• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ عرصے سے ایک نیا ٹرینڈ پرورش پارہا ہے۔ آپ عید سے پہلے پٹرول ڈلوانے جائیں، بال کٹوانے جائیں، پنکچر لگوانے جائیں یااسی قسم کے کسی اور کام سے جائیں تو آپ سے بڑے لاڈ سے عیدی کی فرمائش کر دی جاتی ہے۔ میں نے حساب لگایا ہے کہ عید سے پہلے کم ازکم ایک لاکھ روپیہ لیکر نکلنا چاہئے تاکہ فقیروں سے لیکر عیدی مانگنے والوں تک سب کو خوش کیا جاسکے۔ حیرت تو تب ہوتی ہے جب اچھا خاصا کمانے والے دوکاندار بھی یکدم آپ کے رشتہ دار یا آل اولاد بنکر عیدی مانگنے لگتے ہیں۔ موبل آئل چینج کی ایک دکان کے مالک نے جب مجھ سے عیدی مانگی تو میں نے پوچھا کہ آپ خود کیوں نہیں مجھے عیدی دیتے؟ گڑبڑا کر بولا ’یہ کیا بات ہوئی‘۔ میں نے پوچھا کہ کیا عیدی گاہکوں پر ہی فرض ہے؟ اس پر بھائی صاحب مسکرا کر بولے’آپ بڑے ہیں، عیدی بڑے ہی دیتے ہیں۔‘ میں نے سرہلایا اور اپنے بیٹے کو پاس بلا کر دوکان کے مالک سے کہا’ لیجئے! اب آپ بڑے ہوگئے، دیجئے اسے عیدی‘۔پہلے عیدی گھر والوں کو، بچوں کو، رشتے داروں کو، ملازمین کو دی جاتی تھی اب ہر بندہ عیدی مانگتاہے۔سب کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح دوسرے کی جیب سے پیسے نکلوا لیے جائیں۔ لوگ کہاں سے اتنی عیدیاں دیں؟ واپڈا کے میٹر ریڈر اورپی ٹی سی ایل کے لائن مین بھی عیدیاں بٹورتے پھر رہے تھے۔ایک سرکاری محکمے کے صاحب تو خود بھی عیدی لے گئے او رایک گھنٹے بعد دو اور ملازمین کو بھی ساتھ لے آئے۔ یہ لوگ تنخواہیں بھی لیتے ہیں، اوپر کا مال بھی بٹورتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں عیدیاں بھی دی جائیں۔ پتا نہیں کیوں انہیں لگتا ہے کہ سارا پاکستان بہت خوش ہے اور سب کو چاہئے کہ دھڑادھڑ اِن کی جیبیں بھر دیں۔

٭ ٭ ٭

آج کل قبر سے باہر بھی ’منکر نکیر‘ پھر رہے ہیں۔ یہ آپ کے ہر عمل، ہر بات اور ہر ایکسپریشن کو نوٹ کر تے ہیں اور پھر آرڈر جاری کردیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بھائی صاحب ہمارے علاقے پر بھی مسلط ہیں۔ یہ پہلے اپنا ذہن بناتے ہیں پھر دوسروں کا ذہن بنانے بلکہ تباہ کرنے نکل پڑتے ہیں۔ مسلم امہ کا غم انہیں کھائے جاتاہے اور ان کی خواہش ہے کہ ہر گھر سے رونے چلانے کی آوازیں آئیں۔ عید کی شاپنگ کرنیوالوں کو روک روک کر عذاب سے ڈراتے رہے کہ مسلمانوں پربارود برس رہا ہے اور آپ لوگ عید کی خوشیوں میں مگن ہیں۔ مجھے بھی دھر لیا کہ نئے کپڑے کیوں پہنے ہیں۔ میں نے سہم کر عرض کی کہ عید کی وجہ سے مجبوراً یہ اہتمام کرنا پڑا۔ یہ سنتے ہی آگ بگولا ہوگئے۔کچھ دینی حوالے دیے اور عذاب قبر کی نوید سنائی۔میں نے ان سے گزارش کی کہ پلیز مجھے کچھ اور گائیڈ کیجئے لیکن یہاں نہیں، پیزا شاپ پر چلتے ہیں۔ انہوں نے سرہلایااور پھر ڈیڑھ گھنٹے تک لارج پیزا مع جمبو سائز بوتل ڈکارتے رہے اور بتاتے رہے کہ مسلم امہ کے غم میں ہمیں ہر قسم کی عیاشی اور فضول خرچی بند کردینی چاہیے۔اگلے دن ایک اور محلے دار نے بتایا کہ موصوف بچوں کو لیکر فورٹریس اسٹیڈیم کے جھولوں پر بھی پائے گئے ہیں۔ میں نے پوچھا تو انتہائی درد مندی سے بولے’بچے ضد کر رہے تھے اس لیے لے گیا لیکن وہاں بھی بچے جھولے لیتے رہے اور میں ہچکیاں۔

