جنگ حواس پر اتنی زیادہ سوار ہوگئی ہے کہ لوگوں کی گفتگو بھی جنگی ہوگئی ہے۔کل سڑک پر دو موٹرسائیکل والوں کی لڑائی دیکھی۔ ایک نوجوان منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دوسرے کو دھمکی لگا رہا تھا ’میں تیرا آبنائے ہرمز بند کردوں گا‘۔دوسرے نے بھی ڈولے بنا کر غراتے ہوئے کہا’آئرن ڈوم ہوں میں‘۔ہمسائے میں میاں بیوی کی لڑائی ہورہی تھی، بیوی تھوڑا زورسے چیخی تو شوہر کی دبی دبی آواز آئی’بیگم اتنا ہائپر سونک ہونے کی کیا ضرورت ہے‘۔فی الحال جنگی پاپڑ تو دیکھنے کو نہیں ملے لیکن اُمید ہے کسی پرنٹنگ پریس پر اس کے ریپر تیار ہورہے ہوں گے۔ایک بابا جی گھر سے تل خریدنے آئے تھے، دوکان پر آکر بھول گئے اور بولے’آدھا کلو تل ابیب دے دو‘۔کزن کا بیٹابڑے جوش سے بتا رہا تھا کہ انکل رات کوسحری ختم ہونے میں پانچ منٹ رہ گئے تھے میں میزائل کی طرح جاکے جلدی سے دہی لے آیا۔جولوگ پہلے کہتے تھے ’جا تیرا بیڑا غرق ہو‘ وہ آج کل ’جا تیرا بحری بیڑا غرق ہو‘ کہنے لگے ہیں۔ڈرون چائے بھی آگئی ہے۔سب سے منفرد بات میرے ڈرائیورنے کی۔بتائے بغیر چھٹی کرلی۔وجہ پوچھی تو عاجزی سے بتانے لگا کہ طبیعت بہت خراب تھی اس لیے ڈاکٹر کے کہنے پریورینیم کا ٹیسٹ کروانے گیا تھا۔
٭ ٭ ٭
دبئی ایئرپورٹ کی ایک وڈیو دیکھی تو دل دہل گیا۔ وہ ائیرپورٹ جو آنے والے لوگوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا اب جانے والوں سے بھرا ہوا تھا۔خوف و ہراس کی فضا میں لوگ اپنے اپنے وطن جانے کے لیے بے چین نظر آرہے تھے۔یہ وہ جگہ ہے جس کا شماردنیا کی محفوظ اور آزاد جگہوں کے طور پر کیا جاتا تھا۔آج یہاں خوف کے سائے منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔عید قریب ہے۔ جو پردیسی عید پر وطن کا چکر لگالیا کرتے تھے وہ بھی سہمے ہوئے ہیں کہ کب وطن جانا نصیب ہوتاہے۔ پردیسیوں کی کثیر تعداد مڈل ایسٹ میں محنت مزدوری کرکے گھر والوں کو پیسے بھیجتی ہے۔ موجودہ حالات میں سب اتھل پتھل ہوگیا ہے۔جنگ نے سب کو متاثر کردیا ہے۔حسب سابق بہت سے یوٹیوبر فوراً دفاعی تجزیہ کار بن گئے ہیں۔ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آج تک گھر میں ساس بہو کی لڑائی کا حل نہیں نکال سکے تاہم مشرق وسطی کی جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ان کے پاس ایک سو ایک تجاویز ہیں۔ان کے ’قابل اعتماد سورس‘بیرون ملک سے بھی خبریں بھیج رہے ہیں۔موجودہ جنگ میں خیر کی خبر یہ ہے کہ ہر مسلک اور ہر فرقہ کے لوگ ایران کے حق میں بات کر ر ہے ہیں کیونکہ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ بڑھتے ہوئے شعلوں کی شدت بتا رہی ہے کہ لو پھڑپھڑا رہی ہے۔جنگ خاتمے کے قریب ہے لیکن بربادی کی داستانیں پیچھے چھوڑ جائے گی۔
٭ ٭ ٭
