کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا کا ایران کے افزودہ یورینیم پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی پر غور، اصفہان اور نطنز کے جوہری مراکز میں یورینیم موجود ہونیکا شبہ، بڑی تعداد میں زمینی فوج تعیناتی کی ضرورت ہے، ایسی کارروائی جنگ کو مزید خطرناک مرحلے میں لے جا سکتی ہے، جس میں تابکار مواد کی محفوظ منتقلی شامل ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کیلئے ممکنہ زمینی فوجی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔ یہ یورینیم زیادہ تر ایران کے اصفہان کے جوہری مرکز کے زیر زمین ذخیرے میں موجود ہے اور اسے حاصل کرنے کیلئے صرف خصوصی دستے نہیں بلکہ بڑی تعداد میں امریکی زمینی فوج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