• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوریت میں اپوزیشن کو ہمیشہ حکومت کا مقابل سمجھا جاتا ہے، مگر بعض اوقات حالات اس قدر الٹ ہو جاتے ہیں کہ اپوزیشن ہی حکومت کی سب سے بڑی سہولت کار بن جاتی ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامہ اسی عجیب تضاد کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ بظاہر حکومت پر تنقید کاشورہے،بیانات کی گھن گرج ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوںکو کسی سنجیدہ سیاسی دباؤکاسامنانہیں۔وجہ سادہ ہے،اپوزیشن اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر ایک ہی شخصیت اور ایک ہی نکتے کے گرد گھوم رہی ہے۔حقیقی اپوزیشن وہ ہوتی ہے جو عوامی مسائل کو اپنا ایجنڈا بنائے،مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بل، صحت، تعلیم، بدعنوانی، اقربا پروری مگریہاں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں اپوزیشن کی سیاست کا مرکز عوام نہیں بلکہ صرف عمران خان کی ذات اور ان سے متعلق معاملات بن چکے ہیں۔ ان کی ملاقاتیں، سہولیات اور قانونی معاملات یقیناً اہم ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا کروڑوں شہریوں کے مسائل اس سے کم اہم ہیں؟ جب ایک جماعت، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف جیسی بڑی سیاسی قوت، اپنی تمام توانائیاں ایک ہی مقصد پر صرف کر دے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ حکومت کو ہی ہوتا ہے۔

حکومتیں ہمیشہ اس اپوزیشن سے خوفزدہ رہتی ہیں جو پالیسی پر بات کرے، بجٹ کا پوسٹ مارٹم کرے، فیصلوں کے اثرات عوام تک پہنچائے اور سڑکوں سے پارلیمان تک مسلسل دباؤ برقرار رکھے۔ مگر جب اپوزیشن خود ہی عوامی مسائل سے لاتعلق ہو جائے تو حکمرانوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی بڑھتی ہے، یوٹیلیٹی بل آسمان کو چھوتے ہیں، بے روزگاری پھیلتی ہے، مگر کوئی بڑی عوامی تحریک جنم نہیں لیتی۔سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض مواقع پر اپوزیشن کے بیانات قومی مفاد سے متصادم محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب پاکستان کو سرحدی یا دفاعی کشیدگی کا سامنا ہو، تو سیاسی اختلاف کے باوجود قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں یہی روایت ہے۔ مگر یہاں ایسے مواقع بھی آئے جب کشیدگی کے دوران بھارت کے ساتھ تنازع ہو یا خطے میں جنگی فضا بنے، تو اپوزیشن کے بعض حلقوں کی تنقید کا رخ حکومت کے بجائے پاکستانی فوج کی طرف مڑ گیا۔ اسی طرح جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی تو توقع تھی کہ قومی سطح پر یکجہتی کا پیغام دیا جائے گا، مگر بعض بیانات نے الٹا تاثر پیدا کیا۔

مزید حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ملک کو مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خطرات لاحق ہوں اور ریاستی ادارے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہوں، مگر سیاسی بیانات ایسے عناصر کے حق میں نرم گوشہ ظاہر کریں۔ خصوصاً افغانستان سے جڑے سیکورٹی معاملات میں اگر کوئی سیاسی جماعت یا اس کے حامی حلقے طالبان کے بارے میں ہمدردانہ لب و لہجہ اختیار کریں تو یہ نہ صرف ریاستی بیانیے سے ٹکراؤ پیدا کرتا ہے بلکہ عوام میں بھی تشویش کوجنم دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرز سیاست سے کسی رہنما کو ریلیف مل سکتا ہے؟ حقیقت اسکے برعکس ہےایسی حکمت عملی جماعت اوراسکے قائد دونوں کیلئے مشکلات بڑھاتی ہے، کم نہیں کرتی۔صوبائی کارکردگی بھی کسی سیاسی جماعت کی سنجیدگی کا امتحان ہوتی ہے۔ اگر کوئی جماعت ایک صوبے میں حکومت کر رہی ہو اور وہاں امن و امان، روزگار اور صحت کی سہولیات کے مسائل برقرار رہیں تو اس کا اثر اس کی قومی ساکھ پر لازماً پڑتا ہے۔ عوام یہ دیکھتے ہیں کہ جو جماعت اپنے زیرِ انتظام علاقے کے مسائل حل نہیں کر سکی، وہ پورے ملک کے مسائل کیسے حل کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ روزگار کیلئےنوجوانوں کی دوسرے صوبوں کی طرف ہجرت اور علاج کیلئے دوسرے شہروں کا رخ کرنا سیاسی دعووں پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

اصل خطرہ یہ نہیں کہ اپوزیشن کمزور ہے اصل خطرہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو سمجھنے کے بجائے اسے کامیابی سمجھنے لگے۔ کارکنوں کے نعروں اور جلسوں کے شور سے وقتی تاثر ضرور بنتا ہے، مگر عوامی اعتماد صرف نعروں سے نہیں بلکہ ترجیحات سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو جائے کہ ان کے مسائل سیاسی ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تو وہ آہستہ آہستہ سیاسی عمل سے لاتعلق ہونے لگتے ہیں۔ یہی لاتعلقی جمہوریت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔اپوزیشن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست صرف احتجاج کا نام نہیں، حکمت کا بھی نام ہے۔ تنقید کرنا حق ہے مگر ایسی تنقید جو ریاستی مفاد کو نقصان پہنچائے، وہ خود اپوزیشن کیلئے نقصان دہ بن جاتی ہے۔ ایک بالغ نظر اپوزیشن وہ ہوتی ہے جو حکومت کو سخت سوالوں میں جکڑے مگر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور دہشت گردی جیسے حساس معاملات پر ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرے۔آج عوام کو نعروں والی اپوزیشن نہیں، انہیں ایسی آواز درکار ہے جو پارلیمان میں بھی ان کی نمائندگی کرے اور سڑکوں پر بھی۔ اگر اپوزیشن واقعی عوام کی بات کرے گی تو عوام بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے لیکن اگر وہ صرف شخصیات کے گرد گھومتی رہی تو عوام بھی آہستہ آہستہ کنارہ کش ہو جائیں گے۔ پھر نہ احتجاج مؤثر رہے گا، نہ جلسے، نہ بیانیہ۔جمہوریت کا اصول سادہ ہے: مضبوط حکومت وہ نہیں جسکے پاس زیادہ طاقت ہو، بلکہ وہ ہے جسکے سامنے مضبوط اپوزیشن موجود ہو۔ جب اپوزیشن کمزور ہو تو حکومت مضبوط نہیں بلکہ بے لگام ہو جاتی ہےاور بے لگام اقتدار کبھی عوام کے حق میں ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن ہوش کے ناخن لے، اپنی ترجیحات درست کرے، اور ملک کیلئے مسئلہ بننے کے بجائے حل کا حصہ بنے۔ کیونکہ اگر اپوزیشن اپنا کردار ادا نہ کرے تو نقصان صرف اس کا نہیں، پورے نظام کا ہوتا ہے۔

تازہ ترین