شنید ہے کہ اللّٰہ تعالی پاکستان کو ایک تاریخی موقع سے نواز رہا ہے۔ دعا یہی ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت حق کا ساتھ دے۔ بندہ پروروں کے ہاتھ مضبوط کرے ظالموں کے ہاتھ نہیں ۔ "بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی ...مجھے بتا تو سہی اور کافری کیاہے ؟ " شہر تباہ ہو رہے ہیں۔ صرف بٹن دبانا پڑتا ہے اور سینکڑوں میل دور نیزہ اڑتا ہوا جاتا ہے اس کی انی حساس عمارتوں کو چیرتی ہوئی اپنے ہدف پر حملہ آور ہو جاتی ہے ۔ زرہ بکتر کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہےنہ ہی تلوار کلاشنکوف کا۔ ہم 1965کی جنگ کے سائرن سننے والے 1971 کے فضائی حملوں کے دھماکے دیکھنے والے اب اکیسویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی کی ضرب کاری سے آشنا ہو رہے ہیں ۔ اذیت پسند حکمرانوں کی شقی القلبی کے عملی مظاہرے دیکھ رہے ہیں۔ کھوکھلے ذہنوں والی قیادتیں اپنی آبادیوں کو آتش و آہن کی نذر کر رہی ہیں۔حکمرانی کا تصور اب تک تو یہ تھا کہ اپنے لوگوں کو ہلاکتوں سے بچایا جائے لیکن آج کل کے حکمرانوں کو اپنی رعایا کی کوئی فکر نہیں،کسی کو Epstien فائلوں سے بچنا ہے کسی کو اسرائیلی سپریم کورٹ سے کسی کوآئندہ مواخذوں سے استثنا چاہیے۔ اقبال نے خواجگی کو بندہ پروری سے جوڑا تھا اور ایک سو سال پہلے فریاد کی تھی ۔" فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں ...خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے ؟ " ان دنوں امریکہ ،برطانیہ، خلیج ،مشرق وسطیٰ کہیں بندہ پروری نظر نہیں آرہی ۔ اس عالمی تباہی وبربادی کے موجد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کا 48گھنٹے کا الٹی میٹم پانچ دنوں تک بڑھا دیا ہے۔ بہانہ تراشا ہے کہ ان کے ایران سے مذاکرات ہو رہے ہیں برطانوی اخبار فائنانشیل ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کےامریکی صدر کو فون نے دنیا کو امن کی خوشخبری دی ہے ان سب جہات پر بات کرتے ہیں۔پہلے میں آپ کو لے چلتا ہوں قائد اعظم میوزیم فلیگ ہاؤس فاطمہ جنا ح روڈ کراچی۔سندھ سیاحتی ترقیاتی کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر سید فیاض علی شاہ نے 23 مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کے حوالے سے اسپیشل بچوں، اسکاؤٹس، ماہنامہ اطراف کے قلم قافلےٹریول ایجنٹس ٹورآپریٹرز کو مدعو کیا ہے۔ قائداعظم کی تاریخی رہائش گاہ کا اپنا خاص طرز تعمیر ہے راجستھانی پیلے پتھروں سے بنی محرابوں اور جھروکوں کا اپنا ایک حسن ہے۔ پرچم کشائی ہو رہی ہے پھر کچھ ضیافت طبع ۔ باہر دو ڈبل ڈیکر بسیں کھڑی ہیں پیپلز بس سروس کی۔ قومی ترانہ۔ پرچم ستارہ و ہلال بلندیوں کی طرف لپک رہا ہے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہو رہے ہیں بابائے سیاحت خواجہ جہاں زیب بھی بلند آواز سے پاکستان زندہ باد کہہ رہے ہیں اس سال بھی ان کا عزم ہے کہ قائد اعظم کاشہر کراچی غیر ملکی سیاحوں اور ہم وطنوں کو دکھائیں گے۔ شمالی علاقوں میں بھی لے کے جائیں گے۔ فی الحال تو امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملوں سے اور پھر ایران کی جوابی کارروائی سے خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں پرحملوں نے ہوا بازی کی صنعت کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ لیکن پاکستانیوں میں اس خوں ریزی کے باوجود ایک خوشی کا عالم ہے کہ 1948 سے فلسطینیوں ،اردنیوں ،عراقیوں ،لبنانیوں اور مصریوں پر مسلسل عرصہ حیات تنگ کرتے اسرائیل پر پہلی بار کسی مسلم ملک نے اتنے ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے ہیں کہ اس کی اپنی ایٹمی تنصیبات کے احاطے بھی محفوظ نہیں رہے ۔ نئی نسل کے پاکستانی اسپیشل بچے ڈبل ڈیکر سے آئی آئی چندریگر روڈ ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان ۔ نیشنل بینک آف پاکستان ۔ میڈیا ہاؤسز کی عمارات دیکھتے ہوئے بہت خوش ہیں۔ 23مارچ پہلی بار اس انداز سے منائی جا رہی ہے اقبال نے یہ بھی کہا تھا کہ :"اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر ...کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے۔"فلک نے آج کل جن کو خواجگی عطا کی ہے: ڈونالڈ ٹرمپ، نیتن یاہو،شاہ عبداللہ،شہزادہ محمد بن سلمان، ابوظبہی، دبئی، بحرین، کویت، مسقط، قطر، پاکستان،بھارت، مصر انڈونیشیا۔ کیا یہاں کے خواجگان بندہ پروری کر رہے ہیں۔ بندہ پروری کیا ہے ہر فرد کے حقوق کا تحفظ ۔اظہار کی آزادی۔ عدلیہ کی خود مختاری روزگار کی حفاظت۔بندہ پروری ایک فلاحی ریاست کی بنیاد ہے لیکن دنیا میں زیادہ تر سفاکی ہو رہی ہے ۔ سفاکی میں حکمران اپنی خلقت سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سفاکی مطلق العنانی جبر قہر روکنے کیلئے دانشوروں نےآئین سازی کی رسم متعارف کروائی۔ نمائندگی کیلئے اسمبلیاں قائم کی گئیں۔ انصاف کیلئےعدالتیں ۔ پھر اقوام متحدہ وجود میں لائی گئی جسکی بنیادی پہچان ہی بندہ پروری تھی۔ خود اقوام متحدہ، اس کی جنرل اسمبلی، جہاں چھوٹے بڑے ملک برابر ہیں۔ پھر اس کے ادارے: عالمی ادارہ خوراک۔عالمی ادارہ صحت۔عالمی ادارہ برائے موسمیات۔عالمی ادارہ برائے مہاجرین ۔ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن۔ یونیسکو۔یونیسیف۔ عالمی عدالت اور ان سب اداروں کا مقصد یہ تھا کہ بڑی طاقتیں اپنی دولت اپنے اسلحہ اور وسائل کے زور پر چھوٹی قوموں پر سفاکی نہ کریں۔ لیکن ہو کیا رہا ہے 21 ویں صدی کو بیداری آگہی اطلاعات کی صدی کہا گیا ۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کا چرچہ ہوا لیکن یہ صدی تو چھوٹی قوموں کی ہلاکتوں کی صدی بن گئی ہے۔ 1948 میں مشرق وسطیٰ میں انبیاء کی سرزمین میں برطانیہ نے اسرائیل کا جو زہریلا پودا کاشت کیا۔ جسکی سرپرستی امریکہ کرتا آ رہا ہے۔ اس نے آس پاس کی مسلم ریاستوں کے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں جو سکیورٹی کونسل بنائی گئی وہاں پھر سفاکی کی روایات قائم کر دی گئیں۔ پانچ بڑے ملکوں کو سینکڑوں چھوٹے ملکوں کی رائے مسترد کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ فلسطین پر مظالم کے خلاف جتنی قراردادیں بھی آج تک پیش ہوئیں ان کو امریکہ نے ویٹو کر دیا سفاک جابروںکا انجام بھی تاریخ نے دیکھا ۔ بقول اقبال مآل سکندری کا مشاہدہ بھی زمانہ کر چکا ہے ۔ اپنے وطن کے جابر شہنشاہ ایران کو تدفین کیلئے بھی جگہ مشکل سے ملی تھی ۔ جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقا ایک دشت میں بکھر گئے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی کو کس طرح فرار ہونا پڑا ۔ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد کو کس طرح ہندوستان بھاگنا پڑا۔ صدر نکسن کا کیا حال ہوا ۔ شام کے بشارالاسدکس بے بسی میں وطن بدر ہوئے۔ بندہ پروری کرنے والے حکمرانوں ذوالفقار علی بھٹو، صدام حسین، معمر قدافی، شاہ فیصل کو بڑی طاقتوں نے کس طرح منظر سے ہٹانے کی کوشش کی مگر وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔آج کا الم ناک منظر بھی دنیا نے دیکھ لیا کہ ایران کے علاوہ دنیا میں اکثر حکمران اپنے لوگوں سے بہت دور ہیں ۔ حکمرانوں اور محکوموں کے درمیان خلا بڑھ رہا ہے اس خلا کو میزائلوں ڈرونوں اور آبدوزوں سے پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اللّٰہ تعالی کا نائب حضرت انسان بہت بے بسی کا شکار ہے۔ آہیں فلک پر جا رہی ہیں۔ رحمت ِالٰہی جوش میں آنے والی ہے۔ اللّٰہ کرے پاکستان اپنی اس نئی آزمائش سے سرخرو ہو کر نکلے۔