اے جی جوش مرحوم لاہو رکی ادبی فضا کا ایک خوشگوار کردار تھے۔ غصے اور محبت میںبے مثال اور شاعروں ادیبوںکیلئے وسیع القلب۔ میںنے جہاں سب کے خاکے لکھے، ان کا بھی لکھا۔ وہ غصہ کرگئے۔ ٹی ہاؤس میں ملے تو مجھے اشارے سے پاس بلایا۔چائے منگوائی اور کہنے لگے”تمہیں جلدقانونی نوٹس موصول ہوجائے گا۔“ میں نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور آہستہ سے پوچھا”اس کے بعد کیا ہوگا؟“جوش صاحب جوش سے بولے”پھر تمہیں سمن موصول ہوگا“۔ میں نے ایک گہری سانس لی ”عالی جاہ! میرے کمرے میں تو پہلے ہی اتنے سمن جمع ہوچکے ہیں کہ اب وہ سمن آباد لگنے لگا ہے۔“ یہ سنتے ہی جوش صاحب مزید غصہ کھاگئے اور بلند آواز بولے”میں نے بیس لاکھ ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے اور میں پیچھے نہیں ہٹوں گا“۔
میں نے کچھ دیرسوچا،پھر جوش صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا”مرشد! ایک بات تو طے ہے کہ میں بیس لاکھ نہیں دے سکوں گا اور ظاہری بات ہے جب بیس لاکھ نہیں دوں گا تو مجھے سزا ہوجائے گی سزا ہوگی تو جیل جاؤ ں گا لیکن جیل چلا گیا تووہاں بیٹھ کر آرام سے روزانہ آپ کا ایک خاکہ لکھا کروں گا“۔ میری بات سن کر جوش صاحب نے گھور کر میری طرف دیکھا اور پھر ان کا زوردار قہقہہ نکل گیا۔ اس کے بعد انہوں نے قانونی نوٹس واپس لے لیا۔ پرانے ٹی ہاؤس میں اسرارزیدی مرحوم بالکل سامنے والے صوفے پر خاموشی سے بیٹھے رہتے تھے‘ انہیں خاموشی اتنی پسند تھی کہ کوئی بات بھی کرتا تو عموماً خاموش ہی رہتے۔ایک دفعہ کسی نے چائے کا پوچھا؟ زیدی صاحب نے اثبات میں سرہلا دیا۔ چائے آگئی اور چائے پلانے والے صاحب بھی زیدی صاحب کے پاس براجمان ہوگئے۔ زیدی صاحب نے اطمینان سے چائے کی چسکیاں لینی شروع کیں۔اس دوران دوسرے صاحب مسلسل گفتگو کرتے رہے تاہم زیدی صاحب نے نہ انہیں ڈسٹرب کیا نہ خود ہوئے اور چائے ختم ہوتے ہی اطمینان سے اٹھ کر چلے گئے۔
٭ ٭ ٭
کوئی شک نہیں کہ ہم سب اپنے بیوی بچوں کیلئے کماتےہیں اور اپنے بعد بھی انہیں خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن پتا نہیں موت کی بات کرنا گھر میں نحوست کی علامت کیوں سمجھا جاتاہے؟عجیب منطق ہے، یعنی موت برحق بھی ہے اور منحوس بھی۔ اسی رویے نے ہمارے بے شمارکاموں میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ پتا نہیں کیوں بطور ایک باپ، ایک شوہر، ہمیں یقین ہوتاہے کہ چونکہ ہم گھر میں سب سے بڑے ہیں لہٰذا ہم سب سے آخر میں وفات پائیں گے حالانکہ اکثر معاملہ الٹ چل رہا ہوتاہے۔میں نے کئی ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جنہیں مرتےدم تک یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اپنی زندگی میں اپنے لواحقین کو خوشیاں دے جائیں، یہ خود بھی مرتے ہیں اور اپنے ساتھ اپنے تمام اکاؤنٹس بھی دفن کر جاتے ہیں۔ میرا ایک سینئر بینک آفیسر دوست بتا رہا تھا کہ ان کے بینک میں سینکڑوں ایسے اکاؤنٹس اور لاکرزموجود ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں، اکاؤنٹ ہولڈر زکی موت ہوچکی ہے اور بعد میں کسی کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ فلاں بینک میں ان کے باپ یا شوہر کا اکاؤنٹ تھا۔بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے بیوی بچوں کی بہتری کیلئے کوئی خفیہ اکاؤنٹ کھولا اور کسی کو بتائے بغیر وہاں پیسے جمع کراتے رہے، ایک دن موت نے آ ن گھیرا اور قبر میں جا سوئے۔اصل میں حالات کچھ ایسے ہوگئے ہیں کہ کوئی بھی کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں، باپ کو یہ ڈر ہے کہ اگر میں نے بیٹوں میں اپنی جائیداد تقسیم کر دی تو یہ میری قدر کرنا چھوڑ دیں گے، بیٹوں کو یہ ڈر ہے کہ باپ کچھ بتائے بغیر مر گیا توانہیں ایک ایک چیز کے حصول کے لیے عدالت کے چکر کاٹنا پڑیں گے۔بیوی کو یہ ڈر ہے کہ چونکہ وہ بینکنگ سسٹم سے نابلد ہے لہٰذا شوہر کی وفات کے بعد اس کی اولاد کوئی بھی ہینکی پھینکی کر سکتی ہے۔یہ سارے معاملات انتہائی آسانی سے سلجھ سکتے ہیں اگر کم ازکم میاں بیوی ہی ایک دوسرے پر اعتبار کرتے ہوئے نہ صرف موت کے بعد کے معاملات ڈسکس کریں بلکہ ایک دوسرے سے ضروری معلومات بھی شیئر کریں۔کیا فائدہ ایسی بچت کا جو نہ اپنے کام آسکی نہ بیوی بچوں کے۔
٭ ٭ ٭
میرا بڑا دل چاہتا ہے کہ میں سب کچھ چھوڑ کر صرف افسانے لکھوں۔ لیکن افسانوں سے میرا بجلی کا بل نہیں ادا ہوتا، میرے بچوں کی تعلیم کی فیس، گھر کا کرایہ، کچن کا خرچہ، گاڑی کا پٹرول اور ملازموں کے پیسے نہیں ادا ہوتے۔ مجھے افسانوں سے دور رہنے کا معاوضہ ملتاہے۔کئی ادھورے افسانے پڑے ہیں جن پر سالوں سے گرد جم چکی ہے. . . ایک لائن تک لکھنے کی توفیق نہیں ہوتی البتہ ٹی وی اسکرپٹس اور کالموں کے ڈھیرلکھتا ہوں اور اپنا گھر چلا تا ہوں۔ گھرچلاؤں یا افسانہ؟؟؟ کبھی کبھی ذہن میں کوئی کہانی کلبلاتی ہے تو دل مچل جاتاہےلکھتا افسانہ ہوں بن کالم جاتاہے۔
ادبی محفلیں، ادبی دوست ایک عرصے سے دور ہوچکے، میڈیا نے کچھ اس انداز سے جکڑا ہے کہ میں کوشش کے باوجود نکل نہیں پارہا۔ جب میرے پاس پیسے نہیں تھے تو کہانیاں بارش کی طرح مجھ پر برسا کرتی تھیں‘ آج جب حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں تو کہانیاں خوفزدہ ہوکر کہیں چھپ گئی ہیں۔ مجھے یقین نہیں ہوتا کہ میں نے اپنے افسانوں کی پہلی کتاب”چھار جی‘سمن آباد کے گراؤنڈ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ ایک افسانہ ختم ہوتا تو دوسرا ہاتھ باندھے آن موجود ہوتاتھا۔کہانی کو بھی پتا چل گیا ہے کہ میں اب ”میڈیا“ کا ہوچکا ہوں‘ اسی لیے وہ چپ چاپ میرے ذہن سے اتر گئی ہے...اب تو میرے پاس اسے منانے کا بھی وقت نہیں ....!!!