لیجنڈری اداکار شاہد نے حکومت پنجاب سے پروڈیوسرز کو ملنے والی گرانٹ کے بارے میں کہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ حکومت سے ڈھائی کروڑ روپے لے کر 50 لاکھ روپے کی فلم پیش کردیں۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے کراچی آمد پر جنگ ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار مصطفیٰ قریشی اور صدر آرٹس کونسل احمد شاہ بھی موجود تھے۔
ماضی کی فلموں کے ہیرو اداکار شاہد کا کہنا ہے کہ بڑی خوش کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فلم انڈسٹری کی بحالی کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز پروڈیوسر کو جاری کردیے۔
انہوں نے کہا کہ جن پروڈیوسرز کو فنڈز دیے گئے ہیں، انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان فلم انڈسٹری کو پھر سے بحال کرنا ہے، اس فنڈز کا صحیح استعمال ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیجنڈری اداکار مصطفیٰ قریشی کی طرح اور بھی حقدار ہیں، ان کو بھی حکومت فنڈز جاری کرے۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت سے ڈھائی کروڑ روپے لے کر 50 لاکھ روپے کی فلم پیش کردیں۔ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں لیجنڈری اداکار شاہد حمید کا کہنا تھا کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیف ڈیک بنائی تھی، جس کے تحت سنیما گھر بنائے گئے تھے۔ معیاری فلمیں بھی بنائی گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں پاکستان فلم انڈسٹری اپنے عروج پر تھی۔
انہوں نے کہا کہ موجود حکومت سب سے پہلے فلم انڈسٹری کو انڈسٹری تسلیم کرے، انڈسٹری کی بحالی کے لیے بڑے لوگوں کو سر جوڑ کر بیٹھا ہوگا۔ فلم انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تو ملک میں سنیما گھر ہی نہیں ہیں، فلمیں کہاں دکھائی جائیں گی۔ اداکار شاہد کا اپنے بیٹے کامران شاہد کے بارے میں کہنا تھا کہ اگر اسے ایک کروڑ جانتے ہیں تو مجھے آج بھی دو کروڑ لوگ پہچاننے ہیں۔ وہ بہت سچی باتیں کرتا ہے۔ میں اس کی کامیابی پر بےحد خوش ہوں۔
اداکار مصطفیٰ قریشی کا کہنا تھا کہ شاہد سے بہت اچھی دوستی ہے۔ ہم نے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ہے۔ شاہد کراچی میں میرے گھر آئے بہت خوشی ہوئی۔