امریکا میں بجٹ تنازع اور عملے کی شدید کمی کے باعث حکومت نے مختلف ہوائی اڈوں پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے سیکڑوں اہلکار تعینات کر دیے ہیں جس پر ڈیموکریٹ رہنماؤں اور مبصرین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے تصدیق کی ہے کہ آئی سی ای اور ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کے افسران کو ایک درجن سے زائد ہوائی اڈوں پر بھیجا گیا ہے۔
اِن ایئرپورٹس میں نیویارک کا جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اٹلانٹا کا ہارٹس فیلڈ جیکسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہے، نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی آئی سی ای اہلکار دیکھے گئے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں پر جاری سیاسی تعطل کے باعث محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جزوی فنڈنگ 14 فروری سے متاثر ہے۔
اس صورتحال میں ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کے اہلکار کئی ہفتوں سے تنخواہوں کے بغیر کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ملازمین نے چھٹیاں لے لی ہیں یا ملازمت چھوڑ دی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق 300 سے زائد ٹی ایس اے ملازمین استعفیٰ دے چکے ہیں جس سے ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی چیکنگ میں تاخیر اور رش بڑھ گیا ہے۔
امریکی بارڈر سیکیورٹی چیف ٹام ہومن کے مطابق آئی سی ای اہلکار صرف غیر تکنیکی ذمہ داریاں سنبھالیں گے تاکہ تربیت یافتہ ٹی ایس اے عملہ سیکیورٹی اسکیننگ پر توجہ دے سکے تاہم ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما حکیم جیفریز نے اس فیصلے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر تربیت یافتہ امیگریشن اہلکاروں کو حساس مقامات پر تعینات کرنا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