• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک خط تھا جس کی مخالفت پر شاعر مشرق علامہ اقبال کے خلاف جھوٹے الزامات کی بھر مار کر دی گئی ۔ ایک صدی گزرنے کے بعد علامہ اقبال کے مؤقف کی تائید برطانوی پارلیمنٹ کے بہت سے ارکان بھی کر رہے ہیں۔ یہ وہی خط تھا جسکے خلاف بے چینی نے اقبال کے اس مشہور شعر کو جنم دیا ۔

ہے خاکِ فلسطیں پر یہودی کا اگر حق

ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا ؟

یہ خط برطانیہ کے وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ایک صیہونی لیڈر لارڈ روتھ چائلڈ کو 1917 ء میں لکھا جسےاعلان بالفور بھی کہا جاتا ہے ۔ اس خط میں برطانوی وزیر خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ انکی حکومت فلسطین میں یہودیوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست قائم کرنے کیلئے تیار ہے ۔ علامہ اقبال اعلانِ بالفور کے خلاف سیاسی طور پر سرگرم ہو گئےتھے ۔ 1919 ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی سرکار کے قتل عام کے بعد پورے ہندوستان میں خوف کی فضا قائم تھی لیکن علامہ اقبال نے خوف و دہشت کے اس ماحول میں لاہور کے باغ بیرون موچی گیٹ میں دسمبر 1919 ء میں ایک جلسہ منعقد کیا اور اعلان بالفور کے خلاف قرار داد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ برطانوی حکومت تقسیم فلسطین کا اعلان واپس لے ۔ اس دوران 1923 ء میں برطانوی حکومت نے علامہ اقبال کو اُنکی کتاب"اسرار خودی"کی وجہ سے سر کا خطاب دیا ۔ "اسرار خودی" کا انگریزی ترجمہ کیمرج یونیورسٹی کے پروفیسر آر اے نکلسن نے کیا تھا اور اسی انگریزی ترجمے کے باعث شاعر مشرق کیلئے سر کے خطاب کا فیصلہ ہوا۔ کئی ماہرین اقبالیات کا خیال ہے کہ علامہ اقبال ماضی میں اس قسم کے سرکاری اعزازات وصول کرنے سے انکار کر چکے تھے لیکن سر کا خطاب قبول کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ برطانوی حکومت کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے ناقد ضرور ہیں لیکن کسی سے دشمنی نہیں رکھتے لہٰذا اُن کے سیاسی خیالات پر بھی توجہ دی جائے۔ سر کا خطاب لینے کے بعد بھی علامہ اقبال نے اعلان بالفورکی مخالفت جاری رکھی اور لیگ آف نیشنز کو کفن چوروں کی انجمن قرار دیدیا ۔ اُس زمانے میں لیگ آف نیشنز کا ہیڈ کوارٹر جنیوا میں تھا ۔ اقبال نے "ضرب کلیم" میں شامل اپنی نظم "فلسطینی عرب " میں کہا کہ" تری دوا نه جنیوا میں ہے نہ لندن میں....فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے۔"1929 ء میں علامہ اقبال نے باغ بیرون موچی گیٹ لاہور میں ایک اور جلسے کی صدارت کی اور اعلان بالفور کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ 1931 ء میں علامہ اقبال نے مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی دعوت پر بیت المقدس میں فلسطین کانفرنس میں شرکت کی ۔ یہاں ایک تقریر میں علامہ اقبال نے کہا کہ انہیں مسلمانوں کے دشمنوں سے زیادہ خطرہ نہیں لیکن کچھ مسلمانوں سے زیادہ خطرہ ہے ۔ علامہ اقبال کی تقریر انگریزی میں تھی اور عبد الرحمن عزام اُنکی تقریر کا عربی ترجمہ کر رہے تھے ۔ اس کانفرنس میں شرکت کے بعد وہ کچھ عرب ممالک کی حکومتوں پر تنقید کرنا شروع ہو گئے ۔ ایک جگہ فرمایا"قافلہ حجاز میں ایک حسین ؓ بھی نہیں...گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئےدجلہ و فرات " علامہ اقبال نے اپنی وفات تک تقسیم فلسطین اور اعلان بالفور کی مخالفت جاری رکھی جسکے نتیجے میں انگریزوں کے وفادار اُن پر جھوٹے الزامات لگاتے رہے لیکن اقبال کا موقف مزید سخت ہوتا گیا ۔ فرمایا"زندہ کر سکتی ہے ایران و عرب کو کیونکر...یہ فرنگی مَدنیّت کہ جو ہے خود لبِ گور!"آج جس تہران پر امریکا اور اسرائیل بمباری کر رہے ہیں اقبال کے کلام میں اس تہران کو طہران لکھا گیا ہے۔