• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنی عمر کے حوالے سے اکثر خواتین کو یہ جملہ ازبر ہوتاہے’اصل میں میری شادی بڑی چھوٹی عمر میں ہوگئی تھی‘۔ تاہم اگر آپ موصوفہ کی کیس ہسٹری کا جائزہ لیں تو پتا چلتاہے کہ یہ ’چھوٹی عمر‘ اصل میں 28 سال تھی۔میری ایک کولیگ کی پچھلے دنوں سالگرہ ہوئی تو انہوں نے اپنی سالگرہ پر 25 کی شکل والی موم بتیاں روشن کردیں۔ شرکاء نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، میں نے جلدی سے کہا’خواتین وحضرات! نمبروں کی ترتیب الٹ ہونے پر ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں۔بڑی عمر کی اکثر خواتین کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کا شناختی کارڈ غلط ہے کیونکہ اسکول میں داخلے کیلئے ان کے والد صاحب نے غلط عمر لکھوائی تھی اوربعد میں یہی غلطی میٹرک کی سند اور شناختی کارڈ میں بھی در آئی۔ ہمارے معاشرے میں 45 سال کی لڑکیاں بھی عام پائی جاتی ہیں۔ یہ کسی مرد سے بات کرتے ہی ”باربی ڈول‘‘ بن جاتی ہیں۔ایک جگہ کچھ دوستوں میں بحث ہورہی تھی کہ جو عورت بات کرتے وقت زیادہ منہ کھولتی ہے اس کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جس کا منہ کم کھلے وہ کم عمر ہوتی ہے۔ حق اور مخالفت میں دلائل جاری تھے کہ اچانک وہاں سے 85سالہ اماں جیراں کا گزر ہوا۔ سب نے سوچا کہ اماں جہاندیدہ خاتون ہیں، ان سے اس مسئلے کا حل پوچھتے ہیں۔ جب اماں سے اس بات کی حقیقت بارے پوچھا گیا تو اماں تھوڑا سا منہ کھول کر بولیں ”پُت! مینوں کی پتہ؟“۔آپ اگر کسی عورت سے دل کی گہرائیوں سے اپنے لیے بددعائیں سننا چاہتے ہیں تو اسے ایک دفعہ اس کے منہ پر ’آنٹی‘ کہہ کر دیکھ لیں۔البتہ وہ آپ کو پچاس سال کی ہوکر بھی انکل کہتی رہے تو آپ کو مائنڈ نہیں کرنا چاہیے۔

٭ ٭ ٭

”جرمنی کے ایک ریسٹورنٹ میں کچھ پاکستانی نوجوان کھانا کھانے کی غرض سے داخل ہوئے بھوک کی شدت کی وجہ سے نوجوانوں نے کھانے کا آرڈر فراخ دلی سے دیا۔ کھانا آگیا اور تناول بھی کر لیا گیا۔ بل کی ادائیگی کے بعد جب یہ لوگ جانے لگے تو قریبی میز پر بیٹھی دو عمر دراز خواتین نے ان نوجوانوں کو آواز دی اور ان نوجوانوں کو ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنے اور بچے ہوئے کھانے کے ضائع ہونے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے تمام کھانے کے پیسے ادا کر دئیے ہیں اور ہماری مرضی ہم کتنا بھی کھانا کھائیں۔ یہ بات سُن کر خواتین نے کسی کو ٹیلی فون کیاتھوڑی دیر میں ہی ایک باوردی شخص آ گیاجو کہ سوشل سیکورٹی محکمے کا ایک اعلیٰ افسر تھا اُس نے تمام صورتحال سُن کر پچاس مارک کا جرمانہ عائد کیا اور موقع پر ہی وصول کیا اور ساتھ ہی نصیحت کی کہ آئندہ جب بھی جرمنی میں کھانا طلب کرو اتنا ہی منگواؤ جتنا کھا سکتے ہو تمہارے پاس بے شک پیسوں کی بھرمار ہے مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں ان کا بے دردی سے استعمال جرم ہے۔“ یہ واقعہ میں نے دو تین دفعہ کسی سے سنا تھا لیکن کل ایک جگہ پڑھنے کو بھی مل گیا۔دوسرا واقعہ ایک دوست نے سنایا جوتازہ تازہ ایک برادر ملک سے ہوکر آئے ہیں بتا رہے تھے کہ انہیں وہاں پاکستانیوں کے ایک ہوٹل پر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں کا پلاؤ بہت مشہور تھا۔ جب پلاؤ سامنے آیا تو پتا چلا کہ یہ دو بندوں کیلئے بہت زیادہ ہے۔ دوست نے جی بھر کے پلاؤ کھایا اور جب پیٹ بھر گیا تو بیرے سے کہا کہ باقی کا کھانا پیک کر دیا جائے۔ جواب میں بیرے نے برا سا منہ بنا کر کہا کہ ”ہم کھانا پیک نہیں کرتے“۔ دوست نے تھوڑی سی بحث کی تو ہوٹل والے غصے میں آگئے اور کہنے لگے کہ یہاں یہی رواج ہے کہ بچ جانے والا کھانا ضائع کر دیا جاتا ہے۔ یہ دونوں واقعات حیرت انگیز ہیں۔

٭ ٭ ٭

کچھ لوگ بت کی طرح ساکت ہوتے ہیں ان کے سامنے بے شک لاش پڑی ہو، کوئی قتل ہوجائے، طوفان آجائے یہ انتہائی سکون میں نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی ہمارے دوست ہیں جوپتھر شاہ کے نام سے مشہور ہیں۔پتھر شاہ صاحب میرے بیس سال پرانے دوست ہیں لیکن آج تک میں نے انہیں نہ ہنستے دیکھا ہے نہ روتے۔ ساری زندگی ان پر ایک ہی ایکسپریشن قائم ہے اسی وجہ سے احباب میں پتھر شاہ کے نام سے مشہور ہیں۔آپ انکے سامنے کوئی لطیفہ سنائیں، دردناک واقعہ سنائیں، یہ چپ چاپ آپ کو گھورتے رہیں گے۔جہاں بولنے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں بھی الفاظ ضائع نہیں کرتے، مختصر سے مختصر جملہ ادا کر کے دوسرے کی تسلی کرا دیتے ہیں۔ایک دفعہ ہم دوستوں نے سوچا کہ شاہ صاحب کا ”سکتہ“ توڑنے کیلئے انہیں کوئی بھیانک خبر سنانی چاہیے۔ یہ ذمہ میں نے اٹھایا اور ایک دن شدید گھبراہٹ میں بھاگتے ہوئے شاہ صاحب کے پاس آکر کہا”شاہ جی! آپ کے گھر آگ لگ گئی ہے۔“ شاہ جی نے انتہائی متانت سے سر اٹھایا، میری طرف دیکھا اور پرسکون انداز میں بولے”بجھا دو“۔ایک دن شاہ جی آفس میں تشریف لائے تو پلان کے عین مطابق میں نے فوری طور پر فون کر کے باقی دو ”مددگاروں“ کو بھی بلا لیا۔ شاہ جی اطمینان سے بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے کہ اچانک دونوں نے شاہ جی کو جکڑ لیا۔ ایک نے شاہ جی کے دونوں ہاتھ پکڑلیے اور دوسرے نے پاؤں۔ میرا خیال تھا کہ اب شاہ جی ضرور شور مچائیں گے لیکن شاہ جی کا اطمینان قابل دید تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، پوری قوت سے شاہ جی کی بغلوں میں گدگدی کرنا شروع کر دی۔ ایسی گدگدی میں کسی اور دوست کی کرتا تو وہ ہنس ہنس کر بیہوش ہوجاتا لیکن شاہ جی نے ایک ایسی حرکت کی کہ جس کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ تین منٹ کی شدید گدگدی کے بعد جب میں نے شاہ جی کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ گہری نیند سو چکے تھے……!!!

تازہ ترین