اسلام آباد (خصوصی رپورٹ/ زبیر قصوری)پنکی کا مبینہ رابطہ نیٹ ورک، بیورو کریٹس، سفارتی و بااثر شخصیات کے نمبرز سامنے آگئے۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے سے مدد مانگ لی، مبینہ منی لانڈرنگ پہلو بھی تحقیقات میں شامل۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں مبینہ طور پر لیک ہونے والی ایک حساس تحقیقاتی رپورٹ نے نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ سرکاری، سفارتی اور قانون نافذ کرنے والے حلقوں میں بھی تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ دستیاب ڈیٹا اور اسپریڈ شیٹ کے ابتدائی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف چند فون نمبرز کی فہرست نہیں بلکہ ایک وسیع رابطہ نیٹ ورک کا خاکہ معلوم ہوتا ہے، جس میں مختلف شہروں، شعبوں اور بااثر حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے روابط شامل دکھائی دیتے ہیں۔