• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل فلسطینیوں کو اپنے ہی گھر مسمار کرنے پر مجبور کر رہا ہے: رپورٹ

فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی حکام کی سخت پالیسیوں کے سبب فلسطینی شہریوں کو اپنے ہی گھروں کو خود مسمار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ یروشلم میں تعمیراتی اجازت نامہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

یروشلم کے علاقے صور باہیر کی رہائشی بسمہ دبش روزانہ اپنے اس گھر کو یاد کر کے رو پڑتی ہیں جسے انہیں اور ان کے شوہر رائد دبش کو مجبوراً خود گرانا پڑا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے 2014ء میں ان کے گھر کو مسمار کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جنوری 2026ء میں خاندان کو گھر خالی کرنے کا نوٹس ملا اور 12 فروری کو انہیں اپنا گھر خود مسمار کرنا پڑا، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو انہیں بلدیہ کو مسماری کے اخراجات ادا کرنا پڑتے جو تقریباً 1 لاکھ شیکل (تقریباً 32 ہزار ڈالرز) تک پہنچ سکتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق بسمہ دبش کا کہنا ہے کہ میں نے پہلے گھر کے اندرونی حصے کو توڑا اور تصاویر بلدیہ کو بھیجیں تاہم حکام نے فوری طور پر باہر سے بھی مکمل مسماری کا مطالبہ کیا، آخرکار خاندان نے دونوں گھر گرا دیے جہاں 8 افراد رہتے تھے جن میں 3 بچے بھی شامل تھے۔

گھر مسمار کرنے کے باوجود خاندان پر 45 ہزار شیکل (تقریباً 14 ہزار 600 ڈالرز) جرمانہ عائد کیا گیا جو وہ 2029ء تک قسطوں میں ادا کریں گے۔

عرب میڈیا کے مطابق دوسری طرف اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے لیے اجازت نامے آسانی سے مل جاتے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے یروشلم گورنریٹ کے ترجمان معروف الرفاعی کے مطابق حالیہ مہینوں میں خود مسماری کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔

رواں سال فروری میں 15، جنوری میں 5 جبکہ دسمبر میں فلسطینیوں کی جانب سے اپنے گھر خود مسمار کرنے کے 104 واقعات ریکارڈ ہوئے۔

معروف الرفاعی نے بتایا ہے کہ 2025ء میں مشرقی یروشلم اور اس کے اطراف میں 400 گھروں کو مسمار کیا گیا جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید