• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا چین لڑے بغیر امریکی F35 طیاروں کو ناکارہ بنا سکتا ہے؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

چین ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے جبکہ امریکا دنیا کو تنازعات میں الجھانے کے لیے اربوں روپے ہتھیار اور راڈارز پر ضائع کر رہا ہے۔

چین کا 15 واں 5 سالہ منصوبہ دنیا بھر کی لیبارٹریز، فیکٹریز اور اہم ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کا پورا ایک روڈ میپ ہے، اس منصوبے کا مقصد پوری چینی معیشت میں مصنوعی ذہانت کو سرایت کرانا ہے۔ 

چین میں سکڑتی ہوئی افرادی قوت سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لیے  روبوٹس تیار ہیں جب کہ کچھ چینی پراجیکٹس انسانی دماغوں کو براہِ راست کمپیوٹر سے جوڑنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا جدید کمپیوٹر چپس بنانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے جبکہ چین ایک وسیع ٹول کٹ بنا رہا ہے، اس میں ٹول کٹ میں کوانٹم کمپیوٹنگ، 6 جی نیٹ ورکس اور اوپن سورس سافٹ ویئرز شامل ہیں۔

مشترکہ ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، چین امریکا کو پیچھے چھوڑنے اور مغربی اجزاء پر انحصار کو کم کرتے ہوئے  مقامی سطح پر بنیادی ٹیکنالوجیز بنانے میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔

نایاب معدنیات کا کنٹرول چین کی حکمتِ عملی کا مرکز ہے، مثال کے طور پر، صرف ایک ایف 35 اسٹیلتھ جیٹ کو بنانے کے لیے بھی نایاب معدنیات کے سیکڑوں پاؤنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا چین نایاب معدنیات کی دوسری قوموں تک رسائی کو تیزی سے محدود کر رہا ہے۔

امریکا کے انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ بیرونِ ملک تنازعات میں ختم ہو رہا ہے اور چین ان کی مزید پیداوار کے لیے درکار وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔

اگر چین روبوٹکس اور اے آئی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے ساتھ نایاب معدنیات پر بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب رہا، تو اگلے عالمی ٹیکنیکل مقابلے کا نتیجہ لڑاکا طیاروں کے اڑان بھرنے سے بہت پہلے گوداموں میں ہی سامنے آ سکتا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین کے اس منصوبے کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جس کے تحت جنگوں میں استعمال ہونے والے تمام تر ساز و سامان کو بنانے کے لیے درکار وسائل چین کی گرفت میں رہیں۔

اس طرح چین بغیر لڑے ہی امریکا کے ایف 35 اسٹیلتھ جیٹ کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید