دنیا بھر میں ریبیز ایک ایسا مہلک، مگر مکمل طور پر قابلِ تدارک مرض ہے، جو ہر سال ہزاروں انسانی جانیں نگل لیتا ہے۔ اگرچہ جدید طب نے اِس بیماری کے مؤثر علاج اور بچاؤ کے طریقے دریافت کر لیے ہیں، تاہم آگاہی کی کمی، بروقت علاج تک رسائی نہ ہونا اور آوارہ کتّوں میں غیر منظّم اضافہ اب بھی اِس مسئلے کو سنگین بنائے ہوئے ہے۔
اِسی صُورتِ حال کے پیشِ نظر عالمی ادارۂ صحت ( WHO) نے اقوامِ متحدہ کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر2030 ء تک انسانی ریبیز کے مکمل خاتمے کا عالمی ہدف’’Zero by 2030‘‘ مقرّر کیا ہے۔ اِس عالمی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کتّے کے کاٹنے (Dog Bite) سے ہونے والی انسانی اموات کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے اور دنیا بھر میں ویکسی نیشن، علاج کی سہولتوں، ڈیٹا مینجمنٹ اور آوارہ کتّوں(Stray Dogs) کی سائنسی بنیادوں پر نگرانی مضبوط بنائی جائے۔
اِسی عالمی وژن کے تناظر میں پاکستان اور بالخصوص صوبۂ سندھ میں بھی ریبیز کے خاتمے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت اور محکمۂ صحت، سندھ نے اِس مسئلے کی سنگینی مدّ ِنظر رکھتے ہوئے علاج، روک تھام اور آگاہی کے شعبوں میں ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دی ہے، جس کا مقصد نہ صرف متاثرین کو بروقت طبّی امداد کی فراہمی ہے، بلکہ ایسے اقدامات کرنا بھی ہے، جن کے ذریعے مستقبل میں اِس بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
محکمۂ صحت ،سندھ نے اِس عالمی ہدف کے حصول کے لیے متعدّد عملی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ اِس سلسلے میں وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی سندھ، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اور سیکریٹری صحت، سندھ طاہر حسین سانگی کی خصوصی ہدایات پر صوبے بَھر میں ریبیز کنٹرول اور اینٹی ریبیز ویکسین(ARV) خدمات کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنایا جا رہا ہے۔
محکمۂ صحت کے مطابق، اعلیٰ حکّام کی مشترکہ ہدایات کے تحت سرکاری اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن کی بلاتعطّل فراہمی یقینی بنانے، علاج کے مراکز کی تعداد بڑھانے اور ڈاگ بائٹ کے متاثرین کو فوری طبّی امداد فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اِس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسّر ہو اور ریبیز کے باعث ہونے والی اموات روکی جا سکیں۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بَھر میں ہر سال تقریباً 55 ہزار سے زائد افراد ریبیز کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں سے 31ہزار سے زاید اموات ایشیا میں ہوتی ہیں۔ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں یہ مسئلہ اب بھی تشویش ناک صُورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً دو ہزار افراد ریبیز کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں اور اِس حوالے سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔
مزید برآں، مُلک میں سالانہ تقریباً دس لاکھ افراد کتے کے کاٹے کا شکار ہوتے ہیں، جو صحتِ عامّہ کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر صرف حالیہ برسوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے، تو مسئلے کی شدّت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ سال 2024ء میں پاکستان بَھر میں آٹھ لاکھ سے زائد ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے دو لاکھ سے زیادہ کیسز صوبۂ سندھ سے سامنے آئے۔
اِسی طرح 2025ء میں مُلک بَھر میں ڈاگ بائٹ کے واقعات کی تعداد تقریباً ایک ملین تک پہنچ گئی، جب کہ سندھ میں رپورٹڈ کیسز کی تعداد تقریباً دو لاکھ پچاسی ہزار رہی۔ ماہرین کے مطابق اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں ایسے کیسز موجود ہیں، جو کسی وجہ سے رپورٹ نہیں ہو پاتے۔ صرف کراچی کے تین بڑے سرکاری اسپتالوں میں چالیس ہزار سے زائد متاثرین کا علاج کے لیے آنا اور روزانہ ڈیڑھ سو سے دو سو مریضوں کا اسپتالوں کا رُخ کرنا، اِس مسئلے کی سنگینی واضح کرتا ہے۔
2026ء کے ابتدائی دو ماہ کے دَوران سندھ میں ریبیز سے متاثرہ کم از کم چھے افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ متاثرین میں بڑی تعداد بچّوں کی ہوتی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 78فی صد آبادی اب بھی ریبیز کی خطرناک نوعیت اور اس کے بروقت علاج سے متعلق مکمل آگاہی نہیں رکھتی۔
اِس سنگین صُورتِ حال کے پیشِ نظر محکمۂ صحت ،سندھ نے علاج کی سہولتیں بہتر بنانے پر خصوصی توجّہ مرکوز کی ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں اینٹی ریبیز ویکسین مراکز کے نیٹ ورک کو نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے تاکہ متاثرین کو فوری طبّی امداد فراہم کی جا سکے۔ سرکاری حکمتِ عملی کے تحت سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات اور ریبیز کے خطرات سے نمٹنے کے لیے محکمۂ صحت نے اینٹی ریبیز ویکسین مراکز کا ایک منظّم نیٹ ورک قائم کیا ہے۔
اِس وقت صوبہ بَھر میں227 سے زائد ایسے مراکز فعال ہیں، جو مختلف سطح کے سرکاری صحت کے اداروں میں قائم ہیں، جن میں ٹیچنگ اسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال، تعلقہ ہیڈکوارٹر اسپتال، دیہی مراکزِ صحت اور بنیادی مراکزِ صحت شامل ہیں۔ اِن مراکز کا مقصد یہ ہے کہ کتے کے کاٹنے کے متاثرین کو فوری طبّی امداد اور ویکسین کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے تاکہ ریبیز جیسے مُہلک مرض سے انسانی جانوں کا تحفّظ ممکن ہو سکے۔
اِس ضمن میں صوبے کے بڑے ٹیچنگ اسپتال، ریبیز کے پیچیدہ کیسز کے علاج اور ریفرل مراکز کے طور پر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کراچی ڈویژن میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر(JPMC)، سِول اسپتال کراچی، ڈاؤ یونی ورسٹی، عباسی شہید اسپتال اور انڈس اسپتال نمایاں ادارے ہیں، جب کہ دیگر ڈویژنز میں لیاقت یونی ورسٹی اسپتال حیدرآباد/ جام شورو، چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال لاڑکانہ، پیپلز میڈیکل کالج اسپتال نواب شاہ، میرپورخاص میڈیکل کالج اسپتال، سکھر میڈیکل کالج اسپتال اور گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ریفرل اور خصوصی علاج کے اہم مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ ادارے نہ صرف ریبیز ویکسین کی فراہمی، بلکہ پیچیدہ کیسز کے علاج اور طبّی رہنمائی کے ذریعے صوبے میں انسدادِ ریبیز کا نظام مؤثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کراچی کے اہم طبّی اداروں میں خصوصی ڈاگ بائٹ کلینکس قائم کیے گئے ہیں، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں متاثرین کو علاج فراہم کیا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ، صوبے کے دیگر تدریسی، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتالوں کو بھی ARV سینٹرز کے نیٹ ورک میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ علاج کی سہولتیں نچلی سطح تک پہنچ سکیں اور دیہی علاقوں کے لوگوں کو بھی بروقت علاج میسّر آ سکے۔
نیز، ریبیز کے مؤثر حل کے لیے انتظامی سطح پر بھی بھرپور اقدامات کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر ڈاگ بائٹ کے بڑھتے واقعات کے پیشِ نظر21 دسمبر 2025 ء اور3 فروری 2026 ء کو چیف سیکریٹری سندھ کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے گئے، جب کہ چیف سیکریٹری کی ہدایت پر متعدّد اعلیٰ سطحی اجلاس اور ویڈیو لنک/ زوم میٹنگز منعقد کی گئیں۔ اِن اجلاسوں میں محکمۂ صحت، بلدیاتی اداروں، لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے حکّام نے شرکت کی اور صوبے میں ڈاگ بائٹ کیسز کی صُورتِ حال، ویکسین کی دست یابی اور علاج کی سہولتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اِن اجلاسوں میں اِس امر پر زور دیا گیا کہ صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی بلاتعطّل فراہمی یقینی بنائی جائے اور متاثرین کو فوری علاج فراہم کیا جائے۔ اِسی کے ساتھ، ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں خصوصی مراکز کی فعالیت اور کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی کریں، جب کہ بلدیاتی اداروں کو صفائی کا نظام بہتر بنانے اور آوارہ کتوں کی آبادی پر کنٹرول کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت دی گئی۔
تمام اضلاع کو ڈاگ بائٹ کیسز کا درست اور بروقت ڈیٹا مرتّب کرنے کی بھی ہدایت دی گئی تاکہ پالیسی سازی کے لیے مستند معلومات دست یاب ہوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جا سکے۔ سندھ حکومت نے ریبیز کے مسئلے کے پائے دار حل کے لیے وَن ہیلتھ اپروچ(One Health Approach) کے تصوّر کو بھی اپنایا ہے۔
اِس تصوّر کے تحت انسانی صحت، حیوانی صحت اور ماحولیات کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اِسی حکمتِ عملی کے تحت آوارہ کتوں کی آبادی کو سائنسی بنیادوں پر کنٹرول کرنے کے لیے TNVR پروگرام (Trap, Neuter, Vaccinate and Release) کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اِس پروگرام کے تحت آوارہ کتوں کو پکڑ کر اُن کی نس بندی اور ویکسی نیشن کی جاتی ہے اور بعد ازاں، اُنہیں اُسی علاقے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق اگر کسی علاقے میں کم از کم ستّر فی صد کتوں کی ویکسی نیشن ہو جائے، تو وہاں ریبیز کے وائرس کا پھیلاؤ مؤثر طور پر روکا جا سکتا ہے۔
محکمۂ صحت سندھ نے اِس پروگرام کی کام یابی کے لیے طبّی عملے کی تربیت اور صحت کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری پر بھی خصوصی توجّہ دی ہے۔ اسپتالوں میں ڈاگ بائٹ کے علاج کے لیے معیاری طبّی پروٹوکولز متعارف کروائے گئے ہیں، جب کہ ویکسین کی فراہمی کا نظام بہتر بنانے کے لیے سپلائی چین مینجمینٹ مضبوط کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، مراکزِ صحت میں ڈیجیٹل ریکارڈنگ سسٹم بھی متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ ڈاگ بائٹ کیسز کا درست اندراج ممکن ہو سکے اور مستقبل کی منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
عوامی آگاہی بھی اِس حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اگر کسی شخص کو کتّا کاٹ لے، تو سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ زخم کو فوراً صابن اور بہتے ہوئے پانی سے کم از کم پندرہ منٹ تک اچھی طرح دھویا جائے۔ اِس عمل سے وائرس کی شدت نمایاں حد تک کم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد متاثرہ شخص کو فوری طور پر قریبی اسپتال یا ARV سینٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ اینٹی ریبیز ویکسین کا کورس بروقت شروع کیا جا سکے۔
طبّی ماہرین واضح طور پر کہتے ہیں کہ علامات ظاہر ہونے کے بعد ریبیز کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں، اِس لیے بروقت ویکسی نیشن ہی اس بیماری سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔ اگر اینٹی ریبیز ویکسین کی بلاتعطّل فراہمی، ARV سینٹرز کے نیٹ ورک کی توسیع، آوارہ کتّوں کی سائنسی بنیادوں پر ویکسی نیشن، مضبوط ڈیٹا سسٹم اور عوامی آگاہی جیسے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رکھے جائیں، تو اُمید کی جا سکتی ہے کہ صوبہ سندھ نہ صرف اپنے شہریوں کو اِس مُہلک بیماری سے محفوظ رکھنے میں کام یاب ہوگا، بلکہ عالمی ہدف’’Zero by 2030‘‘ کے حصول میں بھی نمایاں پیش رفت کرے گا۔
درحقیقت، یہی وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور معاشرے کو ایک خطرناک، مگر قابلِ تدارک مرض سے مضبوط حکمتِ عملی، مؤثر نظام اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے محفوظ و مامون کیا جا سکتا ہے۔ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)