ایک جگہ کہتے ہیں"طہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا...شاید کُرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!"علامہ اقبال نے لیگ آف نیشنز کو کفن چوروں کی انجمن قرار دیا تھا ۔ 1946 ء میں اسکا خاتمہ ہو گیا اور اسکی جگہ اقوام متحدہ نے لے لی ۔ اس اقوام متحدہ کے ذریعے اعلان بالفور پر عمل درآمد کرایا گیا اور 1948 ء میں اسرائیل قائم ہو گیا۔جب اسرائیل قائم ہوا تو علامہ اقبال زندہ نہیں تھے لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے اقبال کی سوچ کے عین مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ اعلان بالفور کو ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا اور آج برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ برطانوی وزیراعظم اعلان بالفور اور اسرائیل کے قیام پر معافی مانگیں کیونکہ اس معاملے میں برطانیہ کے کردار نے دنیا کو امن نہیں بلکہ صرف جنگیں دی ہیں ۔ چند دن پہلے مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے برطانوی پارلیمنٹ کے 45 ارکان نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمرکو لکھے جانے والے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں صرف اپنے ماضی کی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرنا بلکہ اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا ہے اور تاریخ کو درست کرنے کیلئے اعلان بالفورپر معافی مانگنی چاہیے ۔ برطانوی پارلیمنٹ کے مزید ارکان اس خط کی حمائت کرنے والے ہیں اور اسے قرارداد کی صورت میں ایوان سے منظور کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ یہ قرارداد منظور ہو یا نہ ہو لیکن 45 ارکان پارلیمنٹ کے خط نے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے موقف کو سچا ثابت کر دیا ہے۔ ایک بھارتی مصنف تارا چرن رستوگی نے علامہ اقبال کے خلاف ایک کتاب لکھی تھی جس میں ان کی کردار کشی کیلئے من گھڑت قصے کہانیاں شامل کئے گئے اور کہا گیا کہ اقبال تو کشمیری النسل بھی نہیں تھے ۔ تارا چرن رستوگی جیسے بددیانت تاریخ دانوں کے دل میں اقبال کی فکر ہمیشہ ایک کانٹا بن کر چبھتی رہے گی کیونکہ یہ سامراجی گماشتے اپنی تمام تر کوشش کے باوجود فکر اقبال کو منہدم نہیں کر سکے ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ فکر اقبال کی سچائی پہلے سے زیادہ آب و تاب کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہی ہے ۔ وہ لیگ آف نیشنز جسے آج اقوام متحدہ کہا جاتا ہے اسے اقبال جمعیت اقوام کے نام سے پکارتے تھے ۔ اقبال نے "جمعیت اقوام" کو کسی کی داشتہ قرار دیتے ہوئے کہا"ممکن ہے کہ یہ داشتۂ پِیرکِ افرنگ ...اِبلیس کے تعویذ سے کچھ روز سنبھل جائے"یہ اقوام متحدہ تو آج کسی کی داشتہ بھی نہیں رہی کیونکہ دور جدید کے ابلیس اس کے کسی فیصلے اور قرارداد کو نہیں مانتے۔ کسے معلوم تھا کہ جس تہران کو علامہ اقبال عالم مشرق کا جنیوا بنانا چاہتے تھے وہ 2026 میں اپنے عہد کے ابلیسوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن کر کھڑا ہو جائے گا اور دنیا بھر کے مسلمان اپنے تمام تر اختلافات کو بھول کر تہران کی کامیابی اور سلامتی کیلئے دعائیں مانگیں گے۔ ابلیس کے تعویذسے شائد اسرائیل کچھ دن اور سنبھل جائے لیکن اسرائیل نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے اس جنگ کی اصل وجہ 1917 ء میں لارڈ بالفور کی طرف سے لکھا جانے والا ایک خط ہے جسے علامہ اقبال نے مسترد کر دیا تھا ۔ 2026 ء میں اس خط کو برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان بھی مسترد کر رہے ہیں لہٰذا مسلم دنیا کے حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ آج کے کسی ابلیس کے تعویذ پر تکیہ کرنے کی بجائے فکر اقبال سے رجوع کریں جو ایک صدی بعد بھی تاریخ کی درست سمت پر کھڑی نظر آئے گی۔

تازہ ترین