٭ ٭ ٭

نام رکھنے کا مسئلہ عموماً پہلے بچے کی دفعہ ہی پیش آتا ہے‘باقی آنے والے بچے اسی ’قافیہ‘ میں پروئے جاتے ہیں۔یہ پہلا بچہ اپنا نام رکھوانے میں بڑا ٹائم ویسٹ کرواتاہے۔عموماً پہلے بچے کی دفعہ ہی نام رکھنے کی زیادہ سوچ و بچار کی جاتی ہے ورنہ بچوں کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بڑھتی جائے تو پھر نام بھی ذہن میں نہیں آتے اور جس دن بچہ پیدا ہوتا جاتاہے اسی دن کی مناسبت سے ’منگل خان‘ شبراتی‘ عیدو‘ رمضان‘وغیرہ کی بھی جنم پرچی بن جاتی ہے۔ میرے ایک جونیئر کولیگ نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ ان کے ہاں جب بھی کوئی اولاد ہوگی وہ اس کا نام مجھ سے مشورہ کرکے رکھیں گے۔ بیٹا پیدا ہوا تو فرمایا’اب کوئی نام بتائیے‘ بس خیال رہے کہ سب سے منفرد ہوناچاہئے‘میں نے رائے دی کہ ’منفرد‘ ہی رکھ دیں۔ ان کی مہربانی کہ انہوں نے میری رائے کو قابل احترام سمجھا لہٰذا کاغذات میں صاحبزادے کا نام ’سعید گجر‘ ہے اور گھر میں ’اوئے شیدے‘ پکارے جاتے ہیں۔بچوں کا نام رکھنے کے سلسلے میں ماں باپ کو فوراً اسلامی ناموں والی کتاب کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پھر ہر نام کا مطلب دیکھا جاتاہے‘ یہ جائزہ لیا جاتاہے کہ کہیں یہ نام ان کے کسی دشمن کا تو نہیں۔عموماً شوہر کی طرف سے تجویز کردہ ہر نام بیگم اس لیے ریجکٹ کر دیتی ہیں کہ انہیں یقین ہوتاہے کہ جدت اسے چھوکر بھی نہیں گزری۔البتہ بیگم کی والدہ اگر اپنی بیٹی کے کان میں کچھ پھونک جائیں تو اگلے دن راجہ فخرالدین رجسٹرڈ ہوجاتاہے۔کچھ ناموں کو پڑھ کر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ مرد ہے یا عورت۔ جیسا کہ میرا نام۔ میں نے اپنے کالموں کے ساتھ تب سے تصویر دینا شروع کی تھی جب مجھے ڈاکٹر‘ انجینئر کے رشتے آنا شروع ہوگئے تھے۔ میرے ایک دوست نے اپنے بیٹے کا نام ’سوڈائیل‘ تجویز کیا۔ نام سنتے ہی پہلے تو میں نے جھرجھری لی‘ پھر پوچھا بندہ خدا یہ انسان کا نام ہے یا کسی جن کا؟ انتہائی سنجیدگی سے بولا’میں نے کہیں پڑھا تھا کہ یہ نام ایک ایسے بندے کا تھا جو زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوتا تھا‘۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ بچے کا نام ایسا رکھیں کہ بعد میں وہ صرف اپنے نام کی برکت سے ہی پی ایچ ڈی بھی کرجائے اور انجینئر بھی بن جائے۔لیکن اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ آپ نے بے شمار ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جن کے نام مقدس ہستیوں کے نا م پر ہوتے ہیں اس کے باوجود وہ خود چلتے پھرتے شیطانوں سے کم نہیں ہوتے۔

تازہ ترین