کوٹ ببلوکسی بندرگاہ کا نہیں ایک جیتی جاگتی شخصیت کا نام ہے۔ آپ چونکہ بہت اچھے ویٹر ہیں اس لیے اپنے آپ کو صحافی کہلواتے ہیں، اکثر نابلد لوگ آپ کو معمولی انسان سمجھتے ہیں، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ آپ معمولی نہیں بلکہ بہت معمولی انسان ہیں۔ آپ بہت منکسر المزاج ہیں، ہر ایک سے جھک کر ملتے ہیں، تاہم آپ کے دشمنوں کا کہنا ہے کہ ایسا صرف آپ شوق کی وجہ سے کرتے ہیں۔ آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک منٹ میں بتا دیتے ہیں کہ اخبار الٹا پڑا ہوا ہے یا سیدھا۔
آپ کو بہت سے شوق ہیں، تاہم آپ کے کچھ شوق وقت کی کمی کے باعث پورے نہیں ہو سکے اور کچھ جگہ کی کمی کے باعث۔ آپ کا پسندیدہ لباس کوٹ پینٹ ہے، اسی لئے حلقہ احباب میں کوٹ ببلو کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ کوٹ آپ کو آپ کے سب سے چھوٹے بیٹے نے آپ کی پہلی شادی پر گفٹ کیا تھا۔ آپ یہ کوٹ پہن کر زور زور سے گانے گایا کرتے تھے اور شور کیا کرتے تھے لہذا اہل علاقہ نے آپ کے اس کوٹ کا نام شور کوٹ رکھ دیا،تاہم آج کل آپ کی ایک بیماری کی مناسبت سے اس کوٹ کا نام سیال کوٹ پڑ چکا ہے۔ آپ نے شادی بھی اسی کوٹ میں کی تھی جو بعد ازاں کوٹ میرج کے نام سے مشہور ہوئی۔کوٹ ببلو چونکہ خود کو صحافی کلیم کرتے ہیں اس لئے کوٹ کی سامنے والی جیب پر جلی حروف میں پریس لکھوا رکھا ہے، تاہم چند حاسدین کا کہنا ہے کہ یہ اصل میں ڈپریس لکھا ہوا تھا جس کا ’ڈال‘ بار بار کی دھلائی سے مٹ گیا ہے۔ میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے کوٹ قاسم جیسی جلیل القدر ہستی کے بارے میں ان صفحات پر کچھ لکھنے کا موقع مل رہا ہے، یہ مضمون تو ایک ابتدا ہے، انشاء اللہ زندگی رہی تو میں انہیں ایسی ایسی جگہ پر لکھوں گا جہاں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔آپ علی الصبح ساڑھے گیارہ بجے اٹھتے ہیں۔ ناشتہ لان میں کرتے ہیں حالانکہ مخالفین بضد ہیں کہ انسانی ناشتہ لان میں نہیں کچن میں ہونا چاہیے۔ ناشتے کے بعد آپ انگریزی اخبار سے ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ خواتین سے دوستی نبھانا بھی آپ پر ہی ختم ہے، ہر معاملے میں انہیں شریک رکھتے ہیں، ایک لڑکی کو تو اپنے معاملات میں اتنا شریک کر لیا کہ اب وہ آپ کی شریک حیات ہے۔ آپ عوام سے بہت پیار کرتے ہیں۔اتنا زیادہ کہ دفتر میں اکثر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے منگ پتہ کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ چونکہ دفتر کے اخراجات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں اس لیے آپ کا بال بال قرضے میں جکڑا جا رہا ہے، تاہم معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ اپنا بال بال قرضے سے چھڑوانے کی غرض سے اگلے ہفتے موقع پا کر ٹنڈ کروانے کا سوچ رہے ہیں۔میری دعا ہے کہ وہ اپنی ٹنڈ خود کروائیں۔آمین!