنے والے کل کے خواب / آنسوئوں میں جھلملاتا ماتمی چہرہ بہن کا / مرے پیچھے سمندر تھا۔

بے گھری اور موت کی اس کہانی پر چھ دہائیاں گزر گئیں۔ والٹن کیمپ ختم ہوا اور نہ سکھ کا وہ گائوں آباد ہو سکا جس کے خواب اسلامیہ کالج کے ان گڑھ جوانوں نے جوش خطابت میں تراشے تھے۔ 1962 ءمیں بڑے بھائی چھوڑے ہوئے قصبے میں پہنچے تو انہیں اپنا گھر مل گیا جہاں اب ایک سکھ گھرانہ آباد تھا۔ سندھ سے ہجرت کرنے والے کہانی کار ولی رام ولبھ کا افسانہ ’ملبے کا مالک‘ تو ہم میں سے بہت سوں نے پڑھ رکھا ہے۔ چھوڑی ہوئی گلیوں اور مکانوں کے ملبے کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔ یہ ملبہ تو دلوں میں کہیں تلچھٹ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ بھائی چوڑے بازار کی گلیوں میں ادھر اْدھر گھوم رہے تھے کہ ایک سکھ نے انہیں پہچان لیا اور کہا کہ آپ کی ایک امانت ہمارے گھر میں محفوظ ہے۔ اندر گیا اور جزدان میں لپٹا ہوا کلام مقدس کا نسخہ اٹھا لایا اور عقیدت سے چوم کر بھائی کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔ رواں صدی کی دوسری دہائی میں مجھے ہندوستان جانا تھا۔ معلوم ہوا کہ دہلی کے سفر میں کہیں وہ قصبہ بھی آئے گا جہاں ایک نوجوان سکھ نے حمائل شریف کو سینے سے لگائے حکیم شریف پر حملہ آور سکھ غنڈے کو گولی مار دی تھی۔ جالندھر سے ہوتے ہوئے ہماری گاڑی اس قصبے تک پہنچی تو شام گہری ہو رہی تھی۔ میری درخواست پر گاڑی روکی گئی۔ دل کڑا کر کے نیچے اترا لیکن پیروں کے نیچے زمین یوں لرزی کہ اچک کر گاڑی میں آ بیٹھا۔ بند ٹوٹ گیا۔ یہ کیفیت بیان کرنے کی نہیں تھی۔ یہ تو تاریخ کا جبر تھا۔ تب مجھے احمد شمیم یاد آئے۔ سرینگر کے احمد شمیم کو اپنی والدہ سے بے پناہ محبت تھی۔ شہر کے بیچوں بیچ بہتی نہر سے رشتہ قائم رکھنا ممکن نہ رہا تو اکیس برس کی عمر میں پاکستان چلے آئے۔ احمد شمیم 1964 میں والدہ کے انتقال تک پھر کبھی ان سے نہیں مل سکے۔ احمد شمیم کی نظم ’کبھی ہم خوبصورت تھے‘ اردو شاعری میں ماں بیٹے کے رشتے کی عظیم ترین نظم ہے۔

منیر نیازی کی شاعری میں وحشت اور دہشت کا بیان ہوشیار پور کے جنگلوں سے اٹھنے والی مہک کی بازیافت ہی تو ہے۔ بیسویں صدی شروع ہوئی تو خیال تھا کہ انسان جنگ کی بے رحم تباہی سے نجات پا چکا ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ جنگ رنگین تمغوں سے سجی وردیوں میں ملبوس جرنیلوں کے لیے بے نام سپاہیوں کی موت کے سندیسے بھیجنے کا پیشہ ہے اور جنگ کی تباہی سے محفوظ فاصلوں پر بیٹھے دفتروں میں اسلحے کے بیوپاریوں کا کاروبار ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں چار کروڑ انسان کھیت رہے۔ اخبار کی بے رنگ سرخی تو صرف یہ بتاتی تھی کہ ’مغربی محاذ خاموش ہے‘۔ سومے اور مارنے کی کیچڑ بھری خندقوں میں مرنے والے بے چہرہ سپاہیوں کی بے بسی لکھنا صحافی کا کام نہیں۔ شاعر اس دکھ کو سمجھتا ہے۔ 1918 میں آئرش پادری Edward Flanagan نے ایک کمسن بچے کو اپنے معذور بھائی کو پیٹھ پر اٹھائے منطقہ جنگ سے گزرتے دیکھا تو پوچھا ’کیا یہ بھاری ہے؟۔ بچے نے معصومیت سے جواب دیا ’نہیں میرا بھائی ہے‘۔ اس معصوم جملے کو امریکی گیت نگار Kelly Gordon نے 1969 میں ایک گیت میں ڈھالا تھا۔ ویت نام کی لڑائی میں یہ گیت جنگ کی تباہی میں انسانی ہمدردی کے اٹوٹ بندھن کا استعارہ بن گیا۔ بیسویں صدی میں ہم نے کیا نہیں دیکھا۔ دو عالمی جنگیں، ویت نام کی لڑائی، کوریا کی قیامت، لاطینی امریکا کی بے نام لڑائیاں، افریقہ میں کرائے کی خانہ جنگیاں، فلسطین میں بارود اور بے گھری کا کھیل۔ لاس اینجلس میں ہدایت کاروں کو جنگ کا منظر دکھانا ہو تو ایک میز پر مصنوعی بستیاں سجا کر عکس بندی کے کمال سے زمیں بوس ہوتی عمارتیں دکھا دیتے ہیں۔ آج کل ہم خلیج میں یہی قیامت دیکھ رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ بھڑکتے شعلوں میں تاش کے پتوں کی طرح زمیں بوس ہوتی بلند و بالا عمارتیں کسی میز پر سجایا فلمی سیٹ نہیں ہیں اور ان میں مرنے والے پلاسٹک کے کھلونے نہیں، جیتے جاگتے انسان ہیں اور بچ رہنے والوں کی آنکھوں سے بہتی تلخی کا اندازہ اس شخص کو نہیں ہو سکتا جوفلوریڈا میں پام بیچ کے کنارے سترہ ایکڑ پر پھیلے اپنے عشرت کدے مارا لاگو کی محفوظ دیواروں میں بیٹھا اپنے کندہ ناتراش امریکی لہجے میں دنیا کے لیے تباہی کے احکامات جاری کر رہا ہے۔ ٹرمپ آج کی دنیا میں ہٹلر، اسٹالن اور مائو ہی کا نہیں، جنرل پیٹن، آئزن آور، فاسٹر ڈلس اور میکارتھی کا جانشین ہے۔ امریکا ہی کو نہیں، پوری انسانیت کو ابراہم لنکن کے گیٹس برگ خطبے کی طرف لوٹنے کی جیسی ضرورت آج ہے، ماضی میں کبھی نہیں تھی۔

تازہ ترین